نواز شریف: پاسپورٹ دینے کا فیصلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی حکومت نے جلاوطن وزیر اعظم نواز شریف کو پاسپورٹ جاری کرنے کی اجازت دے دی ہے اور اب نواز شریف چند روز میں اپنے بیمار بیٹے حسن نواز کے علاج کے لئے لندن چلے جائیں گے۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید نے اسلام آباد میں صحافیوں کو بتایا کہ نواز شریف کو پاسپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو پاکستان آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ نواز شریف کو سن دوہزار ایک میں پاکستان سے سعودی عرب جلا وطن کر دیا گیا تھا اور صدر جنرل پرویز مشرف نے دعوی کیا تھا کہ سابق وزیر اعظم دس سال تک پاکستان سے باہر ہی رہیں گے۔نواز شریف کی جماعت مسلم لیگ نواز کے رہنما اس معاہدے کی تصدیق نہیں کرتے۔ مسلم لیگ نواز کے ترجمان صدیق الفاروق نے بتایا کہ نواز شریف نے ان سے دو روز قبل بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ حسن نواز کی علالت کے سبب ان کے علاج کے لئے لندن جانا چاہتے ہیں۔ سعودی عرب کے شہر جدہ میں جب نواز شریف کے گھر فون کر کے ان سے اس بارے میں بات کرنے کی کوشش کی تو بتایا گیا کہ نواز شریف اس وقت مدینہ میں ہیں اور ان سے رابطہ ممکن نہیں ہے۔ | اسی بارے میں ’پاسپورٹ ہمارا آئینی حق ہے‘04 July, 2005 | پاکستان ’نوازشریف 2010 تک نہیں آ سکتے‘05 July, 2005 | پاکستان ’سپریم کورٹ تک جائیں گے‘05 July, 2005 | پاکستان میت کےساتھ نہ شہباز نہ نواز31 October, 2004 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||