’فوجی ہوں، دشمن نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ کشمیر میں تعینات ایک انڈین فوجی کی ڈائری ہے جو آپ ہر ہفتے ہمارے صفحات پر پڑھ سکیں گے۔
میں آخر کار سرینگر پہنچ گیا۔ فلائٹ کے لیے تقریباً چھ گھنٹے انتظار کے بعد۔ سردیوں کا موسم ہے اس لیے، لیکن میں پھر بھی کافی جوش میں ہوں۔ کسی حد تک لگتا ہے کہ میری قسمت مجھے یہاں لائی ہے۔ کسی حد تک کیونکہ ویسے میں قسمت میں یقین نہیں رکھتا۔ ہوا ٹھنڈی ہے، مجھے کاٹتی ہے، مگر تازہ ہے، مختلف ہے، اور مجھے ایک عجیب سی خوشی کا احساس دلاتی ہے۔ نہ جانے کیوں۔ ہمیں ہماری منزل تک پہنچانے کے لیے ائیرپورٹ پر گاڑیاں موجود ہیں۔ ہم شہر سے ہوتے ہوئے جاتے ہیں۔ آس پاس لوگ ہیں جن کا پہناوا مختلف ہے۔ بہت خوبصورت لوگ۔ میرے چاروں طرف پھیلے ہوئے پیڑ، نالے، ندیاں، پہاڑ، ٹھنڈی ہوا، برف۔۔۔میری نظریں ان سے ہٹ ہی نہیں رہیں۔ مگر یہاں کچھ اور بھی ہے۔ ہر پچاس میٹر کے بعد یونیفارم پہنے، بندوق اٹھائے ایک شحص کھڑا ہے۔ ایک فوجی۔ ہر پانچ منٹ بعد ہماری گاڑی کا سامنا فوجی قافلوں سے ہوتا ہے، جن پر سوار خطرناک نظر آنے والے فوجی پریشان آنکھوں سے جیسے کچھ کھوج رہے ہوں۔ ہوا میں ایک وزن ہے، ایک بوجھ ہے۔ ہوا آزاد نہیں۔ بندوق کا سایہ ہر طرف ہے، اور اچانک میرا دم گھٹنے لگتا ہے۔ فوج ہر جگہ ہے۔ جیسے اندھیرا ہمیشہ خلاء کو پر کر دیتا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہاں کے لوگ مجھے اپنا سمجھتے ہیں۔ مگر چونکہ ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں، اس لیے یہ مجھے قبول کرتےہیں (ان کے پاس اور کوئی چارہ بھی تو نہیں۔) میں سوچنے پر مجبور ہوں کہ ایسا کیوں ہے؟ یہ جگہ جو میرے ذہن میں میرے ملک کا ایک حصہ ہے، یہ لوگ جو میرے لیے میرے اپنے لوگ ہیں، یہ مجھے یہاں کیوں نہیں چاہتے؟ ان کی آنکھیں میرے لیے شک سے بھری ہیں۔ شک اور بےبسی۔ میں اسی لمحے گاڑی روک کر باہر آنا چاہتا تھا تاکہ میں انہیں بتا سکوں کہ میں اتنا برا بھی نہیں۔ پھر میں نے اپنی طرف دیکھا، اپنی وردی دیکھی اور وہ دیکھا جو گاڑی کے باہر ان لوگوں کو نظر آ رہا تھا۔ ’وردی پہنے ایک اور فوجی‘۔ شاید جو وہ محسوس کرتے ہیں میرے لیے وہ غلط بھی نہیں۔ حالات پر افسوس کے علاوہ میرے پاس کچھ بھی نہیں۔ میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ میں ان جیسا ہی ہوں۔ اس وردی کے نیچے میں ایک نوجوان ہوں جو اپنی زندگی کے سوالوں میں الجھا ہوا ہے۔ مجھے بھی پہلی بارش کی خوشبو پسند ہے، اپنے دوستوں کے ساتھ مذاق کرتا ہوں، کسی بچے کو ہنستا دیکھوں تو دل جھوم اٹھتا ہے، ایک خوبصورت عورت سے محبت کرتا ہوں، فلمیں دیکھتا ہوں۔۔۔میں وہ سب کرتا ہوں جو آپ کرتے ہیں، اور یہاں جو کچھ ہوا ہے میں اس کے لیے ذمہ دار نہیں۔ پر ذمہ دار ہے کون؟ میں مسئلے کی تاریخ اور اس کے حل کی بحث میں نہیں پڑنا چاہتا۔ میں بس یہ کہہ رہا ہوں کہ بہت افسوس کی بات ہے کہ یہاں جب بچے ہتھیار اٹھائے کسی کو دیکھتے ہیں تو حیران نہیں ہوتے، کہ اگر کسی کو گھر آتے شام ہو جائے تو اسے پھر کبھی نہ دیکھ پانے کا خوف دلوں میں بیٹھ جاتا ہے، کہ بچوں کا بچپن تشدد اور خوف کی نظر ہو رہا ہے، کہ آزادی کا احساس کسی کو نہیں۔ میں شاید یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ میں فوجی تو ہوں، مگر دشمن نہیں۔ ہم ایک گلی میں مڑے۔ وہاں کچھ چھوٹے چھوٹے بچے کھیل رہے تھے۔ پانچ یا چھ سال کے ایک لڑکے نے میری طرف دیکھا، مسکرا کر اپنا ہاتھ اٹھا کر ہلایا۔ اس کی وہ مسکراہٹ، وہ سچی مسکراہٹ جو صرف بچوں کے ہونٹوں پر آتی ہے۔ میں مسکرایا، اور میں نے بھی اپنا ہاتھ ہلایا۔ وہ بچہ اب تک یہ نہیں جانتا کہ یہاں فوجیوں کو دیکھ کر مسکراتے نہیں۔ شاید اب بھی امید باقی ہے۔
ایف سید، دبئی: کاش ایسی سوچ ساری فوج کی ہو جائے، تو حالات بہت حد تک بدل جائیں گے۔ شفیع بلہ، برطانیہ: محمد فاروق شاہ، جموں: ہدایت خان، برطانیہ: محمد اکبر، لاہور: عمر نواز خان بنگش، کراچی: | اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||