کس کا دشمن کون ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ کشمیر میں تعینات ایک انڈین فوجی کی ڈائری ہے جو آپ ہر ہفتے ہمارے صفحات پر پڑھ سکیں گے۔
گاندربل میں کچھ فرضی مقابلوں میں ہلاکتوں کی خبر سنی۔ ایسا نہیں کہ میں ماضی میں سکیورٹی افواج کے ہاتھوں ہونے والے اس قسم کے واقعات سے ناواقف ہوں، مگر یہ خبر سن کر نہ جانے کیوں عجیب سی بےچینی ہوئی۔ سکیورٹی افواج کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے اور شاید انہوں نے ذمہ داری قبول بھی کر لی ہے۔ مجھے حد سے زیادہ دکھ اور تکلیف کے ساتھ ساتھ گھن بھی آئی۔ جن کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے، ان میں کچھ کشمیری بھی ہیں۔ میرے ذہن میں اگلا سوال یہ آیا کہ کوئی بھی کسی عام غریب ترکھان کو کیوں مارنا چاہے گا؟ وہ کسی کا کیا بگاڑ سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب اتنا آسان ہے کہ مجھے اپنی نادانی پر حیرت بھی ہوئی اور غصہ بھی آیا۔ جواب یہ نظام ہے۔ کشمیر میں نظام کچھ ایسا بن گیا یا بنایا گیا ہے کہ ’سکیورٹی افواج‘ کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتوں کا مطلب میڈلز، انعامی رقوم، ترقی اور دیگر مراعات بن گیا ہے۔ اب بات یہ ہے کہ ایک اصل منجھے ہوئے انتہا پسند کو ہلاک کرنا آسان نہیں۔ تو اس لیے بظاہر سکیورٹی افواج یا ان میں شامل چند لوگ اپنا کام آسان بناتی ہیں۔ کسی معصوم عام آدمی کو کہیں سے اٹھا لیا جاتا ہے اور کہیں اور لے جا کر اسے مار دیا جاتا ہے۔ مجھے یہ سوچ کر زیادہ افسوس ہوتا ہے کہ ایسا کرنے والوں میں خود کچھ کشمیری بھی شامل ہیں۔ کچھ سمجھ نہیں آتا۔ کس کا دشمن کون ہے؟ میں کشمیر آیا تھا تو کچھ بدلنے کی خواہش تھی۔ مگر میں کیا کر سکتا ہوں؟ ایسا کچھ ہوتا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر اتر آتے ہیں، احتجاج کرتے ہیں، اس طرح کے ظلم سے آزادی مانگتے ہیں اور کون کہہ سکتا ہے کہ وہ غلط ہیں۔ بھلے مسئلے کا کوئی حل نظر نہ آ رہا ہو، آپ ایسے ہی کسی راہ چلتے کو اٹھا کر اس طرح مار نہیں سکتے۔ ایسا کریں گے تو مسئلہ کبھی بھی حل نہیں ہوگا۔ میرے کئی دوست، جن کا کشمیر کے مسئلہ سے براہ راست کوئی تعلق نہیں تھا، جو فوجی تھے یہاں اس لیے مارے گئے کیوں کہ کسی نے ان سے کہا تھا کہ وہ ایک اونچے مقصد کے لیے قربانی دے رہے ہیں۔ مگر اب مجھے احساس ہو رہا ہے کہ کوئی اس مسئلے کو حل کرنا ہی نہیں چاہتا۔ یہ سارا کھیل پیسے کا ہے جو دونوں طرف سے کشمیر میں ڈالا جا رہا ہے، کشیدگی کو برقرار رکھنے کے لیے اور قبضہ قائم رکھنے کے لیے۔ کیونکہ جب تک پیسہ آتا رہے گا اس کا فائدہ اٹھانے والے خوش رہیں گے۔ مجھے احساس ہو رہا ہے کہ ہم سیاست کے اس کھیل میں بس مہرے ہیں۔ اچانک مجھے اپنا آپ چھوٹا لگنے لگا ہے، بہت چھوٹا۔۔۔
محمد علی، لاہور: پہلے میرا خیال تھا کہ فوکی انسان نہیں ہوتے، صرف فوجی ہوتے ہیں۔ شاید میں غلط تھا۔۔۔یا یہ فوجی نہیں واقعی شاعر ہے۔ پر جب اسے پتہ ہے کہ جو ہو رہا ہے غلط ہے تو یہ وہاں کیوں ہے؟ کیا کبھی اسے موقعہ ملا تو یہ ایسا کوئی کام کرے گا؟ شاہ علی، پشاور: نگاہ حسین، بلوچستان: مومن رانا، لاہور: سجاد الحسنین، حیدرآباد دکن: شاہدہ اکرام، یو اے ای: نامعلوم: راجہ عبدالجبار، یواے ای: عینی سیدہ، کراچی: عبدالخان، کینیڈا: |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||