نو اکتوبر: افغانوں کی ساجھی کامیابی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے پہلے صدارتی انتخابات ہوگئے۔ تیئس امیدواروں نے کاغذات نامزدگی داخل کیے، پانچ مسترد ہوئے، اٹھارہ میدان میں رہ گئے۔ پولنگ سے اڑتالیس گھنٹے پہلے دو امیدوار صدر حامد کرزئی کے حق میں دستبردار ہوگئے۔ گویا نو اکتوبر کو سولہ امیدوار میدان میں تھے۔ اسی دن پندرہ امیدواروں نے انتخابات میں دھاندلیوں کا الزام لگا کر پولنگ ملتوی کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ لیکن دوسرے روز اقوام متحدہ اور افغان الیکشن کیمشن کے مشترکہ انتخابی ادارے جوائنٹ الیکٹورل منیجمنٹ باڈی یا جیمب نے ایک بین الاقوامی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیدی جس کے بعد بیشتر امیدواروں نے بائیکاٹ کا اعلان واپس لے لیا اور کہا کہ انکوائری کمیٹی کا فیصلہ انہیں قبول ہوگا۔ اگرچہ مجھ جیسے بہت سے سنکی انتخابی عمل کے بیشتر حصہ کو پہلے سے طے شدہ سمجھتے ہوں گے، اور یہ زیادہ غلط بھی نہیں۔ کیونکہ ذرائع ابلاغ میں کئی بار ایسی خبریں شائع ہوئی ہیں جن کے مطابق بین الاقوامی برادری کی بعض بااثر شخصیات نتائج کو عبوری صدر حامد کرزئی کے حق میں کرنے کے لیے کوشاں تھیں۔ یہاں تک کہ بعض امیدواروں نے بھی نجی محفلوں میں اس بات کا اظہار کیا کہ وہ محض پریکٹس کی نیت سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ورنہ انہیں کامیابی کی کوئی امید نہیں۔ انتخابات کے دو دن بعد ہی کی بات ہے کہ افغانستان کے لیے امریکی سفیر زلمے خلیل زاد اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ژان آرنو کو کرزئی کے سب سے مضبوط سمجھنے جانے والے حریف محمد یونس قانونی کے گھر پر دیکھا گیا۔ ان کے جانے تک صحافیوں کو قانونی سے ملاقات کے لیے انتظار کرنا پڑا۔ اس کے بعد قانونی نے صحافیوں کو بتایا کہ انہیں تحقیقاتی کمیٹی کا فیصلہ قبول ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق اس سے ایک روز قبل خلیل زاد کو شیعہ ہزارہ رہنما محمد محقق کے یہاں بھی دیکھا گیا تھا۔
سب کچھ طے شدہ سہی مگر میری نظر میں دو باتیں ایسی ہیں جن پر کسی کو قدرت حاصل نہیں۔ ایک تو لاکھوں کی تعداد میں افغان عوام کا پولنگ سٹیشنز پر اکھٹا ہونا، حالانکہ طالبان کھلی دھمکی دے چکے تھے کہ وہ انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے سب کچھ کریں گے۔ دوسری بات طالبان کا کوئی بڑی کارروائی نہ کر سکنا۔ جہاں تک کہ پہلی بات کا تعلق ہے، تمام ذرائع اس بات پر متقفق ہیں کہ افغان عوام نے توقع سے زیادہ ووٹ ڈالے۔ پولنگ کے دن میری جن ووٹرز سے بات ہوئی اس کا خلاصہ یہ تھا کہ وہ انتخابات میں اپنا بہتر مستقبل دیکھ رہے ہیں۔ جب میں نے ان پوچھا کہ انہیں کوئی خوف نہیں تو بیشتر کا کہنا تھا کہ وہ اس سے پہلے بھی اپنے وطن کے لیے بُلٹ (گولی) سے قربانیاں دیتے آئے ہیں آج اگر بیلٹ (رائے دہی) میں ان کی جان چلی جائے تو پرواہ نہیں۔ یہاں آنے والی حکومت اور بین الاقوامی برادری کے لیے ایک پوشیدہ خطرہ موجود ہے اور وہ یہ کہ یہ انتخابات افغان عوام کو اس بات پر آمادہ کر گئے ہیں کہ وہ آنے والی حکومت سے بڑی توقعات وابستہ کر لیں۔ اگر ان کی توقعات پوری نہ ہوئیں تو بڑی خرابی کا خدشہ ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے بھی روسی فوج کے جانے کے بعد عالمی برداری افغانوں کو بھول گئی تھی اور اس کے بعد مجاہدین دھڑوں نے جو اندھیر مچایا وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ دنیا کی توجہ افغانستان کی طرف پھر سے مبذول کروانے کا سہرا بہرحال طالبان اور اسامہ کے سر ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ نہ تو طالبان کی دھمکیاں کارگر ثابت نہیں ہوئیں اور نہ ہی وہ عملی طور پر کوئی بڑی پرتشدد کارروائی کر سکے۔ اس وقت یہ کہنا مشکل ہے کہ طالبان کسی بڑی کارروائی کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے یا پھر انہوں نے اس لیے اس سے گریز کیا کہ اس میں افغان عوام کی ہلاکت کا خدشہ تھا۔ حکومت اور طالبان مخالفین ان پر عام لوگوں کو مارنے کا الزام لگاتے رہے ہیں جبکہ طالبان کہتے ہیں کہ ان کا ہدف صرف غیرملکی فوج، شہری، سرکاری ملازمین اور ان کی مدد کرنے والے ہیں۔ طالبان اور سابق مجاہدین جنگجو یہ دعوٰی کرتے آئے ہیں کہ بہت سے افغان عوام کی حمایت انہیں حاصل ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر ان انتخابات کے ذریعے افغان عوام نے طالبان قیادت اور جنگجوؤں کو ایک بہت واضح پیغام دیدیا ہے۔ اور وہ یہ کہ: ’گولی لاٹھی کی سرکار نہیں چلے گی، نادرشاہی نہیں چلے گی‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||