پاکستان پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو آٹھ برس کی خود ساختہ جلاوطنی کاٹنے کے بعد پاکستان واپس پہنچی اور ان کی واپسی کے دس گھنٹے کے بعد ہی ان کی ریلی میں خوفناک بم حملوں میں کم از کم 125 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ بی بی سی اردو کے رپورٹرز کی جانب سے اس سفر کا آنکھوں دیکھا حال:
| جمعہ کی صبح کے چار بجے، احمد رضا، کراچی (بینظیر کے ٹرک سے بی بی سی کے دفتر تک کا سفر) |
او خدا کیسے خوفناک دھماکے تھے۔ یقین نہیں آتا کہ بچ گئے۔ ہر طرف لاشیں ہی لاشیں تھیں۔ کوئی کچھ کہہ رہا تھا کوئی کچھ۔ کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ کوئی اسے خود کش حملہ کہہ رہا تھا اور کوئی ایجنسیوں کو دوش دے رہا تھا۔ پولیس کی پوری کی پوری گاڑی جل کر راکھ ہو گئی۔ شاید کوئی پولیس والا بھی نہ بچا ہو۔ ابھی تک سانس واپس نہیں آ رہے۔
بینظیر کی ریلی میں دو خوفناک دھماکے۔ پہلے ایک چھوٹا دھماکے اور اس کے بعد ایک زبردست دھماکہ۔ آخری خبریں آنے تک 125 افراد ہلاک ہو چکے تھے اور 250 سے زائد زخمی تھے۔
| دس بج کر اکیس منٹ، احمد رضا،کراچی (بینظیر بھٹو کے ہمراہ) |
جلوس کو ایئرپورٹ سے روانہ ہوئے قریباً آٹھ گھنٹے ہو چکے ہیں لیکن اب تک یہ جلوس شاہراہِ فیصل پر ائیر پورٹ سے قریباً پانچ کلومیٹر دور واقع ڈرگ روڈ ریلوے سٹیشن تک پہنچ سکا ہے۔ رات ہو جانے کے باوجود عوام کے جوش وخروش میں کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آئی ہے اور وہ بینظیر کے ٹرک کے گرد اور راستے میں رقص کرنے میں مصروف ہیں۔
| دس بجکر بجکر بیس منٹ: ریاض سہیل، مزارِ قائد، کراچی |
مزارِ قائد پر بینظیر بھٹو کے جلسے کے لیے بنائےگئے سٹیج سے اعلان کیا جا رہا ہے کہ بینظیر بھٹو پانچ چھ گھنٹے میں جلسہ گاہ پہنچ جائیں گی۔ تاہم پی پی پی کے مرکزی رہنما تاج حیدر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بینظیر بھٹو صبح چھ بجے تک ہی جلسہ گاہ پہنچ پائیں گی۔
| دس بجکر دس منٹ: ریاض سہیل، مزارِ قائد، کراچی |
اگرچہ بینظیر بھٹو کا جلوس ابھی مزارِ قائد سے خاصا دور ہے تاہم مزارِ قائد پر پیپلز پارٹی کا جلسہ شروع ہوگیا ہے اور پیپلز پارٹی کے ضلعی رہنماؤں کی تقاریر سے جلسے کی کارروائی کا آغاز ہوا ہے۔
| نو بجکر چار منٹ: ریاض سہیل، مزارِ قائد، کراچی |
مزارِ قائد پر بینظیر بھٹو کے جلسے کے لیے بنائے گئے سٹیج کے گرد سو فٹ کا ریڈ زون قائم کیا گیا ہے اور کسی کو بھی اس ایریا میں آنے کی اجازت نہیں ہے۔ پی پی پی کے رنگوں کی ٹی شرٹیں پہنے پارٹی کے سکیورٹی سٹاف کسی کو بھی سٹیج کے قریب نہیں آنے دے رہے تھے۔
| آٹھ بج کر چالیس منٹ، احمد رضا،کراچی (بینظیر بھٹو کے ہمراہ) |
جہاں جہاں سے جلوس گزرتا جا رہا ہے وہاں لگے استقبالیہ کیمپ خالی ہو رہے ہیں اور لوگ مزارِ قائد میں ہونے والے جلسے میں شامل ہونے کے لیے جلوس میں شامل ہو رہے ہیں۔
| سات بجکر چالیس منٹ: ریاض سہیل، مزارِ قائد، کراچی |
بینظیر بھٹو کے جلسے کے پیشِ نظر مزارِ قائد پر عام شہریوں کے لیے داخلہ ٹکٹ جمعرات کو چار بجے ختم کر دیا گیا جس کے بعد پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد وہاں پہنچنا شروع ہو گئی۔ پیپلز یوتھ کے کارکنوں نے کئی سو میٹر لمبے بینر کے ساتھ مزارِ قائد پر حاضری دی ہے۔ یہ بینر اتنا طویل ہے کہ یہ شاہراہِ قائدین سے مزارِ قائد تک پھیلا ہوا ہے۔
| سات بجکر چھبیس منٹ: ریاض سہیل، مزارِ قائد، کراچی |
مزارِ قائد پر بینظیر بھٹو کے جلسے کے لیے بنائے گئے پنڈال میں انقلابی گانے بجائے جا رہے ہیں اور وہاں لگائی گئی بڑی بڑی سکرینوں پر ذوالفقار علی بھٹو کی تقریریں چلائی جا رہی ہیں۔ اگرچہ بینظیر بھٹو کا جلوس سٹارگیٹ کے پاس ہے لیکن پی پی کے کارکن بڑی تعداد میں مزارِ قائد پر جمع ہو چکے ہیں۔ ان میں ایک اچھی خاصی تعداد خواتین کارکنوں کی ہے۔
| سات بجکر سات منٹ، احمد رضا،کراچی (بینظیر بھٹو کے ہمراہ) |
بینظیر بھٹو کے جلوس نے ائیرپورٹ سے سٹار گیٹ تک کا فاصلہ تین گھنٹے سے زائد وقت میں طے کیا ہے اور بالاخر ان کا جلوس شاہراہِ فیصل پر پہنچ گیا ہے۔ جب جلوس سٹار گیٹ پہنچا تو پی پی پی کے کارکنوں نے غبارے اور کبوتر فضا میں چھوڑ کر خوشی کا اظہار کیا۔ جلوس کی سست روی کی وجہ وہ جمِ غفیر ہے جو بینظیر کے ٹرک کوگھیرے ہوئے ہے اور کارکن ٹرالر کے سامنے رقص اور نعرے بازی کر رہے ہیں۔اگرچہ سورج غروب ہونے کے بعد اندھیرا چھا گیا ہے تاہم بینظیر حفاظتی دیوار کے پیچھے نہیں گئی ہیں اور عرشے پر ہی موجود ہیں۔
| پانچ بجکر تیس منٹ: ارمان صابر، کراچی |
سٹار گیٹ کے قریب سکیورٹی ڈیوٹی پر موجود پیپلز پارٹی کا ایک رضا کار دم گھٹنے سے ہلاک ہوگیا۔ عبدالحمید نامی یہ شخص گل محمد لین لیاری کا رہنے والا تھا۔
| پانچ بجکر پچیس منٹ: احمد رضا، کراچی (بینظیر بھٹو کے ہمراہ) |
جلوس اتنی سست روی سے چل رہا ہے کہ اسے چلے ہوئے ڈیڑھ گھنٹہ ہو چکا ہے اور یہ ابھی تک ائیرپورٹ کی حدود سے باہر نہیں آیا۔بینظیر بھٹو کچھ دیر کے لیے جلوس کے لیے خصوصی طور پر بنائے گئے ٹرالر کے اندر چلی گئیں اور جب وہ عرشے پر واپس آئیں تو پی پی کارکنوں نے زبردست نعروں سے ان کا استقبال کیا۔
| چار بجکر پچاس منٹ: احمد رضا، کراچی (بینظیر بھٹو کے ہمراہ) |
بینظیر بھٹو کی سربراہی میں پی پی پی کا جلوس بہت سست روی کے ساتھ مزارِ قائد کی طرف رواں دواں ہے۔ جلوس کی رفتار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بی بی کے ٹرک نے آدھ کلومیٹر کا فاصلہ ایک گھنٹے میں طے کیا ہے۔
| چار بج کر پانچ منٹ، احمد رضا، کراچی (بینظیر کے ہمراہ)۔ |
کراچی ائیرپورٹ کے ٹرمینل نمبر ایک سے باہر آنے کے بعد بینظیر بھٹو کے ٹرک نے آدھےگھنٹے میں ایک سو میٹر کا فاصلہ طے کیا ہے۔بینظیرتمام طرح کی سکیورٹی وارننگ کو نظرانداز کر کے بلٹ پروف شیشے کے پیچھے نہیں کھڑی ہوئی ہیں بلکہ ٹرک کے عرشے پر موجود ہیں۔ نعرے بازی کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیراعظم بینظیر سب سے مقبول نعرہ ہے اور وہ ہاتھ ہلا ہلا کر نعروں کا جواب دے رہی ہیں۔
| تین بجکر اکیاون منٹ: احمد رضا، کراچی ائیر پورٹ |
بینظیر بھٹو کے سربراہی میں پی پی پی کے جلوس کا آغاز ہوگیا ہے۔ وہ ٹرک جس پر پی پی پی کی قیادت سوار ہے اس نے آگے بڑھنا شروع کر دیا ہے۔ بی بی کے ٹرک کے آگے پیچھے سکیورٹی کی گاڑیاں ہیں۔ میڈیا کا ٹرک بھی بی بی کے ٹرک سے پچاس میٹر کے فاصلے پر چل رہا ہے۔ جیسے جیسے بی بی کا ٹرک آگے بڑھ رہا ہے پی پی پی کے کارکنوں کا جوش و خروش بھی بڑھ رہا ہے۔
| تین بجکر انتالیس منٹ: احمد رضا، کراچی ائیر پورٹ |
بینظیر اور ان کے ساتھ ٹرک میں سوار پی پی پی کے مرکزی قائدین ہاتھ ہلا کر کارکنوں کے نعروں کا جواب دے رہے ہیں۔ پی پی پی کے روایتی سکیورٹی گارڈ بھی ٹرک کے ساتھ لٹکے ہوئے نظر آرہے ہیں جبکہ کارکنوں کا ایک جمِ غفیر اس ٹرک کے چاروں طرف موجود ہے۔
| تین بجکر اکتیس منٹ: احمد رضا، کراچی ائیر پورٹ |
بینظیر بھٹو ہوائی اڈے کی عمارت سے باہر آ کر خصوصی طور پر تیار کیے گئے بلٹ پروف ٹرک پر سوار ہو گئی ہیں۔ ٹرک پر ان کے ہمراہ مخدوم امین فہیم، یوسف رضا گیلانی، شاہ محمود قریشی، قائم علی شاہ اور پیپلز پارٹی کے دیگر رہنما بھی سوار ہیں۔
| تین بجکر انتیس منٹ: احمد رضا، کراچی ائیرپورٹ |
ٹرمینل ون کے باہر پی پی پی کے کارکن بینظیر بھٹو کے باہر آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ جب بھی وی آئی پی لاؤنج کی طرف سے کوئی حرکت ہوتی ہے تو جیالوں کا جوش و خروش بڑھنے لگتا ہے اور وہ بے اختیار نعرے لگانے لگتے ہیں اور جب تھوڑی دیر تک کچھ نہیں ہوتا تو ان کا جوش بھی ماند پڑنے لگتا ہے۔
| تین بجکر انیس منٹ: اعجاز مہر، کراچی ائیرپورٹ |
بینظیر بھٹو ابھی تک وی آئی پی لاؤنج میں موجود ہیں جبکہ پی پی پی کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد ائیرپورٹ کے باہر ان کی منتظر ہے۔ بینظیر بھٹو کے ساتھ آنے والے میڈیا کے نمائندے بھی دو ٹولیوں میں بٹ گئے ہیں۔ ایک گروپ جو بی بی کے ساتھ ان کی کوسٹر میں سوار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا وہ ابھی تک وی آئی پی لاؤنج میں ہے جبکہ دیگر صحافی عام لاؤنج میں ان کے وی آئی پی لاؤنج سے باہر آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔
| تین بجکر پانچ منٹ: ریاض سہیل، مزار قائداعظم |
قائداعظم محمد علی جناح کی مزار پر اب لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے شاہراہ فیصل بلاک ہونے کی وجہ سے لوگوں نے ایئرپورٹ کے بجائے یہاں کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔ کارکنوں کا زبردست جوش وخروش دیکھنے میں آ رہا ہے خواتین بھی اس میں ان کے ساتھ شریک ہیں۔
| دو بجکر پینتالیس منٹ: اعجاز مہر، کراچی ائیرپورٹ |
بینظیر بھٹو کے ساتھ دبئی سے کراچی تک سفر کرنے والے عام مسافر پرواز سے اترنے کے بعد ائیرپورٹ پر محصور ہو کر رہ گئے ہیں کیونکہ عام پرائیویٹ گاڑیوں کو ائیرپورٹ تک نہیں آنے دیا گیا۔
| دو بجکر چوبیس منٹ: احمد رضا، کراچی ائیرپورٹ |
بینظیر بھٹو کے کراچی ائیرپورٹ پر پہنچنے کے ساتھ ہی ٹرمینل ون کے باہر موجود پی پی پی کے کارکنوں کے جوش و خروش میں اضافہ ہو رہا ہے۔پی پی پی کا محافظ دستہ کارکنوں کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن وہ پیچھےہٹنے کو تیار نہیں۔
| دو بجکر پندرہ منٹ: اعجاز مہر، کراچی ائیرپورٹ |
بینظیر بھٹو کو طیارے سے اتار کر ایک کوسٹر کے ذریعے عام لاؤنج کے بجائے وی آئی پی لاؤنج کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ انہیں مکمل پروٹوکول دیا جا رہا ہے اور پولیس کی گاڑیاں اور فائر بریگیڈ کی گاڑی ان کی کوسٹر کے ساتھ چل رہی ہیں۔
| دو بج کر دس منٹ: نوڈیرو لاڑکانہ، علی حسن |
جیسے ہی بینظیر بھٹو کو لانے والے طیارے نے کراچی کے رن وے کو چھوا، بھٹو خاندان کے آبائی گاؤں نوڈیرو میں انکی رہائش گاہ پر موجود جیالوں نے ہوائی فائرنگ کر کے اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ فائرنگ کا سلسلہ کافی دیر جاری رہا اور اس موقع پر ’ اج تے ہوگئی بھٹو بھٹو‘ کے نعرے لگائے گئے۔
| دو بجکر سات منٹ: اعجاز مہر، کراچی ائیرپورٹ |
بینظیر بھٹو کے طیارے کی کراچی آمد کے موقع پر ایک سکیورٹی ہیلی کاپٹر مسلسل ہوائی اڈے کے اوپر پرواز کر رہا ہے۔
| دو بجکر تین منٹ: اعجاز مہر، کراچی ائیرپورٹ |
بینظیر بھٹو کی پرواز کے کراچی ائیرپورٹ پہنچنے پر قومی ائیرلائن پی آئی اے کے ملازمین نے نعرے لگا کر ان کا استقبال کیا۔ تاہم ائیرپورٹ پر تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے انہیں جہاز کے قریب نہیں آنے دیا۔ بینظیر بھٹو نے خود آ کر اپنے کارکنوں سے کہا کہ وہ اپنی نشستوں پر بیٹھے رہیں اور میڈیا کو نیچے اترنے دیں۔
| ایک بجکر اڑتالیس منٹ: اعجاز مہر، کراچی ائیرپورٹ |
بینظیر بھٹو کی پرواز کے کراچی ائیرپورٹ پر اترنے پر پی پی پی کے کارکنوں نے زبردست نعرہ بازی کی جس پر جہاز کے پائلٹ نے طیارے کو رن وے پر ہی روک دیا۔ بعد میں پی پی پی کی قائد بینظیر بھٹو کی طرف سے یہ پیغام کارکنوں کو پہنچایا گیا کہ وہ خاموشی سے اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ جائیں۔ کارکنوں کے اپنی نشستوں پر بیٹھنے کے بعد جہاز دوبارہ حرکت میں آ گیا۔
| ایک بجکر چھیالیس منٹ: اعجاز مہر، کراچی ائیرپورٹ |
بینظیر بھٹو کا طیارہ پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بج کر پنتالیس منٹ پر کراچی کے ہوائی اڈے پر اتر گیا ہے۔
| ایک بجکر پچیس منٹ: ارمان صابر، کراچی |
ایئرپورٹ سکیورٹی فورس نے ایئرپورٹ کی اندرونی حدود میں سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں اور بینظیر بھٹو کی سکیورٹی کے لیے ایک پلاٹون کی بجائے چھ پلاٹون تعینات کی گئی ہیں جن مںی پندرہ سو اہلکار شامل ہیں۔ایئرپورٹ کی بیرونی سکیورٹی اے ایس ایف پولیس اور رینجرز کے ساتھ مل کر کر رہی ہے۔
| بارہ بجکر اٹھارہ منٹ: احمد رضا، کراچی ائیرپورٹ |
پی پی پی کارکنوں کی ایک بہت بڑی تعداد پولیس کی طرف سے کھڑی کی گئی رکاوٹیں توڑتی ہوئی ٹرمینل ون پہنچنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ پی پی پی کے ورکروں پر مشتمل ’جانثارِان بینظیر‘ اور ائیرپورٹ سکیورٹی فورس نے ایک حصار بنا کر پارٹی کارکنوں کو آگے جانے سے روک رکھا ہے۔ اس سے پہلے ٹرمینل ون تک صرف صحافیوں اور پارٹی کے عہدیداروں کو جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
| بارہ بجکر پندرہ منٹ: ریاض سہیل، شاہراہ فیصل |
شاہراہ فیصل اور ایم اے جناح روڈ پر تمام پٹرول پمپ بند ہیں، فلائی اوورز اور اونچی عمارتوں پر پولیس اہلکار تعینات ہیں۔شہر میں تمام مارکیٹیں اور نجی دفاتر بند ہیں جبکہ ایم اے جناح روڈ اور شاہراہ فیصل کے علاوہ شہر بھر کی سڑکیں ویران نظر آرہی ہیں۔
| گیارہ بجکر اٹھاون منٹ: اعجاز مہر، دبئی ائیرپورٹ |
بینظیر بھٹو کا طیارہ ستاون منٹ کی تاخیر کے بعد کراچی کی جانب روانہ ہو گیا ہے۔
| گیارہ بج کر پچاس منٹ: ارمان صابر، کراچی |
لوگوں کی بڑی تعداد نے اسٹار گیٹ کے قریب ٹرمینل ون کی جانب جانے والے راستے پر رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی ہے جس پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ تاہم لوگ رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے ٹرمینل ون کی جانب رواں دواں ہو گئے ہیں۔
| گیارہ بجکر چھیالیس منٹ: اعجاز مہر، دبئی ائیرپورٹ |
طیارے کی روانگی میں پنتالیس منٹ کی تاخیر ہو گئی ہے اور اب عملے کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ جب تک تمام مسافر اپنی مقررہ نشستوں پر نہیں بیٹھیں گے اس وقت تک جہاز پرواز نہیں کرےگا۔
| گیارہ بجکر تینتیس منٹ: نثار کھوکھر، سکھر |
ٹھٹھہ کی تحصیل ساکرو میں پی پی پی کے کارکنوں اور چانڈیو قبیلے کے درمیان ہونے والے تصادم میں تین پی پی پی کارکن زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمی ہونے والے میں ساکرو پی پی پی کے عہدیدار امید خان خاصخیلی شامل ہیں۔
| گیارہ بجکر تیس منٹ: اعجاز مہر، دبئی ائیرپورٹ |
پائلٹ نے زمینی عملے کوجہاز سے اترنے کا حکم دے دیا ہے اور طیارہ اب روانگی کے لیے تیار ہے۔
| گیارہ بج کر بیس منٹ، احمد رضا، کراچی |
کراچی ائیرپورٹ کے ٹرمینل نمبر ایک پر، جہاں سے بینظیر بھٹو کو باہر لایا جائے گا، سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات ہیں۔ ٹرمینل کی عمارت کے اردگرد اور چھت کے اوپر پولیس اور ائیرپورٹ سیکیورٹی فورس کے مسلح جوان تعینات ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے رضا کار سکیورٹی انتظامات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کر رہے ہیں۔ ٹرمینل نمبر ایک کے قریب صرف صحافیوں اور پیپلز پارٹی کے چیدہ چیدہ راہنماؤں کو جانے کی اجازت ہے جبکہ بینظیر کے استقبال کے لئے آنے والے جلوس ائیرپورٹ کے اردگرد کی شاہراہوں، پارکنگ اور خالی جگہوں پر براجمان ہیں۔
| گیارہ بجکر نو منٹ: اعجاز مہر، دبئی ائیرپورٹ |
طیارے میں موجود پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے نعرے بازی شروع کر دی ہے اور جہاز وزیراعظم بینظیر، جئے بھٹو اور گو مشرف گو کے نعروں سے گونج رہا ہے۔پارٹی کارکنوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ائیرلائن انتظامیہ کو سکیورٹی طلب کرنا پڑی ہے۔ پارٹی کی مرکزی رہنما ناہید خان نے پارٹی کارکنوں کو خاموشی سے اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھنے کی تاکید کی ہے۔
| گیارہ بجکر سات منٹ: اعجاز مہر، دبئی ائیرپورٹ |
بینظیر بھٹو جہاز پر سوار ہو چکی ہیں تاہم دبئی ائیر پورٹ سے امارات ائیرلائینز کی پرواز ای کے 606 کی روانگی میں معمولی تاخیر ہوگئی ہے۔ اس پرواز کو پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق گیارہ بجے روانہ ہونا تھا لیکن یہ ابھی تک روانہ نہیں ہو سکی۔
| گیارہ بج کر پانچ منٹ، شفیع نقی جامعی، کراچی |
بھٹو خاندان کی کراچی میں رہائشگاہ بلاول ہاؤس جائیں تو تین تلوار کے آگے کے راستے پر قدرے خاموشی اور ٹریفک کم کم نظر آر ہا ہے۔ بلاول ہاؤس پر لوگ جمع ہیں لیکن کوئی بڑی تعداد نہیں۔ قرب و جوار میں متعدد ایسی بسیں اور منی بسیں کھڑی ہیں جو عموماً پبلک ٹرانسپورٹ کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ بلوچ کالونی کی طرف شارع فیصل تک جاتے کھمبوں پر لگے پیپلز پارٹی کے جھنڈے ہوا کے سبب سجدہ ریز ہیں لیکن بینظیر والی ہورڈنگ تنی ہوئی ہیں۔
| دس بجکر باون منٹ: اعجاز مہر، دبئی ائیرپورٹ |
بینظیر بھٹو کے ساتھ کراچی تک کا سفر کرنے والے پارٹی کارکن اور میڈیا کے نمائندے جہاز میں سوار ہو چکے ہیں۔ بینظیر فرسٹ کلاس میں سفر کر رہی ہیں اور جہاز کے دیگر مسافروں میں پیپلز پارٹی کے چھنڈے کے رنگوں سے رنگی ٹوپیاں تقسیم کی گئی ہیں۔
| دس بجکر اڑتیس منٹ: ریاض سہیل، مزار قائد، کراچی |
مزارِ قائد کے خداداد چوک بینظیر بھٹو کے جلسے کے لیے تین کنٹینر کھڑے کر کے ایک بہت بڑا سٹیج بنایا گیا ہے۔ صحافیوں کے لیے چار کنٹینر کھڑے کر کے ایک الگ پلیٹ فارم بنایا گیا ہے۔ وہاں پر لاؤڈ سپیکروں پر پی پی پی کے ترانے بجائے جا رہے ہیں۔ منتظمین کے مطابق سٹیج کے قریب پچاس میٹر کے علاقے کو ریڈ زون قرار دیا گیا ہے جہاں کسی غیر متعلقہ شخص کو بھی جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔
| دس بجکر پچیس منٹ: نثار کھوکھر، سکھر |
بینظیر بھٹو کے استقبال کے لیے اندرونِ سندھ اور پنجاب سے قافلوں کی آمد کا سلسلہ رات بھر جاری رہا۔ پی پی پی کے رہنما عامر مگسی کے مطابق کراچی ٹول پلازہ کے پاس پارٹی ورکرز کو ٹھہرانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہاں پر دادو، لاڑکانہ، قمبر، شہداد پور، جھل مگسی اور دیگر علاقوں سے آنے والے کارکنوں کو ٹھہرایا گیا ہے۔
| دس بج کر پانچ منٹ: احمد رضا، کراچی ائیرپورٹ |
پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو کی کراچی آمد کے تاریخی قرار دیے جانے والے سیاسی واقعے کی رپورٹنگ کے لیے دنیا کے مختلف ملکوں اور پاکستان بھر سے آئے صحافی کراچی ائیرپورٹ پہنچ چکے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے فراہم کردہ خصوصی گاڑیوں کے ذریعے دو سو کے قریب یہ صحافی بینظیر کی آمد کی براہ راست کوریج کے لیےضروری سازو سامان کے ساتھ جناح ٹرمینل کے باہر موجود ہیں۔
| نو بجکر پچاس منٹ: اعجاز مہر، دبئی ائیرپورٹ |
بینظیر بھٹو کے ساتھ سفر کرنے والے پی پی پی کارکن اور میڈیا کے نمائندے دبئی ائیرپورٹ کے گیٹ نمبر اکیس کے قریب جمع ہو چکے ہیں۔ بینظیر بھٹو کی پولیٹیکل سیکریٹری ناہید خان نے تصدیق کی ہے کہ بینظیر بھٹو بھی روانگی کے گیٹ کے قریب موجود ہیں اور وہ بھی اکیس نمبر گیٹ سے ہی چیک ان کریں گی۔
| نو بج کر پنتالیس منٹ: احمد رضا، کراچی |
کراچی ائیرپورٹ کے گرد سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ ائیرپورٹ کے قریب کسی گاڑی کو جانے کی اجازت نہیں ہے اور مسافر سامان اٹھائے پیدل ائیرپورٹ کی جانب جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایئرپورٹ کی حدود میں سکیورٹی کی ذمہ داری ائیرپورٹ سکیورٹی فورس اور رینجرز نے سنبھال رکھی ہے جن کی مدد پیپلزپارٹی کے رضا کار کر رہے ہیں۔
| نو بج کر پینتالیس منٹ: ریاض سہیل ،کراچی |
پاکستان پیپلز پارٹی کے کئی رہنما جناح ٹرمینل پہنچ گئے ہیں، جن میں فخر امام، عابدہ حسین، فوزیہ وہاب، فہمیدہ مرزا، آغا سراج درانی شامل ہیں۔
| نو بجکر تیس منٹ: اعجاز مہر، دبئی ائیرپورٹ |
بینظیر بھٹو دبئی ائیر پورٹ کے لاؤنج میں پہنچ چکی ہیں۔ اب سے کچھ دیر پہلے پی پی پی کے رہنماء رحمٰن ملک نے پارٹی ورکرز اور میڈیا کے نمائندوں سے کہا تھا کہ بینظیر بھٹو دوسرے راستے سے لاؤنج میں پہنچیں گی، اس لیے سب لوگ اپنے بورڈنگ کارڈ حاصل کریں اور لاؤنج میں پہنچ جائیں۔
| نو بجکر تیس منٹ:ریاض سہیل کراچی |
بینظیر بھٹو کو درپیش خطرات کے پیش نظر خصوصی طور پر بنایا گیا بلٹ پروف کنٹینرصبح تک ائرپورٹ نہیں پہنچایا گیا تھا، جبکہ شاہراہ فیصل قافلوں کی وجہ سے بلاک ہوگئی ہے۔
| نو بج کر دس منٹ، احمد رضا، کراچی ائیرپورٹ۔ |
کراچی ائیرپورٹ پر پیپلز پارٹی کے کارکن بڑی تعداد میں پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ ائیرپورٹ کے پانچ کلومیٹر کے علاقے میں لوگ ہی لوگ نظر آ رہے ہیں۔ سڑک پر گاڑیاں چلنے کی بھی جگہ نہیں ہے۔ جو قافلے ملک کے دیگر علاقوں سے پہنچ رہے ہیں انہیں ائیرپورٹ سے چند کلومیٹر دور گاڑیوں سے اتر کر پیدل ائیرپورٹ تک جانا پڑتا ہے۔ ائیرپورٹ جانے والی بڑی سڑک شارع فیصل پر میلے کا سا سماں ہے۔ پیپلز پارٹی کے کارکن بے نظیر بھٹو کی تصویریں اٹھائے جگہ جگہ رقص کرتے نظر آ رہے ہیں۔ سڑک کنارے لگے استقبالیہ کیمپوں میں بھی بڑی تعداد میں لوگ موجود ہیں جو اپنی راہنما کے جلوس کا انتظار کر ہے ہیں۔
| نو بجکر تین منٹ: اعجاز مہر، دبئی |
اس وقت تک پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن دبئی کے انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر اکٹھا ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ وہ ویلکم بینظیر اور پی پی پی کے روایتی نعرے لگا رہے ہیں۔ بینظیر بھٹو ابھی تک ائیرپورٹ نہیں پہنچیں۔ ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ اب سے تقریباً آدھ گھنٹہ پہلے اپنے گھر سے ائیر پورٹ کے لیے روانہ ہو چکی ہیں۔ | |  |