BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 26 February, 2007, 17:42 GMT 22:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پہاڑوں سے رشتہ‘
’پہاڑوں سے رشتہ‘

یہ کشمیر میں تعینات ایک انڈین فوجی کی ڈائری ہے جو آپ ہر ہفتے ہمارے صفحات پر پڑھ سکیں گے۔



چھبیس جنوری، دو ہزار سات:

کشمیر میں تعینات ہونے کی سب سے اچھی بات شاید یہ ہے کہ آپ روز صبح اٹھ کر ان خوب صورت پہاڑوں کو دیکھ سکتے ہیں جو نہ جانے کیسے ہر دن مختلف نظر آتے ہیں۔ کبھی رات میں ہوئی برف تو کبھی صبح کی پہلی کرنیں انہیں مختلف بنا دیتی ہیں۔ ان پہاڑوں سے میرا رشتہ کچھ سال پہلے اس دن شروع ہوا جب مجھے بتایا گیا کہ مجھے سیاچن جانا ہوگا۔

وہاں لوگوں کی ضرورت تھی اور کچھ اور ’تندرست‘ فوجیوں کے ساتھ میرا نام بھی آگے کر دیا گیا تھا۔ مجھے یہ سن کر پہلے دھچکہ لگا مگر پھر میں نے سوچا کہ ایسا موقعہ زندگی میں بار بار نہیں آتا اور میں نے جانے کی تیاری شروع کر دی۔

میری ماں خوش نہیں تھیں، اور خوش ہوتی بھی کیسے۔ سیاچن کو ایسے ہی دنیا کا سب سے اونچا اور سرد میدان جنگ نہیں کہا جاتا۔ لیکن اگر فوجیں ماؤں کے کہے پر چلتیں تو یہ دنیا آج بہت مختلف ہوتی۔

 اگر فوجیں ماؤں کے کہے پر چلتیں تو یہ دنیا آج بہت مختلف ہوتی۔

میرے پاس گھر تک جانے کا وقت نہیں تھا۔ جانے سے پہلے بس کچھ دوستوں سے ملاقات ہوئی۔ ایسا لگا کہ جانے کا وقت وقت سے پہلے آگیا اور ایک دن میں نے خود کو جہاز سے اترتے منفی درجہ حرارت میں لداخ کے ہوائی اڈے پر پایا۔

میرے دونوں طرف پہاڑ تھے اور نیلے آسمان کو دیکھنے کے لیے نظر واقعی بہت اوپر اٹھانی پڑتی۔ ہوا بھی مختلف تھی۔ سانس لینا مشکل تھا۔ چاروں طرف بالکل سبزہ نہیں تھا۔ میں نہیں جانتا تھا کہ اب کافی عرصے تک میں سبزہ نہیں دیکھ پاؤں گا۔ مجھے تقریباً ایک ہفتے کے لیے وہاں رہنا تھا تاکہ مجھے اس طرح کے موسم اور ہوا کی عادت ہو جائے اور اس کے بعد گلیشئر جانا تھا۔

پہلی رات بہت ٹھنڈ تھی۔ مگر مجھے بہت جلد اس حقیقت کا احساس ہو گیا کہ گلیشئر میں کبھی بھی ’حد سے زیادہ سردی‘ نہیں ہوتی۔ کیوں کہ چاہے کتنی بھی ٹھنڈ کیوں نہ ہو، اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

آہستہ آہستہ مجھے ان سب چیزوں کی عادت پڑنے لگی، سرد راتیں، مختلف ہوا، صبح اٹھ کر دیکھنا کہ آپ کا پانی برف بن گیا ہے، ہفتے میں ایک بار نہانا۔۔۔ فوجی ہونے کے بارے میں ایک اچھی بات یہ ہے کہ آپ کسی بھی چیز کی عادت ڈال لیتے ہیں۔

ایک ہفتے بعد میرا گلیشئر کی طرف سفر شروع ہو گیا۔ ایک حد کے بعد نظر آنے والا ہر شخص فوجی تھا اور ہر گاڑی فوج کی۔ مجھے اچانک احساس ہوا کہ میں ایک بڑے، کھلے جیل میں ہوں۔ میرا مطلب یہ ہے کہ اگر میں چاہتا بھی تو وہاں سے بھاگ نہیں سکتا تھا۔ سب سے قریب سولین بس سٹاپ دو سو کلو میٹر دور تھا۔ بیس کیمپ کی طرف جانے والی سڑک ایک ایسی شاہ رگ کی طرح تھی جس میں خون صرف ایک سمت میں بہتا ہے۔

ایسا نہیں کہ میں بھاگنا چاہتا تھا، مگر اس وقت گلیشئر کی طرف جاتے ہوئے میرے ذہن میں اپنی بےبسی کا یہ خیال ضرور آیا۔

خیر گلیشئر پر پہنچ گئے اور ٹریننگ شروع ہو گئی۔ کچھ بھی آسان نہیں تھا۔ میں ہمیشہ سمجھتا تھا کہ مجھ میں درد برداشت کرنے کی بہت قوت ہے۔ لیکن ٹریننگ کے دوسرے ہی دن مجھے اپنی خام خیالی کا احساس ہوا۔

اس دن آسمان بالکل صاف تھا۔ صاف آسمانوں کا مطلب ہمیشہ بہت زیادہ سردی ہوا کرتی ہے۔ رات بھی بہت سرد تھی۔ اتنی کہ ہماری ’کولڈ کریمز‘ ٹیوبز میں ہی جم گئی تھیں۔ گلیشئر پر ایکزرسائزز کرتے کرتے اچانک میری انگلیاں سن ہو گئیں۔ اور پھر درد شروع ہوا۔ ایسا درد کہ برداشت کرنا مشکل ہو گیا۔ ہماری ورزشیں جاری تھیں مگر میں بےبسی اور درد کے ایسے مقام پر پہنچ گیا تھا کہ مجھ سے بالکل برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ میں نے اپنی بندوق پھینک دی اور اپنے انسٹرکٹر سے کہا کہ ’بس میں اور نہیں کر سکتا۔‘

بعد میں پتہ چلا کہ اس وقت کے قریب درجہ حرارت منفی پچیس ڈگری تک پہنچ گیا تھا۔


’آپ کا کہتے ہیں‘

رضا الرحمان، سعودی عرب:

میں پہلے دن سے اس ّائری کا قاری رہا ہوں۔ اس سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ چٹان جیسی فوج کے دل میں بھی معصوم اور نازک جذبات ہوتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتے کہ اس ڈائری سے دونوں طرف کوئی تبدیلی آئے گی مگر کم از کم انڈیا اور پاکستان کے لوگوں کو یہ احساس تو ہو جانا چاہیے کہ دراصل وہ مختلف خیالات رکھنے والے دوست ہیں دشمن نہیں۔

سجاد الحسنین، حیدرآباد دکن:
کشمیر کی حسین پہاڑیاں شولہ پوش کیوں ہو رہی ہیں؟ آگ کی گرمی خطرناک ہوتی ہے۔ یخ بستہ ہواؤں کو یہ گرمی پل بھر میں لو کے تھپیڑوں میں بدل دیتی ہے۔ یہ سب جانتے ہوئے بھی ایک سپاہی چل پڑتا ہے ان پربتوں کی اور جو ہوتے تو جنت ہیں مگر اسے یہ خوب پتہ ہوتا ہے کہ اس کی بندوق نے جو آگ اگلنی ہے وہ ان خوبصورت پہاڑوں کو اجاڑ دے گی۔ شاید اسی لیے آپ کی ماں خوش نہیں تھی۔ کاش کہ فوجیں ماؤں کے کہنے پر چلتیں۔ کاش کہ جنت ماں کے قدموں تلے نہیں بلکہ پوری دنیا میں پھیلی ہوتی۔ کاش کہ یہ فوجی پوری دنیا کو جہنم نہیں جنت بنا دیتے۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر نیلے آسمان کو دیکھنے کے لیے آپ کو نظر اتنی اوپر اٹھانی نہیں پڑتی۔

نامعلوم:
آپ بہت اچھا کر رہے ہیں۔ ’کیپ اِٹ اپ۔‘ میں پاکستانی فوج کا حصہ ہوں۔

انعام اللہ، امریکہ:
یہ ڈائری جذبات اور احساسات کا ایک حسین امتیاز ہے۔ یہاں آپ کو تکلیف اور محبت دونوں کا ملاپ نظر آتا ہے۔

شاہد مرزا، کراچی:
ہم کب تک انسانوں کو اس بےفضول جنگ میں جھونکتے رہیں گے۔ جو مر جاتا ہے اس کی کہانی ختم ہو جاتی ہے۔۔۔شرم آنی چاہیے دونوں ممالک کو۔

محمد افضل گجر، سندھ:
اللہ آپ کو کامیاب کرے۔ لیکن کبھی بھی کسی معصوم پر ظلم نہیں کرنا۔ کبھی کسی بےگناہ کو ہلاک نہیں کرنا۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس خاندان کا وہ آخری فرد ہو جو اپنے بوڑھے ماں باپ کا سہارا ہو۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔

قاسم ربانی، پاکستان:
اپنے ملک اور اپنے لوگوں کے لیے جو اچھا ہے بس وہی کرو۔

نامعلوم، کینیڈا:
آپ کے درد کا مجھے کسی حد تک احساس ہے۔ میں جب پاکتسان سے پہلی بار کینیڈا آیا تھا تو ایک رات بس سٹاپ پر فون کرنے کی کوشش کی۔ انگلیاں جم گئیں۔ جب بعد میں درجہ حرارت دیکھا تو پتہ چلا کہ اس وقت منفی اڑتیس ڈیگری تھا۔

شاہدہ اکرم، ابو ظہبی:
فوجی صاحب آپ کی تکلیف اور دکھ کا پڑھ کر دل حقیقت میں بہت دکھی ہوا ہے۔ سب سے زیادہ دکھی ان الفاظ نے کیا ’اگر فوجیں ماؤں کے کہنے پر چلتیں تو یہ دنیا آج بہت مختلف ہوتی۔‘ ماؤں کے دل کو نہ جانے اللہ نے کس مٹی سے بنایا ہے جو بچوں کے دکھوں پر دل پاگل ہو جاتےہیں۔ منفی پچیس ڈگری پر نہ جانے کس قسم کی جنگیں لڑی جاتی ہوں گی۔ ایسی جگہ کے لیے دونوں ممالک کے جوانوں کے گرم خون کو ہڈیوں میں جمنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ کیا ہےیہ دنیا اور کیوں کرتے ہیں ہم ایسا؟ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ ان سب چیزوں کا کوئی فائدہ نہیں۔ زندگیوں کے بدلے کیے گئے فیصلے کس کام کے؟ کاش کوئی سمجھے۔۔۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
انڈین فوجی بلاگ’گھر‘ کہاں ہے؟
’والدین کے ساتھ مہمان کی طرح رہتا ہوں‘
انڈین فوجی بلاگ کچھ سمجھ نہیں آتا
’۔۔۔کس کا دشمن کون ہے؟‘
انڈین فوجی بلاگ سرد اندھری رات میں
’۔۔۔ باہر آئے گا اور ہم اسے مار دیں گے‘
انڈین فوجی بلاگ ’زندگی کی دھند‘
سرینگر سے ایک انڈین فوجی کا بلاگ
انڈین فوجی بلاگ ’نہ جانے وہ کون تھا‘
سرینگر سے ایک انڈین فوجی کا بلاگ
انڈین فوجی بلاگ ’سایہ ہر طرف‘
سرینگر سے ایک انڈین فوجی کا بلاگ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد