واہ میرے ہلاکو! | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کہتے ہیں کہ ہلاکو خان سے کسی نے پوچھا کہ تم نے کبھی کسی پر ترس کھایا ہے۔ تو اس نے جواب میں یہ واقعہ سنایا کہ ایک بار وہ اپنے گھوڑے پر کہیں جا رہا تھا کہ اس نے دیکھا کہ ایک عورت کا بچہ نہر میں گر گیا ہے۔ ہلاکو خان نے ترس کھا کر بچے کو اپنے نیزے کی انّی پر اٹھایا اور عورت کی طرف اچھال دیا۔ اس طرح ہلاکو نے اپنے تئیں بچے کو ڈوبنے سے بچا لیا!! مجھے یہ روایت اس تصویر کو دیکھ کر یاد آئی جو اس عبارت کے اوپر بائیں جانب لگی ہوئی ہے۔ میں نہیں جانتا کہ سر پر ہاتھ رکھے ہوئے یہ بچہ کون ہے۔ اب زندہ بھی ہے یا نہیں! کیونکہ روس کے جس سکول کا یہ منظر ہے وہاں گزشتہ جمعہ کو خون کی ایسی ہولی کھیلی گئی جس نے بربریت کے تمام واقعات کو شرما دیا۔ اس سکول میں سینکڑوں بچوں اور ان کے سرپرستوں کو بدھ کے روز یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ اور پھر جمعہ کو فائرنگ اور دھماکے ہوئے، آگ لگی، چھت گری اور تین سو پینتیس بھوکے پیاسے یرغمالیوں کو نہ پانی کی حاجت رہی اور نہ روٹی۔ اس آٹھ نو سالہ بچے کے چہرے پر سے میری نظریں نہیں ہٹتیں۔ وہ ان بہتّر گھنٹوں میں کس عذاب سے گزرا ہوگا۔ پتہ نہیں اسے کے امی ابو اس کے ساتھ تھے یا وہ عمارت کے باہر اس سے زیادہ دردناک عذاب سے گزر رہے تھے؟!
یہ بچہ جس حالت میں اپنے دونوں ہاتھ سر پر رکھے بیٹھا ہے میں اس کیفیت سے ہوسٹائل اینوائرنمنٹ کی ٹریننگ کے دوران کوئی تیس منٹ کے لیے گزرا ہوں۔ (یہ ٹریننگ، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، ان لوگوں کو دی جاتی ہے جنہیں اپنی ڈیوٹی کے لیے ایسے علاقوں میں جانا پڑے جہاں سکیورٹی کا مسئلہ ہو۔ ٹریننگ کے دوران اغوا کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے اور فرضی اذیت سے گزارا جاتا ہے۔) آپ یقین جانیں کے ہمیں شاید دس یا پندرہ منٹ تک اسی طرح سر پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کو کہا گیا تھا لیکن ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے وقت ُرک گیا ہو۔ کئی بار تو میرے جی میں آیا کہ میں اٹھ کر بھاگ جاؤں اور کہوں کہ مجھے نہیں کرنی یہ ٹریننگ۔ خدا جانے اس بچے کو کتنی دیر تک اس طرح سے بیٹھنے پر مجبور کیا گیا ہوگا۔ اس عرصے میں وہ کس ذہنی کرب سے گزرا ہوگا۔ پتہ نہیں وہ اپنے اردگرد کی صورتحال کو سمجھ بھی پایا ہو، کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، کیوں ہو رہا ہے اور کیا ہونے والا ہے! اس سانحے کے بعد روسی ٹیلی ویژن پر ایک شخص کو دکھایا گیا جو بقول روسی حکام یرغمال کندگان میں سے ایک تھا۔ وہ شخص چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ اس نے کسی بچے پر گولی نہیں چلائی۔ واہ میرے ہلاکو!۔ میرے خیال میں اگر وہ ان لوگوں کو یرغمال بنانے والوں میں شامل تھا تو چاہے اس نے چڑیا کا بچہ بھی نہ مارا ہو، وہ ایک ایسے جرم کا مرتکب ہوا ہے جس کی سزا جتنی بھی ہو کم ہے۔ دنیا میں جتنی بھی تحریکیں چل رہی ہیں، چاہے وہ نظریاتی ہوں یا قومی آزادی کی، کسی طرح سے یہ جواز فراہم نہیں کرتیں کہ بے گناہ لوگوں کو اذیت دی جائے، انہیں مارا جائے۔ اور اگر اُس تحریک کے لیے کام کرنے والے ایسے ہتھکنڈوں پر اتر آئیں تو پھر تحریک اپنا اخلاقی جواز اور حمایت کھو دیتی ہے۔ ریاستی جبر کے خلاف چلنے والی تحریک میں ریاست کے شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا۔ بلکہ اگر تشدد پر مجبور ہونا پڑ ہی جائے تو حکام اور ذمہ دار لوگ ہی اس کی زد میں لائے جاتے ہیں۔ یہ دلیل پیش کی جا سکتی ہے کہ روس نے چیچنیا میں بے گناہ لوگوں کو مارا، امریکہ نے جاپان پر ایٹم بم گرائے، ویتنام پر نیپام بم برسائے، افغانستان اور عراق میں بچوں سمیت عام شہریوں کو ہلاک کر رہا ہے، برطانوی فوج کے جنرل ڈائر نے جلیانوالہ باغ میں معصول ہندوستانیوں پر گولیاں چلاوائیں۔۔۔۔ اصل میں ریاستی جبر کے خلاف تحریکوں کو یہ بات اخلاقی جواز اور عوامی حمایت فراہم کرتی ہے۔ اور یہ ہی دونوں چیزیں تحریک کو زندہ رکھتی ہیں۔ مگر جب تحریکیں جبر پر اتر آئیں تو نہ اخلاقی جواز رہتا ہے اور نہ عوامی حمایت۔ سانحہ بیسلان کے تمام حقائق سامنے نہیں آئے ہیں اور روسی صدر کے واقعہ کی پبلک انکوائری سے انکار کے بعد شاید حقائق کبھی بھی سامنے نہ آ سکیں۔ اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ اس سانحہ کی زیادہ ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے، روسی سکیورٹی فورسز پر یا چیچن باغیوں پر۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ سکول میں بچوں کو یرغمال بنالینا ہر لحاظ سے قابل نفرت اور مذمت فعل تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||