بارہ ماسی: آم کا وہ درخت جو سردیوں میں بھی پھل دیتا ہے

آم
    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

آم اور وہ بھی سردیوں میں بلکہ سال کے بارہ ماہ۔ کیا یہ حقیقت ہے اور کیا ایسا ممکن بھی ہے؟

یہ جاننے کے لیے جب ہم پنجاب کے ضلع لودھراں کے موضع نور شاہ گیلانی میں واقع وسیع و عریض چاند شاہ گیلانی فارم پہنچے تو وہاں 45 ایکٹر پر تو صرف آم کے باغات لگے ہوئے تھے جبکہ اس کے علاوہ باقی کھیت اور باغات الگ تھے۔

چاند شاہ گیلانی فارم کے مالک علاقے کے دو زمیندار بھائی سید محمد شاہ گیلانی اور سید جعفر شاہ گیلانی ہیں۔

چاند شاہ گیلانی فارم میں ان کے ڈیرے پر قریب کے علاقوں کے کچھ مہمان بھی موجود تھے۔ ان مہمانوں سے ہماری بات چیت ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ وہ اکثر سید محمد شاہ گیلانی اور سید جعفر شاہ گیلانی سے ملنے اور لنگر کھانے کے لیے آتے رہتے ہیں اور اب وہ اس وقت سردیوں میں آم کھانے آئے ہیں۔

ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا پہلی مرتبہ سردیوں میں آم کھا رہے ہیں تو ان سب کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں۔

’کچھ عرصے سے اس علاقے میں سردیوں میں بھی آم دستیاب ہوتا ہے۔ اس کو بھی اگر مناسب انداز میں سٹور کیا جائے تو اتنا ہی لذیذ ہوتا ہے جتنا گرمیوں میں پائے جانے والے آموں کی ورائٹی۔‘

اس موقع پر ہمارے میزبانوں سید محمد شاہ گیلانی اور سید جعفر شاہ گیلانی نے ہمیں بھی دعوت دی کہ ہم آم کھا کر بتائیں کہ آم کا ذائقہ کیسا ہے۔

آم
،تصویر کا کیپشنچاند شاہ گیلانی فارم میں 45 ایکٹر پر تو صرف آم کے باغات لگے ہیں جبکہ اس کے علاوہ باقی کھیت اور باغات الگ ہیں

سال میں دو مرتبہ پھول کھلتے ہیں

جب ہم چاند شاہ گیلانی فارم کا دورہ کر رہے تھے تو سید جعفر شاہ گیلانی نے اپنے آموں کے باغ میں سے ان درختوں کی نشاندہی کی، جن سے سال کے بارہ ماہ آم ملتا رہتا ہے اور اس پر سال میں دو مرتبہ بلومنگ یعنی ایسے پھول نکلتے ہیں جن پر بعد میں پھل آتا ہے۔

ہم دیکھ رہے تھے کہ کم از کم دس درختوں پر اکا دکا آم موجود تھے۔ کچھ آم پکے ہوئے تھے جن کو کسی بھی وقت آئندہ دو چار دن میں اتارا جانا تھا جبکہ کچھ آم چھوٹے تھے جن کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ آم جنوری میں مکمل پک کر اپنے سائز اور رنگ میں آ جائیں گے۔

تقریباً سارا سال ہی پھل دینے والے درخت اس فارم پر کوئی ایک ایکٹر پر لگے ہوئے تھے۔ ان کی خصوصی نگہداشت کی جاتی ہے، ان کے زیادہ قریب دوسرے درخت نہیں لگائے گئے تاکہ یہ متاثر نہ ہوں۔ موسم کے درختوں پر پھول مارچ، اپریل، مئی میں نکل جاتے ہیں اور پھل بننے میں تقریباً تین ماہ لگتے ہیں۔

جبکہ سید جعفر شاہ گیلانی کے مطابق سردیوں اور سارا سال پھل دینے والے درختوں پر سال میں دو مرتبہ مارچ، اپریل کے بعد ستمبر میں بھی پھول نکلتے ہیں۔

اس موقع پر ہمیں سید جعفر شاہ گیلانی نے بتایا کہ دسمبر میں ان درختوں پر بہت شاندار پھل آیا تھا۔

’فی درخت ہمیں تین سے پانچ من تک پھل ملا۔ ہم نے دسمبر میں اتارے جانے والے آموں کو پورے پاکستان میں موجود اپنے دوستوں کو بھجوایا تھا۔‘

سید جعفر شاہ گیلانی کا کہنا تھا کہ یہ باغ اور آم کے درخت ان کے والد مرحوم نے لگائے تھے۔

’باقی باغ تو تقریباً چالیس سال پرانا ہے مگر سارا سال پھل دینے والے درختوں پر آم گزشتہ تین، چار سال سے لگ رہے ہیں۔ ان درختوں پر بہت محنت ہوئی ہے جس کے بعد انھوں نے پھل دینا شروع کیا۔‘

چاند شاہ گیلانی فارم کے مالک
،تصویر کا کیپشنچاند شاہ گیلانی فارم کے مالک علاقے کے دو زمیندار بھائی سید محمد شاہ گیلانی اور سید جعفر شاہ گیلانی ہیں

ٹیکنالوجی اور محنت نے بارہ ماسی کو ممکن بنایا

اس وقت آسڑیلیا میں قیام پذیر ڈاکٹر ذوالفقار فیصل آباد ریسرچ سنٹر میں اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں اور چاند شاہ گیلانی فارم کے کنسلٹنٹ کی خدمات بھی انجام دی ہیں۔

ڈاکٹر ذوالفقار کے مطابق چاند شاہ گیلانی فارم ہی نہیں بلکہ پنجاب کے کچھ اور علاقوں کے علاوہ سندھ میں بھی یہ درخت موجود ہیں اور ان کو ’بارہ ماسی‘ کہا جاتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق نے یہ ممکن بنا دیا کہ اب آم سردیوں اور بارہ مہینے بھی دستیاب ہو سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ’چاند شاہ گیلانی فارم میں بارہ ماسی پر بہت محنت ہوئی ہے۔ اس کے لیے طویل تجربے کیے گئے۔ موسمی حالات کے موافق حالات بنائے گئے، جس کے بعد ان درختوں نے پھل دیا۔‘

’اس درخت کو پرواں چڑھانا بذات خود ایک پوری سائنس اور لمبی جدوجہد ہے، جو شاید ایک عام فارمر کے بس میں نہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

سید جعفر شاہ گیلانی کہتے ہیں ہمارے باغ میں آم کی کافی ورائٹی لگی ہوئی ہے، جس میں چونسہ، انور ریٹول، کالا چونسہ وغیرہ شامل ہیں لیکن جو درخت سارا سال پھل دیتے ہیں ان پر دوسرے درختوں کی نسبت زیادہ محنت ہوتی ہے۔

’ہمارے والد محترم کو یہ درخت ان کے سندھ کے زمیندار دوستوں نے تحفے میں دیے تھے۔ سندھ کے زمینداروں نے پنجاب سے پہلے ہی یہ اپنے فارمز اور باغوں میں لگا رکھے ہیں۔‘

سید جعفر شاہ گیلانی کہتے ہیں کہ ’آم کی دوسری ورائٹی پانچ، سات سال میں پھل دینا شروع ہو جاتی ہیں جبکہ بارہ ماسی اس سے دوگنا وقت لیتا ہے۔‘

آم

’بارہ ماسی کا درخت کیسے لگایا جاتا ہے؟

سندھ ایگری کلچر سرچ سینڑ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر نور محمد بلوچ کے مطابق یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ پاکستان میں بارہ ماسی اصل میں سندھ کا درخت اور پھل ہے۔

’اس کو پاکستان میں سب سے پہلے ہمارے ہی ادارے کے سابق ڈائریکٹر جنرل مرحوم پاشا جیگدار نے سنہ 2007 میں متعارف کروایا تھا۔ انھوں نے اس کے سات، آٹھ درخت تیار کیے تھے، جس کے بعد اب ان کی تعداد کافی بڑھ چکی ہے۔ میرپور خاص اور سندھ کے کئی فارمز یہ پھل حاصل کر رہے ہیں۔ سندھ میں آموں کی ہونے والی ہر نمائش میں ہم بارہ ماسی کو پیش کرتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’آموں کی اب 48 اقسام ہیں اور جدید دور میں یہ کوئی حیرانگی کی بات نہیں کہ سردیوں میں بھی آم مل رہا ہو۔ بارہ ماسی کا جوان درخت چالیس فٹ لمبا اور کافی پھیلا ہوا ہوتا ہے۔ ‘

ڈاکٹر نور محمد بلوچ کہتے ہیں بارہ ماسی کے لیے کرافٹنگ، ڈرافٹنگ کی جاتی ہے۔

ڈاکٹر ذوالفقار کہتے ہیں کہ پاکستان میں عموماً ہر آم کی ورائٹی کی قلم ہی لگتی ہے اور اسی طرح بارہ ماسی کے درخت کی بھی قلم لگائی جاتی ہے۔

’کسی بھی آم کے درخت پر بارہ ماسی کے درخت کی قلم لگا کر اس کو بارہ ماسی کے درخت میں تبدیل کیا جاتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ایسے فارمر جو بارہ ماسی لگانا چاہتے ہیں، وہ بارہ ماسی کی گھٹلی لگا کر اس کے درخت کو بڑا کریں اور پھر اس کی قلمیں بنا کر آم کے کسی بھی درخت پر لگا کر اس کا پھل حاصل کریں۔

’آم کی باقی اقسام کے مقابلے میں یہ درخت جوان ہونے میں تقریباً دوگنا وقت لیتا ہے۔ اس پر محنت، دیکھ بھال بھی باقی کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔‘

آم

بارہ ماسی کی کمرشل ویلیو

ملتان مینگو گروور ایسوسی ایشن کے صدر طارق خان کے مطابق انھیں نہیں لگتا کہ سردیوں کی اس ورائٹی کے لیے مارکیٹ میں کوئی گنجائش موجود ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’سادہ سی بات ہے کہ آم کھانے کا دل کب کرتا ہے تو اس کا جواب ہے کہ جون، جولائی میں جب گرمیاں عروج پر ہوتی ہے۔‘

’اس وقت ہی آم کی طلب عروج پر ہوتی ہے۔ عموماً اس وقت ہی زیادہ تر اقسام مارکیٹ میں آ جاتی ہیں۔ اس وقت ہی اس کی مارکیٹنگ کا پورا نیٹ ورک فعال ہوتا ہے۔ جس میں مزدور سے لے کر پرچوں فروش تک کام کر رہا ہوتا ہے۔‘

طارق خان کے مطابق آم گرمیوں کا موسمی پھل ہے۔ اس وقت ہی اس کے ساتھ جڑا سارا نظام فعال ہوتا ہے۔ وہ ہی نظام پھر دوسرے پھلوں کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔

سندھ کے فارمر محمود نواز شاہ کے مطابق یہ بات تو ٹھیک ہے کہ سندھ کے بعد اب یہ پنجاب کے فارمز تک بھی پہنچ چکا ہے مگر اس کی پیدوار بہت محدود ہے۔

’یہ کچھ فارمرز نے اپنے شوق، تحقیق وغیرہ کے لیے لگایا ہوا ہے۔ اس پر سے پھل بھی اتنا نہیں آتا کہ اس کی کوئی مارکیٹنگ کی جا سکے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹنگ کے لیے لازمی ہے کہ اس کو مناسب مقدار میں مارکیٹ تک پہچایا جا سکے۔ ’ابھی تو اگر کچھ فارمرز نے یہ لگایا ہوا ہے وہ اگر ایک آدھ ایکٹر پر ہے بھی تو اس کی اتنی مقدار دستیاب نہیں، جو مارکیٹنگ کے لیے موزوں ہو۔‘

محمود نواز شاہ کہتے ہیں کہ فی الحال تو نہیں لگتا کہ اس وقت اور موجودہ صورتحال میں اس کی مارکیٹنگ ممکن ہو سکے گئی۔

سید جعفر شاہ گیلانی کا کہنا تھا کہ ہم اس وقت کوشش کر کے بارہ ماسی کے کاشت کے رقبے کو بڑھائیں گے، جس کے بعد شاید اس کی مارکیٹنگ ممکن ہو سکے۔

’ہمیں دیکھ کر کوئی اور لوگ بھی اس کی کاشت کو بڑھائیں۔ جس کے بعد ممکنہ طو ر پر آم سارا سال دستیاب ہو سکے گا۔ ابھی تو فی الحال یہ ہماری اپنی ضرورت اور شوق ہی پورا کر رہا ہے۔‘