’نہ جانے وہ کون تھا۔۔۔‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ کشمیر میں تعینات ایک انڈین فوجی کی ڈائری ہے جو آپ ہر ہفتے ہمارے صفحات پر پڑھ سکیں گے۔
میں بہت عرصے بعد اس سے ملا۔ ہم نے ٹریننگ ساتھ کی تھی۔ قریب دوست ہوا کرتے تھے۔ ساتھ دوڑنے جاتے، ساتھ کھیلتے، رات سے صبح تک نہ جانے کیا کیا باتیں کرتے رہتے۔ محبت کی، زندگی کی، فلسفے کی۔۔۔ ان دنوں وہ بہت معصوم اور سیدھا ہوا کرتا تھا۔ اس میں ایک جوش تھا اور ہم گھنٹوں دنیا کو تبدیل کرنے کے خواب دیکھا کرتے۔ اسے یقین تھا کہ وہ جو چاہے وہ بدل سکتا ہے، دنیا کو بھی۔ تربیت ختم ہونے کے بعد ہم دونوں اپنے اپنے راستے چلے گئے۔ میں تین سال بعد جس سے ملا وہ بالکل مختلف شخص تھا میرا وہ نوجوان، معصوم دوست نہیں۔ ایک ایسا شخص جسے جنگ نے معصومیت اور بھولے پن سے محروم کر دیا تھا۔ جس نے اپنی کم عمر میں وہ سب کچھ دیکھا جو اسے نہیں دیکھنا چاہیے تھا۔ اس نے کوشش تو کی اس تبدیلی کو چھپانے کی۔ مگر آنکھوں نے دھوکہ دے دیا۔ اس کی مسکراہٹ میں خوشی نہیں تھی۔ مسکراہٹ اس کی آنکھوں تک نہیں پہنچ پاتی۔ وہ پچھلے دو سال سے وادی میں تعینات تھا اور اے کے 47 اس کا سب سے قریبی دوست بن چکا تھا۔ اس رات اس نے مجھے ان دو سالوں کے بارے میں بتایا۔ اس نے بتایا کہ ’شدت پسندوں‘ کے ساتھ کئی جھڑپوں میں اس نے حصہ لیا تھا۔ کچھ کو اس نے مارا بھی۔ اس نے مھجے یاد دلایا کہ ہم گزرے ہوئے دنوں میں سوچا کرتے تھے کہ کسی کی جان لینا کتنا مشکل ہوتا ہوگا۔ ’مگر دراصل یہ بالکل مشکل نہیں۔ جب وہ لمحہ آتا ہے تو آپ صرف اپنی بقا کے بارے میں سوچتے ہیں۔ اور اس پر گولی چلانا جس کی گولی کی زد میں آپ ہوں، بالکل مشکل نہیں‘، اس نے کہا۔ اس نے کہا کہ جو افراد اس کی گولی کا نشانہ بنے تھے ان میں سے کئی بہت چھوٹے تھے۔ نوجوان لڑکے جو ایک مقصد، ایک تحریک کے لیے اپنی جان تک دینے کو تیار تھے۔ انہیں یقین تھا کہ وہ صحیح راستے پر تھے۔ اس نے ان دوستوں کے بارے میں بھی بتایا جو ایسی ہی جھڑپوں میں اس سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئے۔ ایسے دوست جنہیں یقین تھا کہ وہ ایک ملک کی یکجہتی کے لیے لڑ رہے تھے۔ ایک ایسا ملک جو انہیں ایک لمحے میں بھول گیا۔ انہیں بھی یقین تھا کہ وہ صحیح تھے۔ اس نے کہا کہ بندوق کی طاقت کا اندازہ تب تک نہیں لگایا جا سکتا جب تک آپ اسے خود محسوس نہ کریں۔ اس کا کہنا تھا: ’میں انہیں مارنا نہیں چاہتا تھا۔ میں زندگی کو مقدس سمجھتا ہوں۔ مگر میرے پاس کوئی اور چارا نہیں تھا۔ میں ایک فوجی ہوں اور یہ میرا کام ہے۔ میں بندوق کے سہارے جیتا ضرور ہوں مگر میری شخصیت دراصل پر تشدد نہیں۔‘ اسے افسوس تھا کہ اس کے قریب ترین دوست سمجھتے ہیں کہ چونکہ وہ بندوق کے سہارے جیتا ہے، اس کی شخصیت پر تشدد ہے۔ اسے اس لیے بھی افسوس تھا کہ جانیں لینے اور اپنے عزیزوں کو کھونے کے باؤجود کچھ نہ بدل سکنے کا احساس تھا۔ کسی کا کچھ فائدہ نہیں۔ کسی کی جان کا کوئی مول نہیں اور جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا۔ وہ جانتا تھا کہ تشدد سے کچھ حل نہیں ہوتا اور جب تک وادی پر بندوق کا سایہ رہے گا کوئی حل ممکن نہیں۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ عام آدمی کے علاوہ شاید کوئی مسئلے کا حل چاہتا بھی نہیں۔ وہ شاید چاہتا تھا کہ میں اسے دلاسہ دوں، اسے کہوں کہ اس نے جو کچھ کیا اس کا کوئی مقصد، مطلب تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ میں اس سے کہوں کہ جتنی بار وہ شدت پسندوں کو ہلاک کرتے ہیں وہ مسئلے کے حل کے قریب ہوتے جاتے ہیں، کہ یہ سب ایک اونچے اور صحیح مقصد کے لیے ہو رہا ہے۔ میں بس اسے خاموش بیٹھا دیکھتا رہا۔ میں بہت عرصے بعد اس سے ملا تھا اور نہ جانے وہ کون تھا۔
محمد عمران خان راؤ، لاہور: میرے خیال میں جموں کشمیر کے بنیادی مسئلے کو حل کرنے کا وقت اب آ چکا ہے۔ اب یہ دو ممالک کی انا کا نہیں بلکہ لاکھوں کشمیریوں کی بقا کا مسئلہ بن گیا ہے، جو ساٹھ سال سے اس سے دوچار ہیں۔ میں دعا کرتا ہوں کہ یہ مسئلہ کشمیریوں کی امیدوں اور خواہشات کے مطابق جلد سے جلد حل ہو جائے۔ ان کے سوا اس مسئلے کو کوئی حل نہیں کر سکتا۔ ایس ایم شعیب، کراچی: عامر محمود، اسلام آباد: سید علی رضا، برطانیہ: ندیم احمد، نکیال، کشمیر: آزاد عزیز، متحدہ عرب امارات: سجاد احمد، پاکستان: عبداللہ، اسلام آباد: غلام مصطفی سید، کراچی: محمد عثمان افضل، جنوبی کوریا: سجاد الحسنین، حیدرآباد دکن: محمد ہارون سردار، کراچی: |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||