BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 31 October, 2004, 03:22 GMT 08:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میت کےساتھ نہ شہباز نہ نواز
نواز شریف اور شہباز شریف
’نواز شریف اور شہباز شریف کے پاسپورٹ سعودی حکومت کے پاس ہیں‘
مکہ میں نماز جنازہ کے بعد میاں محمد شریف کی میت پی آئی اے کی ایک پرواز پر براستہ کراچی لاہور لائی جا رہی ہے۔

جدہ میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی خواجہ آصف نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ کوئی فلائٹ نہ ملنے کے باعث میاں محمد شریف کی میت اب پیر کے روز کراچی لائی جائے گی جہاں سے وہ لاہور منتقل کی جائے گی۔ انہیں نماز ظہر کے وقت دفنایا جائے گا۔

جدہ میں صحافی راشد حسین نے مسلم لیگی رہنما خواجہ آصف کے حوالے سے بتایا کہ سنیچر کو سعودی عرب میں پاکستانی سفیر نے اپنی ملاقات کے دوران شریف خاندان کو یہ پیشکش کی تھی کہ میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف اور بیگم کلثوم نواز کے علاوہ خاندان کے تمام افراد پاکستان جا سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی سفیر ریٹائرڈ ایڈمرل عبدالعزیز مرزا نے اپنی ملاقات کے دوران یہ واضح کیا کہ کیونکہ ان تینوں افراد کے پاسپورٹ سعودی عرب کی حکومت کے پاس ہیں اس لیے انہیں سعودی حکومت سے ہی رجوع کرنا چاہیے۔

راشد حسین نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پاکستانی سفیر نے کہا تھا کہ خاندان کے باقی افراد جدہ میں پاکستانی قونصلیٹ میں درخواست دے سکتے ہیں اور اس پر ہمدردانہ غور کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ نواز شریف نے اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کی حکومت کو کسی بھی قسم کی درخواست دینے سے معذوری ظاہر کی اور پاکستانی سفارتخانے کو بھی رات گئے تک کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی تھی۔ اتوار کے روز لاہور میں مسلم لیگ کے رہنماؤں نے بھی اس بات کی تصدیق کردی کہ شریف خاند نے نہ تو حکومتِ پاکستان اور نہ ہی حکومتِ سعودی عرب کو کسی قسم کی درخواست دی ہے۔

لاہور کے پریس کلب میں مسلم لیگ (ن)پنجاب کے صدر سردار ذوالفقار علی کھوسہ مسلم لیگ (ن)سندھ کے قائم مقام صدر امداد چانڈیواور دیگر مسلم لیگی عہدیداروں نے اتوار کی دوپہر ایک اخباری پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

سردار ذوالفقار علی کھوسہ نے کہاکہ پاکستان کے معزول وزیر اعظم میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی خواہش تھی کہ وہ اپنے والد میاں شریف کی تدفین خود اپنے ہاتھ سے کریں لیکن یہ کتنے شرم کی بات ہے کہ حکومت ایک وفات کو سیاسی رنگ دے رہی ہے۔

انہوں نے شریف خاندان کو میت کے ساتھ پاکستان آنے کی مشروط اجازت دینے کے لیے درخواست طلب کی تھی لیکن میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے والد کی تدفین میں شرکت کے لیے حکومت کو درخواست نہیں دیں گے اسی لیے اب میاں شریف کی میت کے ساتھ شریف خاندان کا کوئی فرد نہیں آۓ گااور شہباز شریف کے پاکستان میں پہلے سے موجود دو بیٹے سلمان شہباز اور حمزہ شہباز دیگر ہم وطنوں کے ساتھ ملکر ان کی تدفین کریں گے۔

سردار ذوالفقار علی کھوسہ نے کہاکہ میاں شریف کی میت پیر کو سحری کے وقت کراچی پہنچے گی اور وہاں سے آٹھ بجے روانہ ہوکر صبح ساڑھےنو بجے لاہور پہنچ جائے گی۔ میت کو مسلم لیگی داتا دربار لے جانا چاہتے ہیں جہاں نماز جنازہ کے بعد انہیں ان کی وصیت کے مطابق شریف میڈیکل سٹی میں سپرد خاک کیا جائےگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد