BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 January, 2007, 13:54 GMT 18:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نہ جانے وہ کون تھا۔۔۔‘
انڈین فوجی بلاگ

یہ کشمیر میں تعینات ایک انڈین فوجی کی ڈائری ہے جو آپ ہر ہفتے ہمارے صفحات پر پڑھ سکیں گے۔



سترہ جنوری، دو ہزار سات:

میں بہت عرصے بعد اس سے ملا۔

ہم نے ٹریننگ ساتھ کی تھی۔ قریب دوست ہوا کرتے تھے۔ ساتھ دوڑنے جاتے، ساتھ کھیلتے، رات سے صبح تک نہ جانے کیا کیا باتیں کرتے رہتے۔ محبت کی، زندگی کی، فلسفے کی۔۔۔

ان دنوں وہ بہت معصوم اور سیدھا ہوا کرتا تھا۔ اس میں ایک جوش تھا اور ہم گھنٹوں دنیا کو تبدیل کرنے کے خواب دیکھا کرتے۔ اسے یقین تھا کہ وہ جو چاہے وہ بدل سکتا ہے، دنیا کو بھی۔ تربیت ختم ہونے کے بعد ہم دونوں اپنے اپنے راستے چلے گئے۔

میں تین سال بعد جس سے ملا وہ بالکل مختلف شخص تھا میرا وہ نوجوان، معصوم دوست نہیں۔ ایک ایسا شخص جسے جنگ نے معصومیت اور بھولے پن سے محروم کر دیا تھا۔ جس نے اپنی کم عمر میں وہ سب کچھ دیکھا جو اسے نہیں دیکھنا چاہیے تھا۔ اس نے کوشش تو کی اس تبدیلی کو چھپانے کی۔ مگر آنکھوں نے دھوکہ دے دیا۔

اس کی مسکراہٹ میں خوشی نہیں تھی۔ مسکراہٹ اس کی آنکھوں تک نہیں پہنچ پاتی۔ وہ پچھلے دو سال سے وادی میں تعینات تھا اور اے کے 47 اس کا سب سے قریبی دوست بن چکا تھا۔

اس رات اس نے مجھے ان دو سالوں کے بارے میں بتایا۔ اس نے بتایا کہ ’شدت پسندوں‘ کے ساتھ کئی جھڑپوں میں اس نے حصہ لیا تھا۔ کچھ کو اس نے مارا بھی۔ اس نے مھجے یاد دلایا کہ ہم گزرے ہوئے دنوں میں سوچا کرتے تھے کہ کسی کی جان لینا کتنا مشکل ہوتا ہوگا۔ ’مگر دراصل یہ بالکل مشکل نہیں۔ جب وہ لمحہ آتا ہے تو آپ صرف اپنی بقا کے بارے میں سوچتے ہیں۔ اور اس پر گولی چلانا جس کی گولی کی زد میں آپ ہوں، بالکل مشکل نہیں‘، اس نے کہا۔

اس نے کہا کہ جو افراد اس کی گولی کا نشانہ بنے تھے ان میں سے کئی بہت چھوٹے تھے۔ نوجوان لڑکے جو ایک مقصد، ایک تحریک کے لیے اپنی جان تک دینے کو تیار تھے۔ انہیں یقین تھا کہ وہ صحیح راستے پر تھے۔

اس نے ان دوستوں کے بارے میں بھی بتایا جو ایسی ہی جھڑپوں میں اس سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئے۔ ایسے دوست جنہیں یقین تھا کہ وہ ایک ملک کی یکجہتی کے لیے لڑ رہے تھے۔ ایک ایسا ملک جو انہیں ایک لمحے میں بھول گیا۔ انہیں بھی یقین تھا کہ وہ صحیح تھے۔

اس نے کہا کہ بندوق کی طاقت کا اندازہ تب تک نہیں لگایا جا سکتا جب تک آپ اسے خود محسوس نہ کریں۔

اس کا کہنا تھا: ’میں انہیں مارنا نہیں چاہتا تھا۔ میں زندگی کو مقدس سمجھتا ہوں۔ مگر میرے پاس کوئی اور چارا نہیں تھا۔ میں ایک فوجی ہوں اور یہ میرا کام ہے۔ میں بندوق کے سہارے جیتا ضرور ہوں مگر میری شخصیت دراصل پر تشدد نہیں۔‘

اسے افسوس تھا کہ اس کے قریب ترین دوست سمجھتے ہیں کہ چونکہ وہ بندوق کے سہارے جیتا ہے، اس کی شخصیت پر تشدد ہے۔ اسے اس لیے بھی افسوس تھا کہ جانیں لینے اور اپنے عزیزوں کو کھونے کے باؤجود کچھ نہ بدل سکنے کا احساس تھا۔ کسی کا کچھ فائدہ نہیں۔ کسی کی جان کا کوئی مول نہیں اور جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا۔

وہ جانتا تھا کہ تشدد سے کچھ حل نہیں ہوتا اور جب تک وادی پر بندوق کا سایہ رہے گا کوئی حل ممکن نہیں۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ عام آدمی کے علاوہ شاید کوئی مسئلے کا حل چاہتا بھی نہیں۔

وہ شاید چاہتا تھا کہ میں اسے دلاسہ دوں، اسے کہوں کہ اس نے جو کچھ کیا اس کا کوئی مقصد، مطلب تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ میں اس سے کہوں کہ جتنی بار وہ شدت پسندوں کو ہلاک کرتے ہیں وہ مسئلے کے حل کے قریب ہوتے جاتے ہیں، کہ یہ سب ایک اونچے اور صحیح مقصد کے لیے ہو رہا ہے۔

میں بس اسے خاموش بیٹھا دیکھتا رہا۔ میں بہت عرصے بعد اس سے ملا تھا اور نہ جانے وہ کون تھا۔


’آپ کیا کہتے ہیں‘

محمد عمران خان راؤ، لاہور:
میرے خیال میں جموں کشمیر کے بنیادی مسئلے کو حل کرنے کا وقت اب آ چکا ہے۔ اب یہ دو ممالک کی انا کا نہیں بلکہ لاکھوں کشمیریوں کی بقا کا مسئلہ بن گیا ہے، جو ساٹھ سال سے اس سے دوچار ہیں۔ میں دعا کرتا ہوں کہ یہ مسئلہ کشمیریوں کی امیدوں اور خواہشات کے مطابق جلد سے جلد حل ہو جائے۔ ان کے سوا اس مسئلے کو کوئی حل نہیں کر سکتا۔

ایس ایم شعیب، کراچی:
بہت اچھا لگا ان کے جذبات سن کر۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہر انسان کی یہی سوچ ہہو تو دنیا میں امن خود ہی ہو جائے گا۔ کسی کی جان لینے کی ضرورت ہی نہیں ہوگی۔

عامر محمود، اسلام آباد:
یہ جان کر اچھا لگا کہ انڈین فوج میں بھی ایسے لوگ ہیں۔۔۔

سید علی رضا، برطانیہ:
ایک آزاد زمین پر قابض فوج۔۔۔اب اگر احساس ہو بھی گیا تو کیا فائدہ؟ ظالم اور مظلوم کے فرق کو اس طرح نہیں مٹایا جا سکتا۔

ندیم احمد، نکیال، کشمیر:
میں بس اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ جو بھی ہو انسان کا کوئی بھی مذہب ہو وہ پھر بھی انسان ہوتا ہے۔ لیکن جب تک اس طرح کے جذبات دونوں طرف نہیں ہونگے ہمارے مسائل کا حل نہیں نکل سکتا تب تک۔

آزاد عزیز، متحدہ عرب امارات:
واہ! بہت اچھے! ’گُڈ مین‘۔ مگر یہ کون ہے جو اس طرح سچ بولنے لگا ہے۔ اسے پتہ نہیں کیا کہ اس طرح کی باتیں افسروں کو اچھی نہیں لگتیں۔ اس ڈائری کی ایک بات دل پر لگ گئی ہے کہ ’وہ یہ بھی جانتا ہے کہ عام آدمی کے بغیر کوئی اس مسئلے کا حل بھی نہیں چاہتا۔۔۔‘ بہت اچھے۔ ’کیپ اِٹ اپ‘۔

سجاد احمد، پاکستان:
کوئی نہیں جانتا صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ ایک سیدھا اور سچا آدمی ہی دوسروں کے احساسات سمجھ سکتا ہے چاہے وہ کسی بھی نسل یا مذہب سے تعلق رکھے۔ بس یہ سیاست دان ہی ہیں جو صرف اپنے مفاد کے بارے میں سوچتے ہیں اور دوسروں کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔

عبداللہ، اسلام آباد:
بھلے ہی آپ انہیں مارنا نہ چاہتے ہوں مگر ریاست تو یہی چاہتی ہے۔۔۔

غلام مصطفی سید، کراچی:
کہنے کو تو یہ صرف ایک انڈین فوجی کے احساسات ہیں لیکن اسے وادی میں موجود ہر سپاہی کی آواز سمجھنا چاہیے۔ اس ڈائری سے ہر اس فوجی کے خیالات کی عکاسی ہو رہی ہے جو فولادی ہیلمیٹ اور بلٹ پروف جیکٹ پہنے اور ہاتھوں میں بندوق تھامے الجھے ذہن کے ساتھ وادی کو دیکھ رہا ہے۔ اس کے پیش نظر بھارتی حکومت کو درست فیصلہ کرنے میں دیر نہیں لگنی چاہیے۔

محمد عثمان افضل، جنوبی کوریا:
کیا ڈائری ہے بی بی سی کی طرف سے۔ یہ سائٹ پر آج کل میرا سب سے پسندیدہ فیچر ہے۔ سچائی ہمیشہ کڑوی ہوتی ہے۔ دونوں طرف کے لوگ آخر انسان ہیں اور ایسا ہی محسوس کرتے ہیں۔ کاش کوئی حل نکل آئے۔ اس فوجی کی ڈائری سے ہمیں بہت کچھ پتہ چل رہا ہے۔ ہم ان حالات کو قریب سے محسوس کر رہے ہیں۔

سجاد الحسنین، حیدرآباد دکن:
’وہ یہ بھی جانتا تھا کہ عام آدمی کے علاوہ شاید کوئی مسئلے کا حل چاہتا بھی نہیں۔‘ کیا اس بات میں گہرائی نہیں؟

محمد ہارون سردار، کراچی:
آپ نے اچھا سلسلہ شروع کیا ہے۔ تصویر کا ایک نیا رُخ سامنے آیا ہے۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
انڈین فوجی بلاگ ’سایہ ہر طرف‘
سرینگر سے ایک انڈین فوجی کا بلاگ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد