دفتر میں ’دوست نما دشمن‘ آپ کے لیے باعث پریشانی کیوں ہوتے ہیں

دفتر، خواتین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ڈیوڈ رابسن
    • عہدہ, سائنسی امور کے مصنف

آپ اور آپ کے دفتر کے ساتھیوں کے درمیان نفرت و محبت کا ایک مبہم سا رشتہ ہوتا ہے۔ یہ غیر واضح دوستی نما رشتہ ہمیں اتنا زیادہ پریشان کیوں کرتا ہے؟

قریبی ساتھیوں کے درمیان لوگوں کے دو گروہوں کو تلاش کرنا آسان ہے، حقیقی دوست، جو دفتر میں کام کے ہر دن کو قدرے بہت روشن اور پیارا بنا دیتے ہیں اور آپ کے پکّے دشمن۔۔۔ وہ لوگ جو جان بوجھ کر آپ کی زندگی کو بغیر کسی وجہ کے مشکل بنا دیں گے لیکن ان دونوں اقسام کے درمیان باقی ساتھیوں کو آپ کیا کہیں گے؟

یہ ساتھی آپ کی پریشانیوں پر ہمدردی کا اظہار کر سکتے ہیں لیکن پھر کہیں اور جا کر آپ کی پیٹھ کے پیچھے ان کے بارے میں باتیں بنائیں گے یا وہ اپنے انداز کی تنقید سے آپ کا دفاع کریں گے لیکن پھر ایک مشترکہ پراجیکٹ کا سارا کریڈٹ تنہا خود لے لیں گے اور بغیر کسی ندامت کے آپ کے اس مشترکہ پراجیکٹ میں تعاون کو سرے سے مٹا دیں گے۔

یہ وہ ساتھی ہوتے ہیں جو مدد کرتے ہیں لیکن اتنی ہی تکلیف بھی دیتے ہیں۔ یہ وہ دوست نما دشمن (فرینمیز)، یا ’مبہم تعلقات‘ ہوتے ہیں جن کے بارے میں ہم بات کر رہے ہیں۔

ماضی میں دفتری ماحول میں کام کی جگہ کے ماہرینِ نفسیات نے ہمارے سوشل نیٹ ورکس کے بہت سے مبہم شعبوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ہمارے دوست نما دشمن ساتھیوں سے ہمارے تعلقات کے بارے میں ایک واضح قسم کا ’سیاہ اور سفید‘ نظریہ اختیار کیا تھا۔

اس کے باوجود تازہ ترین تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ہمارے دوست نما دشمن یکساں طور پر اہم ہیں۔ ہماری صحت، تندرستی اور کام کی جگہ پر ہمارے رویے کے لیے منفرد نتائج کے ساتھ، اگر زیادہ نہیں تو اس ماحول کی کسی بھی انتہا کے لوگوں سے زیادہ اہم ہیں اور ان رشتوں کی پیچیدگیوں کو سمجھ کر ہم سب دفتری سیاست کو زیادہ سمجھداری کے ساتھ نمٹنا سیکھ سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ ممکنہ طور پر ان کی وجہ سے پیدا ہونی والی پریشانی کے تناؤ کو کم کرنا بھی سیکھ سکتے ہیں۔

دوست

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اچھا، برا اور بدصورت

اس میں کوئی شک نہیں کہ سچے دوست ہماری مجموعی صحت اور تندرستی کے لیے بے پناہ فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔

اس بارے میں ایک بہت بڑا سائنسی تحقیقی ادب اب ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے سماجی روابط ہماری خود اعتمادی کو بڑھا سکتے ہیں اور ہمیں زیادہ تیزی سے اعصابی تناؤ سے صحت یاب ہونے میں مدد دے سکتے ہیں۔

اس سے نہ صرف ہماری ذہنی بیماری کا خطرہ کم ہوتا ہے بلکہ جسمانی بیماری اور موت کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ ہماری زندگی میں مکمل طور پر منفی تعلقات کے اثرات بہت خراب بنتے ہیں: تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ نفسیاتی طور پر بدسلوکی کرنے والے ساتھی یا خاندان کے افراد ہماری مجموعی صحت کے لیے بہت زیادہ نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔

یہ صرف پچھلی ایک دہائی کے اندر کی بات ہے کہ سائنسدانوں نے ان دو قسم کے لوگوں کے درمیان ایک فرق دیکھنا شروع کر دیا ہے: وہ دوغلے تعلقات جن کے اچھے اور برے پہلو ہو سکتے ہیں اور ہماری زندگیوں پر ان کے اثرات کیا بنتے ہیں۔

اس تحقیق کے لیے انھوں نے سادہ سوال نامے تیار کیے ہیں جو اس تحقیق کے شرکا سے یہ معلوم کرتے ہیں کہ ان کا ایک دوست درجہ بندی کرنے والے سکیل 1 (بالکل نہیں) اور سکیل 6 (بہت اچھا) کے پیمانے کے لحاظ سے کتنا مددگار اور کتنا پریشان کن ہے۔

ہر سوال کے جواب پر انحصار کرتے ہوئے محققین اس بات کا تعین کر سکتے ہیں کہ آیا ان کا اس دوست کے ساتھ تعلق تعاون کے لیے ہے، نفرت انگیز یا دوغلا ہے۔

امریکہ کی برگھم ینگ یونیورسٹی میں سائیکالوجی اور نیورو سائنس کی پروفیسر جولیان ہولٹ لنسٹڈ کے مطابق، ایک تعاون کرنے والا دوست مثبت خصلت پر 2 یا اس سے زیادہ اور منفی خصلت پر 1 سکور کرے گا، جبکہ ایک نفرت انگیز دوست اس کے برعکس ہو گا۔ ایک مبہم رشتہ یا دشمنی، دونوں حالتوں میں اس خصوصیت والا ساتھی کم از کم 2 سکور کرے گا۔

ان درجہ بندیوں کا استعمال کرتے ہوئے ہالٹ لنسٹڈ جیسے محققین پھر اس بات کی شناخت کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ ’فرینمی‘ (دوست نما دشمن) کے بارے میں ہمارے رد عمل دوسری قسم کے رشتوں سے کیسے مختلف ہیں۔

دفتر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

آپ بھولے پن سے یہ امید کر سکتے ہیں کہ دوغلی دوستی کے اثرات تعاون والے رشتے اور نفرت انگیز تعلق کے درمیان ہوں گے: یعنی ایک اچھائی دوسری برائی کو صرف منسوخ کر دیتی ہے اور اس طرح اس ماحول میں مجموعی نتیجہ اور اثر غیر جانبدار ہوگا لیکن ایسا نہیں ہوتا۔

پچھلے 10 سال میں متعدد تجربات میں، ہالٹ لنسٹڈ نے ثابت کیا کہ دوستانہ تعلقات کے ساتھ ہمارا ایک دوسرے کے ساتھ میل جول یا تعاملات، تعاون اور نفرت انگیز تعلقات کے مقابلے میں، ہمارے تناؤ کے ردِّعمل کو زیادہ بڑھا سکتے ہیں اور طویل مدت کے دوران ایسا لگتا ہے کہ یہ بدتر حالت ہماری قلبی صحت کو بگاڑتی ہے۔

اس مسئلے کے بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں دی جا سکتی کیونکہ ہر ایک شخص کی ایک اپنی موروثی پیچیدگی بھی ہوتی ہے جو اس بارے میں غیر یقینی صورتحال پیش کرتی ہے۔

ہم اپنے ساتھیوں کی تائید یا حمایت کے خواہاں ہو سکتے ہیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ آئندہ نہیں ہو سکتا ہے، اس لیے ہم مسلسل ایک غیر یقینی صورت حال میں پھنسے رہتے ہیں اور اگر وہ بری طرح سے جواب دیتے ہیں تو ان کا جارحانہ رویہ یا ان کی عدم دلچسپی، ہمیں کسی ایسے شخص کے رویے سے کہیں زیادہ تکلیف دے گی جسے ہم صرف ناپسند کرتے ہیں۔

ہالٹ لنسٹڈ، جنھوں نے حال ہی میں اپنی تحقیق کے نتائج کا خاکہ پیش کرتے ہوئے ایک مضمون شائع کیا، کہتی ہیں کہ ’اگرچہ تعلقات کے معیار کی اہمیت کو زیادہ تسلیم کیا گیا ہے لیکن اب بھی یہ تاثر موجود ہے کہ یہ صرف منفی بمقابلہ مثبت اہمیت رکھتے ہیں۔ ابھی بھی یہ معاملہ کہ منفی اور مثبت دونوں پہلوؤں والا تعلق کس طرح ہماری صحت اور ہماری خیر و عافیت کو متاثر کرتا ہے، اسے تاحال اہم نہیں سمجھا گیا۔‘

کام

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کام پر دوست نما دشمن (فرینمی)

اگر عام طور پر دوست نما دشمنوں کو کار آموز سمجھا جاتا ہے، تو کام کی جگہ کی سیاست میں ان کے کردار کو اور بھی کم سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک باعثِ شرم بات ہے کیونکہ بہت سے ملازمت کے ماحول خاص طور پر مبہم تعلقات کی تخلیق اور بحالی کے لیے کافی موزوں ہو سکتے ہیں۔

امریکی شہر چیپل ہِل میں یونیورسٹی آف نارتھ کیرولینا میں تنظیمی رویے کے مطالعے کی ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر، شمول میلوانی کہتی ہیں کہ ’کئی آرگنائزیشنز اکثر ہمیں ان لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے پر مجبور کرتی ہیں جنھیں ہم خود اپنے سوشل نیٹ ورکس میں رکھنے کا انتخاب نہیں کرتے۔‘

کچھ معاملات میں یہ پیشہ ورانہ مسابقت کا احساس ہے جو کام کرنے والے تعلقات میں منفی خیال کو داخل کرتا ہے۔

مثال کے طور پر آپ کو اپنا ایک ساتھی بہت پیارا لگ سکتا ہے اور آپ خوشی خوشی ان کے ساتھ مشروب پینے جائیں گے۔ پھر بھی جب وہ آپ کی طرح پروموشن کے لیے درخواست دیتے ہیں تو آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔

نومی روتھمین، جو بیتھلہم، پنسلوانیا، امریکہ میں لیہائی یونیورسٹی میں مینجمنٹ کی ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں، کہتی ہیں کہ ’یہ معمول کی بات ہے کہ لوگ آگے بڑھنا چاہتے ہیں لیکن ایک ہی وقت میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ بھی جانا چاہتے ہیں۔‘

میلوانی اور روتھمین نے حال ہی میں ایک تحقیقی سیریز پر مل کر کام کیا جس میں ان حرکیات کا مزید تفصیل سے جائزہ لیا گیا جس کے نتائج ستمبر سنہ 2021 میں شائع ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے

ایک تجربے کے لیے انھوں نے سب سے پہلے اس تحقیق کہ شرکا سے کہا کہ وہ ایک ’فاسٹ فرینڈز پروسیجر‘ (تیزی سے دوست بنانے کے عمل) میں شامل ہوں جس میں کسی مکمل اجنبی کو ذاتی سوالات کا جواب دینا شامل ہے، جیسے کہ ان کی قابل فخر کامیابیوں کی فہرست، وغیرہ۔

ان ابتدائی بات چیت کے بعد شرکا سے کہا گیا کہ وہ اپنے ادارے کے بارے میں ایک بلاگ پوسٹ لکھیں جس کے بعد ان کے ساتھی نے اُس میں ترمیم کی۔ پھر انھیں اپنے ساتھی کی کارکردگی کے بارے میں، دونوں براہ راست اس شخص کو اور نجی طور پر محققین کو، تحریری تاثرات فراہم کرنے کا موقع دیا گیا۔

جیسا کہ توقع کی گئی تھی ابتدائی بات چیت نے تیزی سے بننے والے تعلقات کی نوعیت کو تشکیل دیا جبکہ مثبت یا منفی باتوں کی حوصلہ افزائی کرنے والے سوالات نے تعاون کرنے والے یا نفرت انگیز تعلقات پیدا کیے۔

دفتر، دوستی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مثال کے طور پر ’فرینیمیز‘ نے نفرت انگیز گروپوں اور تعاون کرنے والے گروپوں، دونوں کے مقابلے ایک دوسرے کی تحریر میں زیادہ ایڈٹنگ کرنے کی کوشش کی۔ میلوانی کا کہنا ہے کہ ’وہ واقعی اس سے بھی آگے بڑھ گئے جو ان سے کرنے کو کہا گیا تھا۔ اس کے باوجود وہ محققین کو منفی تاثرات دینے کا بھی زیادہ امکان رکھتے تھے۔بنیادی طور پر وہ محققین کی نظروں میں اپنے ساتھی کی ساکھ کو داغدار کرنا چاہتے تھے۔‘

یہ سمجھنا آسان ہے کہ نفرت انگیز شراکت داروں نے ایک دوسرے کے کام میں ترمیم کرنے کی کم سے کم کوشش کیوں کی، انھیں صرف پرواہ نہیں تھی جبکہ دشمنوں نے کم از کم خیر سگالی کے کچھ جذبات پیدا کیے تھے تاہم یہ حقیقت کہ مبہم شراکت داروں نے بھی خالص تعاون کرنے والے شراکت داروں سے زیادہ کوششیں کیں۔ یقیناً نئے نئے بنائے گئے ’بہترین دوستوں‘ کو سب سے زیادہ تعاون کرنے والا ہونا چاہیے تھا؟

میلوانی کو شبہ ہے کہ اضافی مدد سے دوست نما دشمن کو مبہم رشتوں میں پیدا ہونے والے تناؤ کو حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جھنجھلاہٹ اور پریشان ہونے کے باوجود بھی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’وہ نہیں چاہتے کہ یہ رشتہ مکمل طور پر منفی ہو جائے‘ اور اس لیے وہ اپنے ساتھی کے کام کو بہتر بنانے کے لیے اضافی کوشش کر کے اپنے برے احساسات کی تلافی کرتے ہیں۔

میلوانی اور روتھمین کی اگلی تحقیق نے امریکی ریٹیل ملازمین سے ان کے ساتھیوں کے بارے میں سوال کیا۔ اس نے محسوس کیا کہ مبہم تعلقات کی نوعیت کو قریبی تعلقات بنانے کا انحصار لوگوں کی اپنی خواہش پر ہوتا ہے۔ جتنے زیادہ لوگ اپنے دوست نما دشمن ساتھی (فرینمی) کے ساتھ تعلق قائم کرنا چاہتے تھے، اتنا ہی زیادہ امکان تھا کہ وہ اپنے ساتھی کی مدد کریں اور اس کے کام میں رکاوٹ بھی بنیں۔

دوسرے الفاظ میں مثبت ارادوں کا مطلب یہ تھا کہ تعلقات کا ہر عنصر، اچھا اور برا، زیادہ شدید تھا۔ میلوانی بتاتی ہیں کہ ’یہ رجحان ابہام کو مزید نمایاں کرتا ہے۔‘

گندگی صاف کرنا

میلوانی کا کہنا ہے کہ مینیجرز ان نتائج کو نوٹ کر سکتے ہیں۔ دفتروں کے مینیجرز اپنے دفتروں میں ساتھیوں کے درمیان مسابقت کے احساس کو کم کرنے کے لیے اقدامات تلاش کر سکتے ہیں، مثال کے طور پر جو ابہام کی وجوہات میں سے ایک کو جڑ سے اکھاڑ پھینک سکتے ہیں اور اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ تعلقات مزید تعاون والے رہیں۔

میلوانی کو امید ہے کہ فرد کے لیے ان حرکیات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی ہمارے مشکل ساتھیوں کو سنبھالنے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ یہ ضروری طور پر تسلیم کیے بغیر کہ ابہام ایک دیرپا نمونہ ہے اور تعلقات کی بنیادی خصوصیات میں سے ایک ہے، ہمارے پاس کافی مختصر یادیں ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ہمارے دفتر کے دوست کے لیے ہمارے جذبات کو ہمارے ساتھی کے تازہ ترین اقدامات سے آسانی سے متاثر کیا جا سکتا ہے۔

ایک بار جب ہمیں اس کا احساس ہو جاتا ہے تو پھر ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کون سے ایسے فوائد ہیں جو پریشان کرنے والے کاموں سے کہیں زیادہ ہیں، سود مند ہو سکتے ہیں اور پھر ہم یہ بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ شاید ہم ان کے احترام یا پیار کے بہت زیادہ محتاج ہیں۔

یاد رکھیں کہ میلوانی کی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ آپ کی قربت کی خواہش مبہم احساسات کو بڑھا دے گی اور اس طرح اگر آپ تعلقات کی وجہ سے بہت زیادہ تناؤ محسوس کرنا شروع کر رہے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ آپ اپنی توقعات میں یہ تسلیم کیے بغیر کہ ابہام ایک دیرپا نمونہ ہے اور تعلقات کی بنیادی خصوصیات میں سے ایک ہے، آپ اس میں قدرے زیادہ حقیقت پسند بننے کا ارادہ کر لیں، اس طرح آپ کی دوستی-نما دشمنی (فرینیمی) آپ کو ایک نیا موقع فراہم کرے گی۔

بعض اوقات ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ جب کوئی شخص کبھی بھی قریبی دوست نہیں ہو گا، تو اس کے باوجود بھی اُسے دوستوں کی فہرست میں رکھنا فائدہ مند ہے۔