’پہاڑوں سے رشتہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ کشمیر میں تعینات ایک انڈین فوجی کی ڈائری ہے جو آپ ہر ہفتے ہمارے صفحات پر پڑھ سکیں گے۔
کشمیر میں تعینات ہونے کی سب سے اچھی بات شاید یہ ہے کہ آپ روز صبح اٹھ کر ان خوب صورت پہاڑوں کو دیکھ سکتے ہیں جو نہ جانے کیسے ہر دن مختلف نظر آتے ہیں۔ کبھی رات میں ہوئی برف تو کبھی صبح کی پہلی کرنیں انہیں مختلف بنا دیتی ہیں۔ ان پہاڑوں سے میرا رشتہ کچھ سال پہلے اس دن شروع ہوا جب مجھے بتایا گیا کہ مجھے سیاچن جانا ہوگا۔ وہاں لوگوں کی ضرورت تھی اور کچھ اور ’تندرست‘ فوجیوں کے ساتھ میرا نام بھی آگے کر دیا گیا تھا۔ مجھے یہ سن کر پہلے دھچکہ لگا مگر پھر میں نے سوچا کہ ایسا موقعہ زندگی میں بار بار نہیں آتا اور میں نے جانے کی تیاری شروع کر دی۔ میری ماں خوش نہیں تھیں، اور خوش ہوتی بھی کیسے۔ سیاچن کو ایسے ہی دنیا کا سب سے اونچا اور سرد میدان جنگ نہیں کہا جاتا۔ لیکن اگر فوجیں ماؤں کے کہے پر چلتیں تو یہ دنیا آج بہت مختلف ہوتی۔ میرے پاس گھر تک جانے کا وقت نہیں تھا۔ جانے سے پہلے بس کچھ دوستوں سے ملاقات ہوئی۔ ایسا لگا کہ جانے کا وقت وقت سے پہلے آگیا اور ایک دن میں نے خود کو جہاز سے اترتے منفی درجہ حرارت میں لداخ کے ہوائی اڈے پر پایا۔ میرے دونوں طرف پہاڑ تھے اور نیلے آسمان کو دیکھنے کے لیے نظر واقعی بہت اوپر اٹھانی پڑتی۔ ہوا بھی مختلف تھی۔ سانس لینا مشکل تھا۔ چاروں طرف بالکل سبزہ نہیں تھا۔ میں نہیں جانتا تھا کہ اب کافی عرصے تک میں سبزہ نہیں دیکھ پاؤں گا۔ مجھے تقریباً ایک ہفتے کے لیے وہاں رہنا تھا تاکہ مجھے اس طرح کے موسم اور ہوا کی عادت ہو جائے اور اس کے بعد گلیشئر جانا تھا۔ پہلی رات بہت ٹھنڈ تھی۔ مگر مجھے بہت جلد اس حقیقت کا احساس ہو گیا کہ گلیشئر میں کبھی بھی ’حد سے زیادہ سردی‘ نہیں ہوتی۔ کیوں کہ چاہے کتنی بھی ٹھنڈ کیوں نہ ہو، اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ آہستہ آہستہ مجھے ان سب چیزوں کی عادت پڑنے لگی، سرد راتیں، مختلف ہوا، صبح اٹھ کر دیکھنا کہ آپ کا پانی برف بن گیا ہے، ہفتے میں ایک بار نہانا۔۔۔ فوجی ہونے کے بارے میں ایک اچھی بات یہ ہے کہ آپ کسی بھی چیز کی عادت ڈال لیتے ہیں۔ ایک ہفتے بعد میرا گلیشئر کی طرف سفر شروع ہو گیا۔ ایک حد کے بعد نظر آنے والا ہر شخص فوجی تھا اور ہر گاڑی فوج کی۔ مجھے اچانک احساس ہوا کہ میں ایک بڑے، کھلے جیل میں ہوں۔ میرا مطلب یہ ہے کہ اگر میں چاہتا بھی تو وہاں سے بھاگ نہیں سکتا تھا۔ سب سے قریب سولین بس سٹاپ دو سو کلو میٹر دور تھا۔ بیس کیمپ کی طرف جانے والی سڑک ایک ایسی شاہ رگ کی طرح تھی جس میں خون صرف ایک سمت میں بہتا ہے۔ ایسا نہیں کہ میں بھاگنا چاہتا تھا، مگر اس وقت گلیشئر کی طرف جاتے ہوئے میرے ذہن میں اپنی بےبسی کا یہ خیال ضرور آیا۔ خیر گلیشئر پر پہنچ گئے اور ٹریننگ شروع ہو گئی۔ کچھ بھی آسان نہیں تھا۔ میں ہمیشہ سمجھتا تھا کہ مجھ میں درد برداشت کرنے کی بہت قوت ہے۔ لیکن ٹریننگ کے دوسرے ہی دن مجھے اپنی خام خیالی کا احساس ہوا۔ اس دن آسمان بالکل صاف تھا۔ صاف آسمانوں کا مطلب ہمیشہ بہت زیادہ سردی ہوا کرتی ہے۔ رات بھی بہت سرد تھی۔ اتنی کہ ہماری ’کولڈ کریمز‘ ٹیوبز میں ہی جم گئی تھیں۔ گلیشئر پر ایکزرسائزز کرتے کرتے اچانک میری انگلیاں سن ہو گئیں۔ اور پھر درد شروع ہوا۔ ایسا درد کہ برداشت کرنا مشکل ہو گیا۔ ہماری ورزشیں جاری تھیں مگر میں بےبسی اور درد کے ایسے مقام پر پہنچ گیا تھا کہ مجھ سے بالکل برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ میں نے اپنی بندوق پھینک دی اور اپنے انسٹرکٹر سے کہا کہ ’بس میں اور نہیں کر سکتا۔‘ بعد میں پتہ چلا کہ اس وقت کے قریب درجہ حرارت منفی پچیس ڈگری تک پہنچ گیا تھا۔
رضا الرحمان، سعودی عرب: میں پہلے دن سے اس ّائری کا قاری رہا ہوں۔ اس سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ چٹان جیسی فوج کے دل میں بھی معصوم اور نازک جذبات ہوتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتے کہ اس ڈائری سے دونوں طرف کوئی تبدیلی آئے گی مگر کم از کم انڈیا اور پاکستان کے لوگوں کو یہ احساس تو ہو جانا چاہیے کہ دراصل وہ مختلف خیالات رکھنے والے دوست ہیں دشمن نہیں۔ سجاد الحسنین، حیدرآباد دکن: نامعلوم: انعام اللہ، امریکہ: شاہد مرزا، کراچی: محمد افضل گجر، سندھ: قاسم ربانی، پاکستان: نامعلوم، کینیڈا: شاہدہ اکرم، ابو ظہبی: |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||