ماحولیاتی تبدیلی، کوپ 26: پانی ذخیرہ کرنے کے وہ قدیم طریقے جو انڈیا کو بدترین خشک سالی سے بچا سکتے ہیں

انڈیا باؤلی پانی

،تصویر کا ذریعہMarc Guitard/Getty Images

    • مصنف, فِضہ تبسم اعظمی
    • عہدہ, بی بی سی فیوچر

بہت ہی شاندار اور خوبصورت بھول بھُلیّوں کے انداز میں ایک جیسے نمونے میں تراشے ہوئی کئی عدد زینے، جو سب کے سب نیچے کی جانب پانی کے قریب پہنچتے ہیں۔

پانی کے گرد تین اطراف سے آڑھے ترچھے انداز میں بنے یہ زینے اترتے ہیں، جبکہ اس تعمیر کا ایک حصہ خیمہ نما نقوش سے مزیّن ہے جس پر بہت خوبصورت چھجّے اور بالکونیاں بنی ہوئی ہیں۔ آٹھویں اور نویں صدی میں ایک راجپوت حکمران، راجہ چندا نے راجستھان کے شہر ابھینیری کے ایک قصبے میں یہ عمارت تعمیر کروائی تھی جسے ’چاند باؤلی‘ کہتے ہیں۔

زمین کی گہرائی میں اُتر جانے والی چاند باؤلی جیسی تعمیرات انڈیا کے ان خطوں میں تعمیر کی گئی تھیں جہاں خشک سالی کے زیادہ امکانات ہوتے تھے تاکہ مقامی لوگوں کو سال بھر پانی ملتا رہے اور ان کے آبپاشی کے ذخائر کے لیے پانی یقینی طور پر مہیا ہوتا رہے۔

صدیوں میں ہونے والے قدرتی زوال اور نظرانداز ہونے کی وجہ سے ان قدیم تعمیرات کو اور ان کی اہمیت کو لوگ بھول چکے ہیں۔ ایک ہزار سال سے زیادہ پرانے یہ سیڑھیوں والے کنویں (جنھیں باؤلی، باؤڑی، باوری ، یا واو کہا جاتا ہے) اب ہماری یادوں سے کہیں محو ہو گئے ہیں۔

آج کے جدید ماہر ٹاؤن پلانرز کا دھیان بھی اب ان تعمیرات کی اہمیت کی جانب نہیں جاتا ہے کیونکہ پانی کی سپلائی کے جدید نظام نے ان پرانی تعمیرات کی اہمیت کو کم کر دیا ہے۔ ایسی بہت سی قدیم باؤلیاں یا تو خستہ حال میں برقرار ہیں یا زمین تلے دھنس گئی ہیں اور کچھ تو صفحہ ہستی سے مکمل طور پر غائب ہو گئی ہیں۔

لیکن حالیہ برسوں میں ان میں سے بہت سے قدیم عمارتوں کو بحال کیا جا رہا ہے تاکہ انڈیا کو درپیش پانی کی شدید کمی سے نمٹا جا سکے۔ ایک حالیہ حکومتی رپورٹ کے مطابق ملک اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین پانی کے بحران سے گزر رہا ہے تاہم امید یہ ہے کہ باؤلیوں (سٹیپ ویلز) کی قدیم ٹیکنالوجی شاید پانی کے بحران کا کوئی حل پیش کرے۔

اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم یونیسکو کے مطابق، انڈیا دنیا کا سب سے بڑا زیرِ زمین پانی نکالنے والا ملک ہے۔

ایک اندازے کے مطابق انڈیا میں زمینی پانی کی سطح سنہ 2007 اور سنہ 2017 کے درمیان 61 فیصد تک گِری ہے۔ اہم وسائل کی کمی نہ صرف لوگوں کی پینے کے پانی تک رسائی کو خطرے میں ڈال رہی ہے بلکہ خوراک کی فراہمی (فوڈ سیکیورٹی) کے لیے بھی خطرہ بنتی ہے جس کے نتیجے میں شدید متاثرہ علاقوں میں فصلوں میں 68 فیصد تک کمی واقع ہوتی ہے۔

انڈیا باؤلی پانی

،تصویر کا ذریعہVictoria Lautman

،تصویر کا کیپشنانڈیا بھر میں ہزاروں کی تعداد میں ایسی باؤلیاں ہیں تاہم پانی کی سپلائی کے نئے نظام آ جانے کی وجہ سے یہ نظر انداز ہوئی ہیں

انڈیا میں سالانہ تقریباً چار کروڑ ہیکٹر میٹر بارش ہوتی ہے، لیکن زمینی پانی کا تقریبا 70 فیصد آلودگی کی وجہ سے انسانی استعمال کے قابل نہیں رہتا ہے۔ پانی کے معیار کے انڈیکس میں انڈیا 122 ممالک میں 120ویں نمبر پر ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یہاں ہر سال دو لاکھ لوگ صرف پانی کی کمی کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔

اب حکومت ان مسائل کے حل کے لیے انڈیا میں پانی کے انتظام کے تاریخی نظام کو استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دے رہی ہے۔ ریاستیں مقامی ضروریات کے لیے پانی کے روایتی نظام کو تبدیل کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجیز کا فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ ایک ایسی قوم میں جہاں 60 کروڑ لوگ، لگ بھگ ملک کی نصف آبادی، روزانہ پانی کی شدید قلت کا سامنا کرتے ہیں، پانی کی کمی کو پورا کرنے کے روایتی حل ہی امید کی ایک کرن ہیں۔

آغا خان ٹرسٹ فار کلچر، جو ایسے ہی روایتی طریقوں کی بحالی کے لیے کام کرتا ہے، کے کنزرویشن آرکیٹیکٹ اور پراجیکٹس کے ڈائریکٹر رتیش نندا کا کہنا ہے کہ ’انڈیا کے پانی کی سطح تیزی سے گرنے کے ساتھ، باؤڑیاں یا باؤلیاں زیر زمین پانی دوبارہ بھرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔'

یہ بھی پڑھیے

سنہ 2018 میں راجستھان کی حکومت، جو دنیا کے سب سے خشک علاقوں میں سے ایک ہے، نے چاند باؤڑی سمیت کئی دیگر باؤڑیوں کی بحالی کے لیے عالمی بینک کی تکنیکی مدد سے ایک جامع فریم ورک تیار کیا۔

سونی مہیت ڈھینگرا جندل سکول آف آرٹ اینڈ آرکیٹیکچر، سونی پت میں پڑھاتے ہیں اور وہ پانی کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے منصوبوں سے منسلک رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 'راجستھان حکومت نے اپنے ایک فلاحی پروگرام کے ذریعے دیہاتوں کو پانی میں خود کفیل بنانے کے لیے بارش کا پانی جمع کرنے والے غیر فعال نظام کو بحال کیا ہے۔'

مہیت ڈھینگرا کہتے ہیں کہ 'انڈیا میں ایک جامع آبی نظام موجود ہے لیکن زیادہ تر روایتی آبی ذخائر ناکارہ ہو چکے ہیں۔ سٹیپ ویلز (باؤڑیوں) کو بحال کرنے سے لوگ اپنے روایتی وسائل اور کمیونٹی کی زندگی کی جگہوں کو دوبارہ حاصل کر سکیں گے۔ چاند باؤڑی جیسے زینے والے کنوؤں کو بحال کرنے سے پانی کی کمی کا بڑا بحران کم کیا جا سکتا ہے۔'

ابتدائی طور پر یہ خندقوں کی طرح کھودے گئے تھے لیکن پھر گیارھویں صدی سے پندرھویں صدی کے درمیان ترقی کرتے ہوئے یہ آہستہ آہستہ تعمیراتی انجینیئرنگ کے شاندار نمونے بن گئے۔

بنسی دیوی، جو راجستھان میں اپنی گزر اوقات کے لیے مویشی پالتی ہیں، نے سب سے پہلے تبدیلی دیکھی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’پہلے ہمیں پانی کی تلاش میں گھنٹوں چلنا پڑتا تھا۔ اب میں اپنے گاؤں کی بحال ہونے والی باؤلی کے پانی کو اپنے گھریلو کاموں کے لیے استعمال کر سکتی ہوں اور مویشیوں کے لیے اور انھیں دھونے دھلانے کے لیے بھی پانی حاصل کر سکتی ہوں۔'

جودھپور شہر میں ایک ٹیم نے کئی مہینوں تک گدلے پانی کو نکال کر ٹورجی باؤلی (سٹیپ ویل) کو بحال کیا۔ کئی دہائیوں کے زہریلے پانی نے کنویں کے سرخ پتھر کو سفید کر دیا تھا، جس پر آدھا انچ موٹی تہہ جم چکی تھی جس نے زیادہ تر سطح کو ڈھانپ لیا تھا۔

تقریباً پندرہ لاکھ روپے کی لاگت سے دیوار پر موجود سفید پرت کو صاف کرنے کے لیے سینڈ بلاسٹنگ کی گئی۔ آبپاشی اور گھریلو مقاصد کے لیے حال ہی میں صاف کی گئی باؤلیوں سے اب تقریباً دو کروڑ اسی لاکھ لیٹر (یا باسٹھ لاکھ گیلن) پانی شہر کو فراہم کیا جاتا ہے۔

راجستھان کے جے پور ضلع میں سوسائٹی فار رورل ڈیولپمنٹ نے راجستھان کے دیہات میں سات باؤلیوں کی بحالی کا کام کیا ہے جس سے تقریباً پچیس ہزار لوگوں کو پانی کا زیادہ قابل اعتماد ذریعہ فراہم کیا گیا ہے۔

سوسائٹی کے سیکریٹری کسم جین کا کہنا ہے کہ ہم نے سات باؤلیوں کو بحال کیا ہے جہاں زیرِ زمین پانی کی بحالی کی گئی ہے اور اس سے پانی کے ذخیرہ کرنے کی گنجائش بڑھ گئی ہے۔ 'زیادہ تر باؤلیاں دیہاتیوں کی روز مرہ کی ضروریات کے لیے کافی ہیں۔ ہم نے مختلف آبادیوں کے رضاکاروں کے ایک منفرد گروہ کو اس کام میں شامل ہوتے ہوئے دیکھا جو انڈیا کی مذہبی آہنگی کی روایت کی نمائندگی کرتی ہے۔'

راجکمار شرما، جو راجستھان کے علاقے شیو پورہ میں گورنمنٹ پرائمری سکول میں پڑھاتے ہیں، باؤلی کی بحالی سے بہت خوش ہیں۔ وہ کہتے ہیں 'باؤلیاں ہماری ثقافتی زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ ہمارے گاؤں میں باؤلی پانی کا واحد ذریعہ تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ خشک ہو گیا اور کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا۔ اب ہمارے پاس پینے، گھریلو استعمال اور مذہبی تقریبات کے لیے صاف پانی آرہا ہے۔ باؤلی ہمارے گاؤں کی عظمت کا نشان ہے۔'

باؤلیوں کے موجود ہونے کے ثبوت 2500-1700 سال قبل مسیح میں وادی سندھ کی تہذیب میں ملتے ہیں۔ انھیں ابتدائی طور پر خام خندقوں کے طور پر تعمیر کیا گیا تاہم یہ آہستہ آہستہ 11 ویں سے 15 ویں صدی کے درمیان انجینئرنگ کے عجائبات میں تبدیل ہو گئے۔ سنہ 2016 میں، 'سٹیپ ویل ایٹلس' نے ہندوستان میں تقریباً 3000 موجودہ باؤلیوں کی نشاندہی کر کے ایک نقشہ بنایا۔ صرف دارالحکومت دہلی میں 32 باؤلیاں ہیں۔

انڈیا باؤلی پانی

،تصویر کا ذریعہKim Petersen/Alamy

،تصویر کا کیپشنباؤلیوں میں عموماً ایک ترتیب کے ساتھ مختلف زاویوں کے ساتھ زینے اترتے ہیں جن میں بالکونیاں بنی ہوتی ہیں اور جہاں آخر میں پانی ہوتا ہے وہاں سیڑھیاں لگی ہوتی ہیں

باؤلیاں کثیر المنزلہ زیر زمین تعمیرات کے ڈھانچے ہیں جن پر خوبصورت آرائشی اور تعمیراتی خصوصیات نظر آتی ہیں۔ ان کے عام طور پر دو حصے ہوتے ہیں: پانی کا ایک عمودی شافٹ اور ترتیب سے بنی ہوئے چھجّے، کمرے اور زینوں کے کئی سلسلے۔ تاریخ دان رانا صفوی کا کہنا ہے کہ 'باؤلیاں ہندوستان کی تاریخی کہانیوں کا ذخیرہ ہیں، جو سماجی اجتماعات اور مذہبی تقریبات کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ انہوں نے مسافروں کے لیے ٹھنڈے پڑاؤ کا کام کیا کیونکہ نیچے کا درجہ حرارت اکثر پانچ چھ ڈگری کم رہتا تھا۔ باؤلیوں نے پانی کی فراہمی کے علاوہ عام جگہوں ملنساری کے ماحول کے پیدا کرنے میں مدد دی۔ پانی کی قلت پر قابو پانے کے لیے باؤلیاں ہماری اد و جہد میں ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہیں۔

شکاگو میں مقیم مصنفہ وکٹوریہ لوٹ مین نے اپنی کتاب 'دی انیشنگ سٹی ویلز آف انڈیا' میں انھیں ’زیرِ زمین دنا کے دروازے‘ کے طور پر بیان کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ 'سٹیپ ویلز (ِباؤلیاں) منفرد ہیں کیونکہ ہم عام طور پر فن تعمیر کو دیکھتے ہیں، لیکن ان میں نہیں۔ جیسے ہی کوئی زینوں کے ارد گرد دیکھتا ہے، لمبے لمبے کالم کھڑے ہوتے ہیں، روشنی اور سائے کے ایک طاقتور کھیل کے ذریعے بدلتے ہوئے نظارے تخلیق کرتے ہیں جو ہی خوبصورت اور پراسرار منظر پیش کرتے ہیں۔'

'حال ہی میں انڈیا کی باؤلیوں کے بارے میں آگاہی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ تقریباً 1500 سالوں تک پانی کی فراہمی میں حیرت انگیز طور پر کارآمد کردار باؤلیوں نے ادا کیا تھا لیکن اب انھیں نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ لیکن اب بحالی کی کوششوں کی وجہ سے یہ واپس زندہ ہو کر اپنا کردار ادا کریں گے۔‘

باؤلیاں قدرتی ڈھلوانوں کے ساتھ بنائی گئی تھیں تاکہ معمول کے بہنے والے زیر زمین پانی اور بارش کے پانی کو ان میں جمع کیا جا سکے، جو اکثر تالابوں سے منسلک ہوتے تھے تاکہ وہ بارش کے پانی کو چینل کر سکیں۔ لوٹ مین کا کہنا ہے کہ صنعتی دور کے اوزاروں اور تکنیکوں کے دور سے قبل کے زمانے میں ان زیر زمین قلعوں کی کھدائی اور تعمیر ایک بہت ہی بڑا کام رہا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'ملبے یا اینٹوں کا استعمال کرتے ہوئے انھیں تعمیر کیا گیا، باؤلیوں میں ایک لمبی سیڑھی اور اطراف کی تہوں کی محتاط جگہ لگانا اہم کام ہوتا ہے جو پانی تک رسائی کی دیاتی ہیں۔ برسات کے موسم میں خندق پانی کے ایک بڑے حوض میں تبدیل ہو جاتی ہے، جس کے لیے اس میں گنجائش ہوتی ہے۔ باؤلیوں کے اوپر والے حصے کے محدود ہونے سے پانی کے آبخارات میں تبدیل ہو کر ہوا میں تحلیل ہوجانے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔

کھیتی باڑی کے لیے استعمال ہونے والی باؤلیوں میں نکاسی آب کا نظام تھا جو پانی کو کھیتوں میں منتقل کرتا تھا۔ راجستھان میں موسی رانی ساگر کی بحالی کا پروجیکٹ ایک ایسا ہی کثیر سطحی منصوبہ ہے جس میں کنویں، ڈیم اور نہریں بنانے کے کام شامل ہیں جو کہ اراولی پہاڑی کی چوٹی سے دامن کے قدم تک کے علاقے پر محیط ہے۔ بحالی کا کام سنہ 2020 میں شروع ہوا اور اس میں وسیع صفائی اور بھل صفائی، ملبہ اور جنگلی گھاس کو ہٹانے اور سِوِک سٹرکچر کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ایک تالاب سے، اب یہ چینل ایک تازہ آبی گزرگاہ میں تبدیل ہوچکا ہے جس میں پھلتی پھولتی مچھلیاں اور کچھوے فروغ پا رہے ہیں۔

انڈیا باؤلی پانی

،تصویر کا ذریعہVishal Bhatnagar/Getty Images

،تصویر کا کیپشنباؤلیاں نہ صرف کے پانی ذخیرہ کرنے کے لیے سود مند ہوتی ہیں بلکہ یہ سماجی میل جول اور ثقافتی ورثے کی ایک جگہ بھی بن جاتی ہیں

محققین باؤلیوں کی تعمیر میں فریکٹل جیومیٹری کا استعمال دیکھرے ہیں، جس کے جمالیاتی اور عملی دونوں مقاصد تھے۔ اس جیومیٹری نے پانی کے دباؤ کے خلاف دیواروں کو دباتے ہوئے استحکام فراہم کیا، جس کی وجہ سے بہت سی باؤلیاں ڈھ جانے سے بچ گئیں ہیں اور اب ان کی بحالی کا امکان ہے۔

سنہ 2017 میں حکومت نے بحالی کے لیے دہلی میں 15 باؤلیوں کی نشاندہی کی۔ سنہ 2019 میں آغا خان ٹرسٹ فار کلچر نے انڈیا میں جرمن سفارت خانے کے اشتراک سے دہلی میں ہمایوں مقبرہ کمپلیکس میں ایک باؤلی کو بحال کرنے کا کام شروع کیا۔ نندا کا کہنا ہے کہ 'اس نے زمین کی دوبارہ درجہ بندی اور دیواروں کی دوبارہ تعمیر کا حکم دیا ہے۔ ان کی کوششوں نے اکتالیس لاکھ انڈین روپے کی سرمایہ کاری کے ذریعے آبی پانی کے اس ذخیرے کو بحال کرنے میں مدد دی۔

دہلی میں 14 ویں صدی کی حضرت نظام الدین درگاہ کو پہلے ہی بحال کیا گیا تھا۔ اس میں باؤلی کے کچھ حصے منہدم ہو گئے تھے، جس سے قریبی رہنے والے خاندانوں کو خطرہ لاحق تھا، جنہیں محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ نندا کا کہنا ہے کہ 'اس میں روایتی مواد کے ساتھ منہدم ہونے والے حصے کی دوبارہ تعمیر، 700 سال کے جمع شدہ ملبے کو ہٹانے، زمین سے 80 فٹ نیچے وسیع صفائی اور ڈی سلٹنگ کی ضرورت تھی، اور رضاکاروں کی مدد سے 8000 انسانوں کے دنوں کی محنت کے برابر کوشش سے ایک گوند کی تہہ کو ہٹانے کی ضرورت تھی۔ اس سے زیر زمین پانی کو دوبارہ چارج کرنے میں مدد ملی۔'

حفیظ کا کہنا ہے کہ ’درگاہ کی باؤلی خاص ہے کیونکہ لوگ اسے مقدس سمجھتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ پانی میں دواؤں کی خاصیت ہے۔ وہ پینے اور شفا یابی کے مقاصد کے لیے پانی لے جاتے ہیں۔ مقامی باؤلی میں میٹھا پانی دیکھنے کے لیے پرجوش نظر آتے ہیں۔'

بدقسمتی سے باؤلی کو بحال کرنے کا کوئی عالمگیر طریقہ نہیں ہے۔ نندا کے مطابق، ہنر مند کاریگروں، معماروں اور سٹرکچرل انجینئروں کے ساتھ روایتی مواد کا استعمال کرتے ہوئے بحالی کی ضرورت ہے۔

باؤلیوں کی بحالی شاید انڈیا کے پانی کے بحران کو حل نہ کرسکے، لیکن یہ مقامی سطی پر پانی کی قلت کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں ۔۔ رتیش نندا

نندا کا کہنا ہے کہ 'بحالی کا کام آسان نہیں ہے۔ یہ ایک پیچیدہ منصوبہ ہے جس میں کثیر الشعبہ ٹیم شامل ہوتی ہے۔اسے کسی بھی نقصان سے بچنے کے لیے ارد گرد کے ڈھانچے کا سروے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک باؤلی کو مناسب کیچمنٹ ایریا کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ جس کے ذریعے پانی زیر زمین آبی ذخائر تک پہنچ سکے۔'

زیادہ تر بحالی کا کام سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں، مقامی رضاکاروں اور ڈونرز کے درمیان شراکت داری کے ذریعے کیا گیا ہے۔ رعنا صفوی کا کہنا ہے کہ 'بحالی کے منصوبے اس بات کا سبق ہیں کہ کس طرح مقامی کمیونٹیز کو ملکیت اور ذمہ داری کا احساس دے کر انھیں اپنے ورثے سے جوڑا جا سکتا ہے۔'

لیکن باؤلیاں صرف پانی کا ذریعہ نہیں ہیں، وہ ہندوستان کی تعمیراتی تاریخ کا بھی حصہ ہیں۔ وہ ان کے تاریخی ورثے کی جگہیں ہیں، جن کے چاروں طرف مقامی درخت اور پتے ہیں، جنہیں محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ وہ متحرک سماجی مراکز کے طور پر کام کر سکتے ہیں اور سیاحوں کو راغب کر سکتے ہیں۔ ان کی دیکھ بھال کے لیے فنڈ دینے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ورثہ کے فنڈز استعمال کیے جائیں جو کہ بلدیاتی محصولات اور بحالی اور دیکھ بھال کے لیے عطیات کے ذریعے بنائے جا سکتے ہیں۔

نندا کا کہنا ہے کہ 'باؤلیوں کی بحالی شاید انڈیا کے پانی کے بحران کو حل نہ کرسکے، لیکن یہ مقامی سطی پر پانی کی قلت کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔‘