BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 February, 2007, 15:55 GMT 20:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کس کا دشمن کون ہے
کشمیر

یہ کشمیر میں تعینات ایک انڈین فوجی کی ڈائری ہے جو آپ ہر ہفتے ہمارے صفحات پر پڑھ سکیں گے۔


چھ فروری، دو ہزار سات:

گاندربل میں کچھ فرضی مقابلوں میں ہلاکتوں کی خبر سنی۔ ایسا نہیں کہ میں ماضی میں سکیورٹی افواج کے ہاتھوں ہونے والے اس قسم کے واقعات سے ناواقف ہوں، مگر یہ خبر سن کر نہ جانے کیوں عجیب سی بےچینی ہوئی۔

سکیورٹی افواج کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے اور شاید انہوں نے ذمہ داری قبول بھی کر لی ہے۔ مجھے حد سے زیادہ دکھ اور تکلیف کے ساتھ ساتھ گھن بھی آئی۔ جن کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے، ان میں کچھ کشمیری بھی ہیں۔

میرے ذہن میں اگلا سوال یہ آیا کہ کوئی بھی کسی عام غریب ترکھان کو کیوں مارنا چاہے گا؟ وہ کسی کا کیا بگاڑ سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب اتنا آسان ہے کہ مجھے اپنی نادانی پر حیرت بھی ہوئی اور غصہ بھی آیا۔

جواب یہ نظام ہے۔

کشمیر میں نظام کچھ ایسا بن گیا یا بنایا گیا ہے کہ ’سکیورٹی افواج‘ کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتوں کا مطلب میڈلز، انعامی رقوم، ترقی اور دیگر مراعات بن گیا ہے۔

اب بات یہ ہے کہ ایک اصل منجھے ہوئے انتہا پسند کو ہلاک کرنا آسان نہیں۔ تو اس لیے بظاہر سکیورٹی افواج یا ان میں شامل چند لوگ اپنا کام آسان بناتی ہیں۔ کسی معصوم عام آدمی کو کہیں سے اٹھا لیا جاتا ہے اور کہیں اور لے جا کر اسے مار دیا جاتا ہے۔ مجھے یہ سوچ کر زیادہ افسوس ہوتا ہے کہ ایسا کرنے والوں میں خود کچھ کشمیری بھی شامل ہیں۔

کچھ سمجھ نہیں آتا۔ کس کا دشمن کون ہے؟ میں کشمیر آیا تھا تو کچھ بدلنے کی خواہش تھی۔ مگر میں کیا کر سکتا ہوں؟ ایسا کچھ ہوتا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر اتر آتے ہیں، احتجاج کرتے ہیں، اس طرح کے ظلم سے آزادی مانگتے ہیں اور کون کہہ سکتا ہے کہ وہ غلط ہیں۔

بھلے مسئلے کا کوئی حل نظر نہ آ رہا ہو، آپ ایسے ہی کسی راہ چلتے کو اٹھا کر اس طرح مار نہیں سکتے۔ ایسا کریں گے تو مسئلہ کبھی بھی حل نہیں ہوگا۔

میرے کئی دوست، جن کا کشمیر کے مسئلہ سے براہ راست کوئی تعلق نہیں تھا، جو فوجی تھے یہاں اس لیے مارے گئے کیوں کہ کسی نے ان سے کہا تھا کہ وہ ایک اونچے مقصد کے لیے قربانی دے رہے ہیں۔ مگر اب مجھے احساس ہو رہا ہے کہ کوئی اس مسئلے کو حل کرنا ہی نہیں چاہتا۔ یہ سارا کھیل پیسے کا ہے جو دونوں طرف سے کشمیر میں ڈالا جا رہا ہے، کشیدگی کو برقرار رکھنے کے لیے اور قبضہ قائم رکھنے کے لیے۔ کیونکہ جب تک پیسہ آتا رہے گا اس کا فائدہ اٹھانے والے خوش رہیں گے۔

مجھے احساس ہو رہا ہے کہ ہم سیاست کے اس کھیل میں بس مہرے ہیں۔ اچانک مجھے اپنا آپ چھوٹا لگنے لگا ہے، بہت چھوٹا۔۔۔


آپ کی رائے:

محمد علی، لاہور:

پہلے میرا خیال تھا کہ فوکی انسان نہیں ہوتے، صرف فوجی ہوتے ہیں۔ شاید میں غلط تھا۔۔۔یا یہ فوجی نہیں واقعی شاعر ہے۔ پر جب اسے پتہ ہے کہ جو ہو رہا ہے غلط ہے تو یہ وہاں کیوں ہے؟ کیا کبھی اسے موقعہ ملا تو یہ ایسا کوئی کام کرے گا؟

شاہ علی، پشاور:
یہ تو پتہ نہیں کہ کون دشمن ہے اور کون دوست مگر جب مشکل وقت آتا ہے تو دوست دشمن کی پہچان خود ہی ہو جاتی ہے۔ مگر ہمارے دل کے دروازے ہمیشہ کے لیے کھلے ہوں گے۔

نگاہ حسین، بلوچستان:
میرے خیال میں غلطی دونوں طرف ہے۔ کشمیر کا مسئلہ صرف بات چیت سے ہی حل ہو سکتا ہے۔

مومن رانا، لاہور:
میرے خیال میں اس مسئلے کے ذمہ دار انڈیا یا پاکستان نہیں بلکہ وہ ممالک ہیں جو اپنی ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے دنیا کو ہتھیار بیچتے ہیں۔ فائدہ تو صرف ان ہی کا ہو رہا ہے۔

سجاد الحسنین، حیدرآباد دکن:
آپ نے یہ بتا دیا کہ معاملہ ایک مسئلے کا نہیں بلکہ ان طاقتوں کا ہے جو مسئلے کا حل چاہتی ہی نہیں۔ بات بہت گہری کہی آپ نے اور پتے کی بھی۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ایک میڈل یا ترقی کے لیے معصوم عوام ہلاک کیے جاتے ہیں۔ کتنا گر گیا ہے انسان۔ کشمیر کا مسئلہ کشمریوں کے لیے کیا ہے؟ بیوہ کے لیے اپنے شوہر کی یاد، ماں کے لیے جوان بیٹے کی یاد اور ان لوگوں کے لیے اپنوں کی کرب ناک یاد جو لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ان تمام یادوں کے بیچ آپ کو اپنا قد چھوٹا کیوں نظر آتا ہے؟ قد تو ان کا چھوٹا ہے جو معصوم لوگوں کے خون سے کھیل رہے ہیں۔

شاہدہ اکرام، یو اے ای:
ہمارے چھوٹے یا بڑے ہونے سے کچھ نہیں ہوگا۔ جب تک اس مسئلے کی سرپرستی کرنے والے ہاتھ سلامت ہیں، سوائے دکھی ہونے کے کوئی بھی کچھ نہیں کرسکتا۔ دکھ کو صرف وہی محسوس کرسکتا ہے جس پر بیتا ہو ورنہ آج فرضی مقابلوں میں مارنے اور مار دیئے جانے والوں کو ایک جیسا ہی محسوس ہوتا۔ خون ہونے والے، خون کرنے والے اور کسی کے خون سے اپنی جیبیں بھرنے والے سب الگ الگ ہیں۔ ہم تو بس تماشائی ہیں۔

نامعلوم:
یہ فوجی نہیں بلکہ ایک شاعر ہے۔ ایک گن اٹھائے شاعر۔ کاش ہر کوئی اس کی طرح سوچے۔

راجہ عبدالجبار، یواے ای:
میں تو بس یہی کہوں گا کہ ’ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے، خون پھر خون ہے گرتا ہے جم جاتا ہے‘۔

عینی سیدہ، کراچی:
کاش کہ کسی پاکستانی فوجی میں بھی اتنی جرات ہوتی کہ وہ یوں کھل کر اعترافات کرسکے۔ پاکستانی فوجیو، ان کے پاس کشمیر ہے تو تمہارے پاس سندھ، بلوچستان اور وزیرستان۔۔۔ اور کیا تمہیں چاہیے۔

عبدالخان، کینیڈا:
میں بہت داد دیتا ہوں آپ کو۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
انڈین فوجی بلاگ سرد اندھری رات میں
’۔۔۔ باہر آئے گا اور ہم اسے مار دیں گے‘
انڈین فوجی بلاگ ’زندگی کی دھند‘
سرینگر سے ایک انڈین فوجی کا بلاگ
انڈین فوجی بلاگ ’نہ جانے وہ کون تھا‘
سرینگر سے ایک انڈین فوجی کا بلاگ
انڈین فوجی بلاگ ’سایہ ہر طرف‘
سرینگر سے ایک انڈین فوجی کا بلاگ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد