انڈیا: مقدس درخت اور تالاب جو ماحول کو انسانوں سے بچا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چڑیوں کی چہچہاہٹ، ٹھنڈی ہوا، درختوں کے سائے اور پانی، یہ سب انیم شری دیوی اور ان کے خاندان کا پلالما میں خیر مقدم کرتے ہیں۔ انھوں نے ہاتھوں میں پھولوں سے سجی تھال اور پکوانوں کی ڈونگے اٹھا رکھے تھے، جسے وہ پلالما دیوی کے مندر پر چڑھاوے کے طور پر پیش کرنے کے لیے لائے تھے۔
انیم کے شوہر رام بابو نے بتایا کہ 'پلالما کے مندر میں بہت سے بے اولاد جوڑے دعا مانگنے آتے ہیں کہ ان کی گود بھر جائے۔' واضح رہے کہ پلالما جنوبی انڈیا کی ریاست آندھرا پردیش میں واقع ایک مندر ہے۔
مندر کے اندر برگد کے درخت کے نیچے ایک طاق میں دیوی کی مورتی (مجسمہ) رکھی ہوئی ہے۔ زائرین یہاں اس یقین کے ساتھ آتے ہیں کہ یہاں پھلوں کا چڑھاوا پیش کریں گے اور دیوی کا آشیرواد حاصل کریں گے تو ان کے من کی مراد ضرور پوری ہوگی۔
پلالما دیوی کو قدرت کی دیوی بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا مندر قدرت کے حسین مناظر سے گھرا ہے۔
مندر کے ارد گرد برگد، اور پیپل کے درخت ہیں۔ ان درختوں پر گلہریاں اوپر نیچے بھاگتی نظر آتی ہیں اور چڑیاں چہچہاتی رہتی ہیں۔ رام بابو کی اہلیہ انیم شری دیوی نے بتایا: 'لوگ یہاں منت مانگنے آتے ہیں اور درختوں کے تنوں پر لال رنگ کے دھاگے باندھ کر ماتا کا آشیرواد لیتے ہیں۔'
انڈیا کے مختلف حصوں میں ایسی ہی مذہبی روایات کی بدولت تقریباً ڈیڑھ لاکھ سبز علاقے محفوظ ہیں جنھیں لوگ مقدس مانتے ہیں۔ ان سبز علاقوں کی بدولت معدومیت کے خطرے سے دو چار حیاتیات کو تحفظ فراہم ہو رہا ہے۔
سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ تہذیبی روایات اور عقیدے ماحول کے لیے ضروری درختوں جیسے عناصر کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، خاص طور پر انڈیا میں جہاں جنگلات بہت تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔
مندر کے پجاری لکشمن آچاریہ کہتے ہیں: 'یہ چند ایسی باتیں ہیں جو ہر ہندو کی پرورش میں شامل ہیں۔ مندر، درخت اور تالاب ان سبھی کو مقدس اور عبادت کے لحاظ سے اہم سمجھا جاتا ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈیا میں درختوں کی پوجا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ رام بابو نے بتایا کہ درختوں کی پوجا میں شکرگزاری کا نکتہ بھی ہے کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ درختوں کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 'درختوں کے پتے اور پھول تمام مذہبی رسومات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔'
فطرت کی عبادت
انڈیا میں قدرتی ذرائع کا تحفظ تہذیب کا اہم حصہ رہا ہے۔ خاص طور پر دیہی اور قبائلی علاقوں میں۔ ایسی متعدد برادریوں میں فطرت سے نزدیکی تعلق کو خاص روحانی اہمیت دی جاتی ہے۔ وہ نادر درختوں اور پودوں، جانوروں، دریاؤں اور پہاڑوں کو بزرگوں کی خود پر سرپرستی کے طور پر دیکھتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
درختوں کا تحفظ بھی اسی قدیم عقیدے کے سبب کیا جاتا ہے کہ اگر درختوں کا خیال نہ رکھا گیا تو ان کے بزرگوں کی روحیں ان سے ناراض ہو جائیں گی۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ جو کوئی بھی قدرتی نظام کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرے گا، دیوی دیوتا اس سے بدلہ لیں گے۔
اسی طرح انڈیا میں سانپوں کو دوبارہ جنم کے خیال سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ اس لیے ان کی حفاظت کا بھی خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ اگر ایک سانپ مارا جاتا ہے تو اس کا بدلہ لینے کے لیے کئی نئے سانپ پیدا ہوتے۔
آندھرا پردیش کی کریا یونیورسٹی میں ایسوسیئیٹ پروفیسر انو جالیس کا کہنا ہے کہ 'گاؤں والوں کا خیال ہے کہ ہر جاندار کی ایک خاص اہمیت ہے۔'
جالیس 'فاریسٹ آف ٹائیگرز، سندر بن، واسٹ مینگروو فاریسٹس ہوم ٹو مینی سیکریڈ گرووز' کے مصنف بھی ہیں۔ انھوں نے بتایا: 'گاؤں والے ماحولیات اور ذرائع کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ وہ جنگل کی عبادت کرتے ہیں کیوں کہ وہیں سے انہیں وہ سب کچھ ملتا ہے جو ایک پائیدار زندگی کے لیے ضروری ہے۔'
اسی طرح ہندو اور مسلم ماہی گیر سندر بن میں بون بی بی دیوی کو پوجتے ہیں۔ ان کا یقین ہے کہ دیوی انھیں چیتوں کے حملوں سے بچاتی ہیں۔ سندربن کے جنگلات میں مختلف قسم کے درختوں اور پھلوں کے علاوہ تمام قسم کے خطرناک جانور بھی پائے جاتے ہیں۔
شمال مشرقی انڈیا میں گارو کھاسی کی قبائلی برادریاں اپنے درختوں کو کسی بھی قسم کے انسانی دخل سے محفوظ رکھتی ہیں۔ وہ ان درختوں کو اتنا مقدس مانتے ہیں کہ ان سے پک کر گرے پھلوں کو بھی نہیں اٹھاتے۔ اسی طرح گونڈ قبائلی برادری درختوں سے خود ٹوٹ کر گرنے والے پھل پھول تو اٹھا لیتے ہیں لیکن درختوں کو کبھی کٹنے نہیں دیتے۔ جالیس نے بتایا 'ان برادریوں کا عقیدہ ہے کہ درختوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرنے سے ہی خوش ہو کر خدا انہیں صحت اور ترقی سے نوازتا ہے۔'
رام بابو کا بھی خیال ہے کہ 'جو کوئی بھی دیوی ماں کی پوجا کرتا ہے اور قدرتی ماحول کا خیال رکھتا ہے، اس کی دیوی ماں ہمیشہ حفاظت کرتی ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہAlamy
چند مقامی ماحولیاتی تنظیمیں، مثال کے طور پر پونے کی تنظیم اے ای آر ایف یعنی 'ایپلائیڈ اینوارنمنٹ ریسرچ فاؤنڈیشن' مقامی آبادیوں کے ساتھ مل کر جنگلات کے تحفظ اور انہیں بحال کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اب تک یہ تنظیم تقریباً 80 مقدس درختوں کی نسلوں کو بچا چکی ہے۔
اس تنظیم کی ڈائریکٹر ارچنا گوڈبولے کا کہنا ہے کہ 'جب تک ہم کوئی ایسا نظام نہیں بنائیں گے جس سے لوگوں کو جنگلات کے تحفظ سے ہونے والے فوائد نظر آئیں، جنگلات کو اگلی نسلوں تک بچائے رکھنا مشکل ہوتا جائے گا۔ ضروری ہے کہ ہم زمینی سطح پر ضروری اقدامات کریں۔'
اے ای آر ایف گذشتہ 30 برسوں سے جنگلات کے تحفظ کے لیے کام کر رہی ہے۔
اے ای آر ایف درختوں، جانوروں اور قدرتی ذرائع کے تحفظ کے لیے مقامی آبادیوں کے ساتھ مل کر اور انہیں قدرت کا تحفظ کرنا سکھا کر مقصد میں کامیابی حاصل کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ تنظیم مقامی افراد کو اس کام سے آمدنی پیدا کرنا بھی سکھا رہی ہے۔ مثال کے طور پر مقامی لوگوں کو سمجھایا گیا کہ لکڑی کاٹ کر بیچنے کے بجائے وہ بہیڑا کے درخت سے پھل جمع کر کے بیچ سکتے ہیں جس کی طبّی اہمیت بھی ہے۔
پونے کے پاس ایک گاؤں کے مقامی رہائشی سنتوش نے بتایا: 'اے ای آر ایف کی مدد سے اب میں بہیڑا کے پھل جمع کر کے بیچتا ہوں اور اس طرح میں روزی کماتا ہوں۔'
جنگلات کا تحفظ
انڈیا کو 2030 تک ڈھائی سے تین ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ پر قابو پانے کا ہدف پورا کرنا ہے۔ ایسا کرنے کے لیے اسے ڈھائی سے تین کروڑ ہیکٹر تک جنگلات میں اضافہ کرنا ہوگا۔ انڈین جنگلات کے بارے میں 2021 کی رپورٹ کے مطابق ملک میں آٹھ عشاریہ ایک کروڑ ہیکٹر علاقے میں جنگلات اور درخت ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلی پر قابو پانے کے انڈیا کے ٹارگٹ میں جنگلات میں اضافہ کرنا خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ انڈین حکومت 'نیشنل ایفاریسٹیشن پروگرام اینڈ گرین انڈیا مشن' کے تحت تمام قسم کے درخت اور پودوں کو لگانے کی مہم چلا رہی ہے۔ اس کام کے لیے جاری کیے جانے والے کل بجٹ کا 82 فیصد حصہ جنگلات لگانے کے لیے دیا گیا ہے۔ باقی سے ان کی دیکھ بھال نگرانی کا منصوبہ ہے۔
لیکن شہری ڈھانچوں اور صنعتی ترقی کی فروغ کے سبب اس مہم کو خاص چیلینجز کا سامنا ہے۔
گلوبل فارسٹ واچ کے مطابق سنہ 2001 سے 2021 کے درمیان انڈیا کے تین لاکھ چھہتر ہزار ہیکٹر علاقے میں جنگلات کا خاتمہ ہوا ۔ اس نقصان کو ایسے سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک لاکھ ٹن کوئلے کو جلائے جانے سے پیدا ہونے والا کاربن ڈائی آکسائیڈ۔
ان حالات کے باوجود ابھی بھی انڈیا کے جنگلات میں مقدس سمجھے جانے والے متعدد درخت پائے جاتے ہیں اور ماحولیاتی تبدیلی سے لڑنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
سنہ 2018 کی ایک ریسرچ کے مطابق مقدس مقامات کے گرد پائے جانے والے یہ سبز علاقے حیاتیاتی تنوع کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
ریسرچ کے مطابق حیاتیاتی تنوع جتنی زیادہ ہو گی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی سطح پر قابو پانا اتنا ہی آسان ہوگا۔ مختلف اقسام کے درختوں کی موجودگی زمین میں پیداوار کی صلاحیت بھی بڑھاتی ہے۔
ایک ریسرچ میں یہ بھی پایا گیا ہے کہ مشرقی انڈیا کےعلاقے سِکم میں دیورالی اور اینچی کے مقدس درخت عام درختوں کے مقابلے تقریباً دو گنی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرلیتے ہیں۔
جالیس کا کہنا ہے کہ 'صحت کے لیے معقول ماحول بنائے رکھنے میں ان مقامی افراد کا اہم کردار ہے جو مقدس درختوں اور ان سے منسلک عقائد اور روایات کا احترام کرتے ہیں اور درختوں کو کٹنے سے بچاتے ہیں۔'
پونے کی غیر سرکاری تنظیم دیورائے فاؤنڈیشن انسانوں کے ہاتھوں ایک جنگل لگا رہی ہے جس کا نام ہے 'دیورائیز'۔ اب تک وہ پودوں کی ایک سو انیس قسموں کو معدوم ہونے سے بچا چکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ تنظیم خاص طور پر ان پودوں کو دوبارہ زمین میں بوتی ہے جو ماضی میں خوب نظر آتے تھے لیکن شہری ڈھانچوں میں اضافے اور تعمیرات کے سبب اب معدوم ہونے لگے ہیں۔ اس تنظیم کا اپنا ایک 'سیڈ بینک' بھی ہے جہاں سے لوگوں کو مفت بیج فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ وہ انڈیا کے کسی بھی حصے میں ان پودوں کو لگا سکیں۔
دیورائے فاؤنڈیشن کے بانی رگھوناتھ ڈھولے نے بتایا 'ان جنگلات اور درختوں کے تحفظ میں مقامی افراد کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ ہم لوگوں کو یہ بتاتے ہیں کہ ان درختوں کے تحفظ سے انہیں کیا فائدہ ہوگا اور وہ ان کا تحفظ کیسے کر سکتے ہیں۔'
یہ بھی پڑھیے:
انڈیا میں عبادت کے اعتبار سے مقدس سمجھے جانے والے ایسے متعدد مقامات پر مندروں کے ساتھ درختوں کے علاوہ مقدس تالاب بھی ہوتے ہیں۔ یہ تالاب کچھوؤں، مینڈکوں، مگرمچھوں، بطخوں اور مچھلیوں کے لیے بہت ضروری ہیں۔ ان تالابوں میں بھی قدرتی مادوں کے ذریعے کاربن کا بڑا حصہ جذب ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ان جانداروں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں جو آہستہ آہستہ معدوم ہوتے جا رہے ہیں، جیسے کچھوا، مگرمچھ اور پانی میں پیدا ہونے والا سپنج کا پودا۔
کوڑگو میں کالج آف فاریسٹری کے اسسٹنٹ پروفیسر بترہلی ناراینپا کہتے ہیں کہ 'ایسے زیادہ تر مقدس سمجھے جانے والے مقامات پر آپ کو تالاب ضرور ملے گا۔ اس طرح شدید گرمی میں بھی زمین کے پانی کی سطح کم نہیں ہوتی ہے۔'
انڈیا میں خشک سالی کے شکار متعدد علاقوں کو ان تالابوں کی بدولت پانی کے لیے پریشان نہیں ہونا پڑتا۔ خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں شدید گرمی کے سبب فصلوں کے لیے پانی کی فراہمی کے چیلنج کا سامنا ہو سکتا ہے۔
بنگلورو کے سینٹر فار ایکالوجیکل سائنسز کے کوآرڈینیٹر ٹی وی رام چندر کا کہنا ہے کہ جہاں کہیں بھی اس قسم کے مقدس مقامات کا خیال رکھا گیا ہے، لوگوں کو پورے سال پانی کی قلت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے۔ کاشتکاروں کی سالانہ اوسط آمدنی ایسے علاقوں میں تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار روپے ہوتی ہے، جبکہ جن علاقوں میں درختوں کو کاٹا جا رہا ہے وہاں ان کی آمدنی محض 32 ہزار روپے کے قریب ہی رہ گئی ہے۔'
مشکلات
جہاں ایک جانب مذہبی عقائد مقدس مقامات کے گرد سبز علاقوں اور تالابوں کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں وہیں گذشتہ برسوں میں تعمیرات میں بھی شدید اضافہ ہوا ہے۔
مانیل ایپا سوامی مندر کا علاقہ ماضی میں سنہ 2000 تک 62 ایکڑ تک پھیلا ہوا تھا۔ لیکن اب مندر کے پاس صرف پانچ ایکڑ علاقہ ہی بچا ہے۔ باقی زمین پر رہائشی عمارتیں کھڑی کر دی گئیں۔
آندھرا پردیش کے رہائشی بدم موکا راجو بھی اس مندر میں پوجا کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا 'اب یہاں بڑے بڑے مندر بنا دیے گئے ہیں اور ان کی تعمیر کے لیے درختوں کا صفایا کر دیا گیا ہے۔ مندروں کے آس پاس ڈھیروں کچرا جمع رہتا ہے۔'
عبادت گاہوں کو آمدنی کے لیے استعمال کیے جانے کے بارے میں بھی متعدد سوالات کیے جا رہے ہیں۔
رام چندر کہتے ہیں 'ماضی میں درختوں کے تحفظ اور روایات کے درمیان تعلق ہوا کرتا تھا۔ مقدس درختوں کو نقصان سے بچانے کے لیے پوجا کی جاتی تھی۔ لیکن اب آمدنی اور منافع زیادہ اہم ہو گئے ہیں جس کا نقصان مقدس درختوں کو ہو رہا ہے۔'
بترہلی کے بقول مقدس عبادت گاہوں کے ارد گرد سبز علاقوں کو سب سے زیادہ خطرہ کھیتی، ایندھن، شکار اور تعمیرات کے لیے درختوں کی کٹائی سے ہے۔
کوڑگو گاؤں کے رہائشی ننجپا گوڑا کا کہنا ہے کہ 'آس پاس کے گاؤں سے بہت سے لوگ یہاں لکڑی کاٹنے آتے ہیں اور کچھ کی دلچسپی شکار میں ہوتی ہے۔ ہم ہمیشہ نظر نہیں رکھ سکتے ہیں۔'
چینئی سے تعلق رکھنے والی ماحولیاتی امور کی ماہر نندیتا کرشنا کہتی ہیں مقدس مقامات کے ارد گرد سبز علاقے مقامی حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے انڈیا میں بے حد ضروری ہیں۔ لیکن سارا کا سارا انحصار صرف ان علاقوں پر ہی نہیں کیا جا سکتا ہے۔
وہ کہتی ہیں 'جنگلات کا چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو جانا جنگلی حیات اور پودوں کے لیے بھی اچھا نہیں ہے۔ ان کے تقسیم سے ان کے سرحدی اور اندرونی علاقوں کے خاتمے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔'
نندیتا کرشنا کہتی ہیں: 'مقدس سمجھے جانے والے یہ سبز علاقے انڈیا کے کلائیمیٹ ٹارگٹ کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر ہر گاؤں کے پاس اپنا ایک سبز علاقہ ہو، تو اس سے ان کا مقامی ماحول بہت بہتر ہو سکتا ہے۔ حالانکہ یہ مکمل حل نہیں ہے، لیکن حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔'










