دنیا کے قدیم دیوقامت درخت مر کیوں رہے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, جم رابنز
- عہدہ, مصنف و محقق
سنہ 2005 میں شمالی امریکہ کی ریاست مونٹانا کے ’راکی ماؤنٹینز‘ نامی خطے میں میرے ذاتی 15 ایکڑ پر محیط جنگل پر کئی صدیوں پرانے صنوبر کے درخت اچانک سوکھ گئے۔
مجھے جلد ہی پتا چل گیا کہ انھیں بیٹل لگ گئی تھی۔ بیٹل ایک مخصوص قسم کا مہلک کیڑا ہے جس کا سائز پنسل کے کونے پر لگی ربڑ کے برابر ہوتا ہے اور یہ کیڑا درخت کے سوراخوں میں رہتا ہے۔
اگلے سال سوکھنے والے درختوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ جب میں نے اپنے چاروں طرف ان اونچے فلک بوس درختوں کو مرتے دیکھا اور ان کے بچاؤ کے لیے کچھ نہ کر سکا تو خود کو بہت بے بس اور غمگین محسوس کیا۔
اگرچہ ان درختوں کی موت کا فوری سبب تو یہ مقامی کیڑا تھا مگر اس کا اصل سبب اس خطے میں سردی کی شدت میں آنے والی کمی تھی۔
جب میں پہلی بار 1970 کی دہائی کے آخر میں مونٹانا منتقل ہوا تھا تو سردیوں میں بعض اوقات ایک وقت میں ہفتوں تک منفی 34 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس اسے بھی کم درجہ حرارت عام بات ہوتی تھی۔ مونٹانا کا ریکارڈ سرد ترین درجہ حرارت منفی 57 سینٹی گریڈ ہے۔
اب سردیوں میں کم سے کم درجہ حرارت شاذ و نادر ہی منفی 18 یا اس سے کم ہوتا ہے۔ اگر درجہ حرارت اس سے کم ہوتا ہے تو یہ عام طور پر صرف ایک یا دو دن کے لیے ہوتا ہے۔ یہ درجہ حرارت اتنا ٹھنڈا نہیں ہوتا کہ صنوبر کو نقصان پہنچانے والی بیٹل کو ہلاک کر سکے کیونکہ یہ کیڑا قدرتی طور پر ایسا کیمیکل بناتا ہے جو مانع انجماد (اینٹی فریز) ہوتا ہے یعنی اسے جم جانے سے روکتا ہے۔
تین سال کے اندر میرے جنگل کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ مر گیا۔ ہم نے درختوں کو کاٹنے کے لیے لکڑہاروں کی خدمات حاصل کیں اور انھیں ایک فیکٹری میں لے جایا گیا، جہاں انھیں گودا بنا کر گتے میں تبدیل کر دیا گیا لیکن ایسی تباہی صرف ہمارے یہاں ہی نہیں ہوئی تھی۔
پورے مغربی شمالی امریکہ میں درخت مر رہے تھے۔ کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں سنہ 2006 اور سنہ 2007 میں پختہ عمر کے صنوبر کے درختوں کا 80 فیصد ذخیرہ ضائع ہو گیا تھا اور کاربن کے منبع میں بدل گیا۔ پورے مغرب میں درخت مرتے رہے ہیں۔ چند سال پہلے کیلیفورنیا میں بارہ کروڑ نوے لاکھ درخت مر گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اپنے جنگل کو مرتے ہوئے دیکھنے کے تجربے نے مجھ میں مونٹانا اور عالمی سطح پر درختوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اس کے بارے میں جاننے کے لیے ایک نئی دلچسپی پیدا کی۔ میں نے درختوں اور جنگلات کی زندگیوں اور اموات کے بارے میں اب دو دہائیوں پر محیط تحقیق شروع کی۔
درخت ہمارے پانی کو صاف کرتے ہیں، ہماری آب و ہوا پر اثر انداز ہوتے ہیں، عمارتی لکڑی فراہم کرتے ہیں اور ہمارے لیے خوراک اور بہت سے جانوروں کو جنھیں ہم کھاتے ہیں ان کی خوراک کا ذریعہ ہوتے ہیں مگر ہم اپنی دنیا میں ان کے کردار کے بارے میں حیران کن طور پر بہت کم علم رکھتے ہیں۔
ہمارے پاس درختوں کی جینیات کے بارے میں بھی معلومات کی کمی ہے، خاص طور پر کئی صدیوں سے لکڑی کے لیے عملی طور پر سب سے بڑے، سب سے مضبوط درختوں کو کاٹنے کے جینیاتی معلومات کے ذخیرے (جین پول) پر اثرات کے بارے معلومات تو نہ ہونے کے برابر ہیں اور ہم بنیادی طور پر اس بارے میں بھی کوئی علم نہیں رکھتے کہ وہ درخت جو بچ گئے ہیں وہ ایک گرم اور خشک دنیا میں کیسے زندہ رہیں گے۔
تاہم گزشتہ چند سال میں سائنسدانوں نے قدیم درختوں کی جینیات کی اہمیت کو دریافت کرنا شروع کر دیا ہے۔ بڑھتے ہوئے شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نئی معلومات زمین کے جنگلات کے مستقبل میں ایک اہم کردار ادا کریں گی۔
یہ تحقیق درختوں کے شوقین افراد کے ایک گروپ کی کوششوں سے ان میں سے سب سے بڑے درختوں کی جینیات کی کلوننگ (نقل) کر کے ان کے قدیم ڈی این اے کو محفوظ بناتی ہے۔ اس کلوننگ کو ’زندہ لائبریریاں‘ کہا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کریگ ڈی ایلن نے اپنے پیشے کا بیشتر حصہ جنگل کی موت کی تحقیق پر صرف کیا ہے۔ کلائمیٹ چینج سے درخت کیسے مر رہے ہیں یہ سمجھنے کی خواہش کی وجہ سے انھیں ’ٹری کورونر‘ (درختوں کی غیر طبعی موت کی تحقیق کرنے والا) کہا جاتا ہے۔
حال ہی میں یو ایس جیولوجیکل سروے سے ریٹائر ہونے کے باوجود، وہ اب دنیا کے جنگلات کے بحران پر تحقیق کرنے اور نیو میکسیکو یونیورسٹی میں ماحولیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر کے طور پر کام کرنے میں پہلے سے زیادہ مصروف ہیں۔
اب سے برسوں پہلے میں نے ان کے ساتھ سانتا فے کے آس پاس کے پُرسکون خطے میں مرتے ہوئے ’پنیون پائن‘ (صنوبر کی ایک خاص قسم) کے جنگلات میں مرجھائے ہوئے اور خشک درختوں پر تحقیقات کی تھی، جو طویل خشک سالی اور گرمی کی وجہ سے تباہ ہو گئے تھے۔ جب میں حال ہی میں ان سے دوبارہ ملا تو انھوں نے مجھے بتایا کہ عالمی سطح پر جنگلات کے خاتمے میں تیزی آرہی ہے۔
ایلن محققین کے ایک چھوٹے سے گروپ میں سے ایک ہیں، جو پوری توجہ سے اس سوال کا جواب تلاش کر رہا ہے کہ آب و ہوا میں تبدیلی عالمی سطح پر قدیم جنگلات پر کونسے اثرات مرتب کر رہی ہے: ایسے جنگلات جو کم سے کم کئی صدیوں پرانے ہیں، جنھیں ہم جانتے ہیں اور اُنھیں پسند کرتے ہیں۔
یہ ایک پیچیدہ موضوع ہے لیکن ایلن پچھلی دہائی میں شائع ہونے والے تحقیقی نتائج کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو ان کے نزدیک ان ماحولی نظاموں (اِیکو سسٹمز) پر گرم سیارے کے شدید اثرات کا کی ایک تصویر پیش کرتے ہیں۔
ان میں سے پہلے مقالے میں، سنہ 2012 کا ایک مقالہ جو ایلن کے تعاون سے لکھا گیا تھا، درختوں کے ذخیرے کے اعداد و شمار، آب و ہوا کے ریکارڈ اور امریکہ کے جنوب مغرب میں مستقبل کے موسمیاتی تخمینے کو ایک جگہ جمع کیا گیا تھا۔
انھوں نے یہ دریافت کیا کہ کلائمیٹ چینج کی وجہ سے مستقبل میں بڑے پیمانے پر ہونے والی خشک سالیوں کے خطے کے جنگلات پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ مسئلے کی جڑ یہ ہے کہ جب ہوا کا درجہ حرارت بتدریج بڑھتا ہے تو قدرتی ماحول کی پانی روک لینے کی صلاحیت تیزی سے بڑھ جاتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ماحول ایک خطرناک رفتار سے پانی روک کر اس کی قلت میں اضافہ کر رہا ہے اور یہ خشک سالی مٹی، درختوں اور دیگر پودوں کو پانی کی مقدار سے محروم کر رہی ہے۔
آسٹریلیا کی ایک تحقیقی ٹیم کے ذریعہ سنہ 2012 میں شائع ہونے والی دوسری تحقیق میں پانی کے بہاؤ کے دباؤ کے بارے میں ڈیٹا اکٹھا کیا گیا، یعنی درختوں کی سینکڑوں اقسام میں وہ شریانیں جن کے ذریعے پانی اُن کے اندر جڑوں سے چوٹی تک پہنچتا ہے، اس کے بارے میں ڈیٹا۔
اس تحقیق کے ذریعے پتا چلا کہ گرم خشک سالی بہت تیزی سے جنگلات کو خشک کر رہی ہے اور بہت سی جگہوں پر درخت مزید پانی کے اوپر کی جانب بہاؤ کے دباؤ کو برقرار نہیں رکھ سکتے، جس کی وجہ سے ’امبولزم‘ (درخت کے سوتوں یا شریانوں میں پانی کا خشک ہونا) جیسی بیماری پیدا ہوتی ہے۔
تیسری بات یہ کہ سنہ 2015 کی ایک تحقیق ہے جو دنیا بھر میں خشک سالی کی وجہ سے درختوں کے مستقبل کے لیے سنگین خطرے کی نشاندہی کرتی ہے۔
ایلن نے مجھے بتایا کہ ’یہ (تحقیق) کہتی ہے کہ ایریزونا اور الجیریا سے لے کر البرٹا اور ارجنٹائن تک، مرطوب اور خشک، گرمی اور خشک سالی کے واقعات سے، جنگل کی ہر بڑی قسم تاریخی طور پر غیر معمولی طریقے سے مر رہی ہے۔‘
سب سے اہم بات یہ ہے کہ گرم خشک سالی، جو زیادہ بار بار اور گرم تر ہوتی جارہی ہے، درختوں کی ہلاکت کا سبب بن رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہEthan Swope
یہ بھی پڑھیے
ایلن اور یونیورسٹی آف فلوریڈا میں ایکوفزیالوجسٹ اور گلوبل چینج ایکولاجسٹ ویلیم ہیمنڈ کا کہنا ہے کہ چونکہ گرم ہونے والا ماحول زیادہ بارش برسنے کے عمل کو روک سکتا ہے، خاص طور پر ایسے خطوں میں جو گرم اور مرطوب دونوں ہیں، اِس کی وجہ سے کچھ جنگلات پہلے سے کہیں زیادہ بہتر نشو نما بھی پا رہے ہیں لیکن جہاں گرم خشک سالی ہے وہاں مرنے والے درختوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
ایلن کہتے ہیں کہ ’انتہائی واقعات درختوں کو ہلاک کر دیتے ہیں اور بدتر ادوار مزید بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔‘
گزشتہ موسم گرما میں برٹش کولمبیا میں درجہِ حرارت کے 49 سیلسیس تک پہنچنے جیسے بے مثال انتہائی واقعات دیکھے جا رہے ہیں۔
اس بدلتی ہوئی دنیا میں سب سے زیادہ خطرے میں قدیم درخت ہیں، جن میں سے اکثر 200 فٹ یہاں تک کہ بعض 300 فٹ اونچے درخت بھی شامل ہیں۔
ہیمنڈ کہتے ہیں کہ ’بڑے پرانے درختوں کے خطرے میں ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان کو زندہ رکھنے کی قیمت بہت زیادہ ہے، ان کے لیے بہت زیادہ خرچا کرنا پڑتا ہے۔‘
وہ خشک سالی کی وجہ سے مر سکتے ہیں، یا اس قدر کمزور ہو سکتے ہیں کہ وہ کیڑوں، بیماری یا آگ کا شکار ہو جائیں۔
بار بار خشک سالی کا مطلب یہ بھی ہے کہ درختوں کو صحت یاب ہونے کے لیے کم وقت ملتا ہے۔
سانتا باربرا کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی اسسٹنٹ پروفیسر اینا ٹرگمین کا کہنا ہے کہ ’جب خشک سالی ختم ہو جائے اور درختوں کو دوبارہ اچھی طرح سے پانی دیا جائے تو ان کے پاس اپنے کچھ تباہ شدہ اعضا کو دوبارہ اگانے اور بحال کرنے کا موقع ملتا ہے لیکن اگر آپ کو بار بار خشک سالی ملتی ہے تو اس کے نتیجے میں بحالی کے طویل مدتی عمل میں کمی واقع ہو سکتی ہے کیونکہ وہ ٹھیک نہیں ہو پاتے (کہ خشک سالی پھر سے آجاتی ہے)۔'
قدیم درخت آب و ہوا میں تبدیلی کا آسان نشانہ ہیں
یہ ایک مسئلہ ہے کیونکہ یہ نہ صرف بڑے، پرانے اور خوف زدہ ہیں بلکہ وہ کاربن کو ذخیرہ کرنے کے لیے بھی اہم ہیں تاکہ دنیا کو تیزی سے گرم ہونے سے روکا جا سکے۔ ایک جنگل کے بڑے بڑے درختوں کا ایک فیصد ذخیرہ جنگل کی کل کاربن کے 50 فیصد کو قابو میں رکھتا ہے۔
درختوں کا یہ خوفناک مستقبل ایسے حالات میں درپیش ہے جب ان کے بارے میں ہم ابھی بنیادی چیزیں سیکھ رہے ہیں۔
یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کی ایک ماہر ماحولیات سوزین سمارڈ نے اپنی تحقیق کے ذریعے معلوم کیا کہ درختوں کے درمیان خاندانی تعلقات ہیں اور وہ اپنی جڑوں اور فنگس کے ذریعے ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہیں اور وسائل کو ادھر ادھر منتقل کرتے ہیں۔
مصنف اور محقق ڈیانا بیرسفورڈ کروگر نے دلیل دی ہے کہ درختوں سے جو وافر مقدار میں بخارات (ایروسول) خارج ہوتے ہیں، بشمول انسانوں کے، سب کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
ہیمنڈ اور ایلن نے دنیا کے سب سے بڑے درختوں اور تاریخی جنگلات کے بڑے پیمانے پر مرنے کی پیش گوئی کی ہے اور تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ جزوی طور پر نئے گرم اور خشک حالات کی وجہ سے آج کے جدید ترین جنگلات تاریخی جنگلات سے بہت مختلف ہیں۔
ہیمنڈ نے کہا کہ ’جنگل چھوٹے ہو رہے ہیں، وہ جوان ہو رہے ہیں اور غالب نسلیں بدل رہی ہیں۔ درخت برقرار رہیں گے۔ وہ ہمارے ساتھ طویل عرصے تک رہیں گے لیکن وہ بدلنے والے ہیں۔‘
تو ایسی صورت میں کیا کِیا جا سکتا ہے؟ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کم کر کے درجہ حرارت کو کم کرنا اس وقت ان اقدامات کی فہرست میں سب سے اوپر ہے جن سے ماحول کو محفوظ کیا جا سکتا ہے لیکن اس سے کئی دہائیوں تک کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔
کچھ جگہوں پر جنگلات کو میکانی طریقے سے تخفیف کرنے یا تجویز کردہ کنٹرولڈ آگ کے طریقے سے انھیں سیراب کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ کچھ جنگلات میں فی ایکڑ 800 سے 1000 درخت ہوتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ ان کے درمیان پانی کے لیے سخت مقابلہ ہو گا۔
ایک صحت مند جنگل میں درختوں کی تعداد اس کا دسواں حصہ ہونی چاہیے۔ کچھ امریکی دیودار درختوں کو اس طرح سیراب کرنے پر غور کیا جا رہا ہے اور پھر ابھی تک اِن بچ جانے والے قدیم درختوں میں سے سب سے بڑے بڑے درختوں کی جینیات کو نقل کرنے کی ایک دیوہیکل کوشش کی جا رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
1990 کی دہائی میں مشیگن میں ایک باپ اور بیٹے کی ٹیم نے امریکہ میں ہر نوع کے سب سے بڑے درختوں کی ہمسان سازی (کلون بنانے) کا منصوبہ بنایا۔ یہ ’چیمپیئن ٹری پروجیکٹ‘ کہلانے والی ایک گھریلو سکیم تھی۔
ڈیوڈ میلارچ چوتھی نسل کے کسان ہیں جو سایہ دار درختوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ انھوں نے نیشنل رجسٹر آف بگ ٹریز میں ہر نوع کے سب سے بڑے درخت کو دیکھا، یہ فہرست ’امیریکن فارسٹ‘ نے تیار کی ہوئی ہے، جو کہ واشنگٹن ڈی سی میں ایک رفاہی ادارہ ہے۔
وہ اور ان کا بیٹا جیرڈ ’چیمپیئن ٹری‘ جاتے ہیں اور درخت کے مالک سے پوچھتے کہ کیا وہ اس کا کچھ حصہ کاٹ سکتے ہیں۔
وہ اپنے پک اپ ٹرک کے پچھلے حصے سے سیڑھی اتاریں گے اور جیرڈ درخت پر چڑھ کر چند چھوٹی شاخیں کاٹیں گے۔ ان کی نقلیں اگانے کے لیے ان کاٹی ہوئی شاخوں کو نرسری میں بھیج دیا جاتا ہے۔ پھر میلارچ اور ان کا بیٹا ہمسان سازوں یا کلون کو مختلف جگہوں،مثلاً قبرستانوں یا پارکوں، میں لگائیں گے جسے میلارچ ایک ’زندہ آرکائیو لائبریری‘ کہتے ہیں۔
خیال یہ تھا کہ دنیا بھر میں اگر اصل درخت مر جاتا ہے تو 800، 2000 یا 5000 سال پرانے درختوں کی جینیات کو محفوظ رکھا جائے۔
یہ بھی پڑھیے
جب میں نے سنہ 2001 میں اس سکیم کے بارے میں اطلاع دی تو میلارچ نے مجھے بتایا تھا کہ ’بڑے درختوں کی جینیات غائب ہو رہی ہیں۔ کسی کو تو ان کا کلون کرنا اور ریکارڈ رکھنا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ ان کا کیا مطلب ہے۔‘
میلارچ کا پروجیکٹ بنیادی طور پر امریکہ کے قدیم ترین، مشہور ترین درختوں پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اب سے دو دہائیاں پہلے میں نے دیکھا کہ ان کی ٹیم دنیا کے سب سے بڑے درختوں پر چڑھ رہی ہے تاکہ وہ اونچی جگہ سے چھوٹی چھوٹی شاخیں کاٹ سکیں، جو کلوننگ کے لیے بہترین مواد ثابت ہوتی ہیں۔
ان میں چوب قرمز نوع کا شاندار آبشار کی شکل والا درخت، وسطی کیلیفورنیا میں ایک نجی ملکیتی جنگل میں ایک امریکی دیودار، سرخی مائل نارنجی چھال والے دیو ہیکل درخت، جن کے سامنے انسان محض ایک چھوٹی سی مخلوق لگتا ہے۔
ان میں ایک کی ایک تصویر میری کتاب کا سرورق بن گئی، جس میں سایہ دار اور دنیا کے سب سے بڑے درختوں کی کلوننگ اور انھیں پوری دنیا میں لگانے کی شاندار کوششوں کی کہانی بیان کی گئی۔
میں دوسری چیزوں پر چلا گیا لیکن سنہ 2021 کے موسم گرما میں میلارچ کے ساتھ میرا دو دہائیوں پرانا تجربہ تیزی سے واپس آیا۔ کیلیفورنیا کے مشہور دیودار کے جنگل میں لگی آگ نے اس کا پانچواں حصہ ختم کر دیا۔ ان میں سے ایک آبشار نما چوب قرمز کا درخت تھا، یہ جل کر کوئلہ ہو گیا تھا۔
طویل عرصے سے ان درختوں کے بارے میں سوچا جاتا تھا کہ انھیں کوئی تباہ یا ختم نہیں کر سکتا لیکن یہ درخت حالیہ برسوں میں ایک بڑھتی ہوئی تعداد میں مر رہے ہیں۔
سیکوئیا اور کنگز کینین نیشنل پارکس کے وسائل کی منتظم اور شعبہ سائنس کی سربراہ کرسٹی برگھم کہتی ہیں کہ ’ہم اب جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ جنگل کی آگ بڑی تعداد میں بڑے بڑے دیودار درختوں کو جلانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ آگ پر قابو پانے کی 100 سالہ تاریخ ہے لیکن کلائمیٹ چینج سے چلنے والی گرم خشک سالی درختوں کی ہلاکت کے اس رجحان کو مزید خراب کر رہی ہے۔‘
دیوہیکل دیودار درختوں کی جینیات کا غائب ہونا بھی تشویش کا باعث ہے۔ برگھم کہتی ہیں کہ ’ہمیں نہیں معلوم کہ ہم نے کیا کھو دیا لیکن ہم ایک ایسی نوع کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو پہلے ہی جینیاتی رکاوٹ سے گزر چکی ہے اور صرف 78 درختوں میں پائی جاتی ہے۔ اب ہمارے پاس جنگل کی آگ ہے جس نے بالغ درختوں کی 19 فیصد آبادی کو جلا دیا ہے۔ ایک باغ میں، 80 فیصد درخت معدوم ہو گئے۔‘
میلارچ کی تنظیم جسے اب ’آرچ اینجل اینشینٹ ٹری آرکائیو‘ کہا جاتا ہے، اب بھی درختوں کی کلوننگ کر رہی ہے اور وہ یہی کام کرنے کے لیے اب کیلیفورنیا جا رہے ہیں اور امید ہے کہ امریکی دیودار درختوں کا ایک ’گمشدہ‘ جنگل جس کے بارے میں میلارچ کا خیال ہے کہ یہ کلوننگ کا اپنے سائز کا نیا ریکارڈ قائم کر سکتا ہے۔
وہ پرانی انواع کے باغات بھی لگا رہے ہیں۔ انھوں نے نے مجھے حال ہی میں فوج کے ایک سابق اڈے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا جو اس کے بعد سے ایک پارک بن گیا ہے کہ ’ہم نے پریسڈیو میں پرانے بڑھنے والے درختوں سے کلون کیے گئے چوب قرمز (ریڈ ووڈ) کے 75 پودے لگائے اور ہم نے ایک امدادی منصوبے کے تحت پوجٹ ساؤنڈ کے علاقے میں 41 شہروں میں امریکی دیودار کے درخت لگائے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہEthan Swope
’آرچ اینجل اینشینٹ ٹری آرکائیو‘ کا فلسفہ یہ ہے کہ اگرچہ یہ 2,000 سال پرانے درخت ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت نہیں کر سکتے ہیں لیکن ان کی جینیات کر سکتی ہیں جبکہ ان کی کلوننگ اور نیا جنگل بنانے کے لیے پودے لگانے سے درختوں کی بچت ہی نہیں ہوتی بلکہ یہ ان کی پرانی نشوونما کو برقرار رکھتی ہے۔
موسم خزاں سنہ 2021 میں اس تنظیم نے، جو اپنے گرین ہاؤس میں کلون شدہ درخت اگاتی ہے، آبشار نما چوب قرمز کے درخت اور دیگر پودے بھی اس جگہ پر لگائے جہاں اس موسم گرما کی آگ سے جنگلات تباہ ہو گئے تھے اور ساتھ ہی مزید شمال میں جہاں آب و ہوا گرم ہے مستقبل میں امریکی دیودار کے لیے ماحول زیادہ سازگار ہو سکتا ہے۔
میلارچ کا کہنا ہے کہ ’ایک 2,000 سال پرانا درخت بقا کے بارے میں ایک یا دو چیزیں جانتا ہے۔‘
پرانے درختوں کی جینیاتی نمو کی ممکنہ اہمیت نے موسیقار اور میوزک پروڈیوسر ٹموتھی سمِٹ کو برطانیہ کے ایک شہر کارن وال میں اپنے ایڈن پروجیکٹ میں ’آرچ اینجل اینشینٹ ٹری آرکائیو‘ کے دیودار درختوں کے ذخیرے سے 49 کلون شدہ درخت اگانے کی ترغیب دی، جس میں دنیا بھر سے پودوں کی ہزاروں اقسام موجود ہیں۔
’وہ تین فٹ لمبے پودوں کے طور پر زمین کے اندر پیوست کیے گئے تھے اور اب وہ 15 فٹ اونچے ہو چکے ہیں۔‘ انھوں نے حال ہی میں مجھے بتایا کہ ’(وہ) سب بچ گئے اور بڑھ رہے ہیں۔‘
صرف اپنے یقین کے بھروسے پر کلوننگ کے تجربے کے آغاز کے دو دہائیوں کے بعد، اس سال شائع ہونے والی ایک تحقیق نے پرانے درختوں کے جینیاتی تحفظ کے بارے میں میلارچ کے نقطہ نظر کی توثیق کی ہے۔
انھوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پرانے اور قدیم درخت جینیاتی تنوع میں یکسر اضافہ کرتے ہیں اور اس طرح ارد گرد کے جنگل کی طویل المدتی لچک اور اس کی موافقت کی صلاحیت میں اپنا حصہ بھی ڈالتے ہیں۔
ایک تحقیق کے شریک مصنف اور مورٹن آربورٹم سینٹر فار ٹری سائنس، ایلینوئے کے ڈائریکٹر چک کینن کہتے ہیں کہ ’یہ قدیم درخت ان درختوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو نئی سے نئی شکلوں میں دوبارہ قائم اور زندہ رہیں۔ ان میں موجود جینیات کا خاص امتزاج درمیانی صدیوں کے فاصلے کو ختم کر سکتا ہے۔‘
کینن کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود، پرانے درختوں کی جینیات پر بہت کم تحقیق کی گئی ہے کیونکہ پرانے درخت نایاب ہیں اور ان کی شناخت کرنا مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سوچتے ہیں کہ آرچ اینجل اینشینٹ ٹری آرکائیو کی پرانے بڑھنے والے درختوں کی کلوننگ بہت اہمیت رکھتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اس جاندار مواد کو فروغ دینے کے فن کو سیکھنا بہت قیمتی ہو سکتا ہے تاکہ ہم ان درختوں کی طرف سے دکھائے جانے والے انوکھے جینیاتی امتزاج سے محروم نہ ہوں۔‘
بنیادی طور پر پرانے درختوں کے مواد کے اس ذخیرے کو بنانے سے دوسرے جنگلات کو ان کے جینیاتی تنوع اور صلاحیت کو بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے تاکہ یہ ہماری تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال سکیں۔
اِن دنوں جب میں اپنے جنگل سے گزرتا ہوں تو یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ میرے لگائے ہوئے دیودار کے درختوں کی اولادیں خود ہی واپس آ رہی ہیں۔ پرانے درختوں کا، جو کبھی یہاں کھڑے تھے، کوئی نعم البدل نہیں لیکن دنیا کے اس حصے میں پہاڑی جنگلات کو اب ہم کم سے کم بے آباد ہونے سے بچا رہے ہیں۔
لیکن جنگلات اور درخت ایسے وجود ہیں جنھیں ہم حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے ہیں۔ ان کا وجود تیزی سے معدوم ہوتا جا رہا ہے اور اگر ایسا ہوا تو اس نقصان کا کوئی حساب بھی نہیں لگا سکے گا۔
* جم رابنز کتاب ’دا مین ہو پلانٹڈ ٹری‘(The Man Who Planted Trees) کے مصنف ہیں۔











