’اندھیرے میں سائے تلاش کرنے کا فن‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ کشمیر میں تعینات ایک انڈین فوجی کی ڈائری ہے جو آپ ہر ہفتے ہمارے صفحات پر پڑھ سکیں گے۔
پھر باہر جانا تھا۔ ہر رات اس طرح باہر جانا آسان نہیں۔ آخر سردیوں کا موسم ہے۔ مگر کوئی کیا کر سکتا ہے۔ ہمارے گروپ میں دو مختلف قسم کے فوجی ہیں۔ ایک تو وہ جو نئے ہیں۔ یہ علاقے اور اس قسم کا آپریشن ان کے لیے بالکل نیا ہے۔ اٹھارہ سے تئیس سال کے نوجوان لڑکے۔ دوسرے وہ جو یہ سب پہلے کر چکے ہیں، دیکھ چکے ہیں، اب تک زندہ ہیں تو ظاہر ہے کہ منجھے ہوئے ہیں۔ میں نیا ہوں۔ اس قسم کے آپریشن میں تو میں پہلے حصہ لے چکا ہوں مگر یہ علاقہ میرے لیے بالکل نیا ہے۔ آہستہ آہستہ مجھے اس سردی کی عادت پڑنے لگی ہے، نیند بھگانے کے طریقے سیکھنے لگا ہوں، اور مجھے اندھیرے میں سائے تلاش کرنے کا فن آنے لگا ہے۔ ہر رات اندھیری، سرد راتوں میں گھنٹوں انتظار کرنا آسان نہیں۔ انتظار کرنا کہ کب وہ اندھیرے سے باہر آئے گا اور ہم اسے مار دیں گے۔ یہاں ہر تجربہ کار فوجی کا ساتھی ایک نسبتاً نیا فوجی ہوتا ہے۔ میرا ساتھی ایک انیس سالہ نوجوان ہے۔ وہ وسطی انڈیا کے ایک گاؤں سے ہے۔ خاندانی کسان ہے، فوج میں صرف اس وجہ سے ہے کہ اپنے گھر والوں کا پیٹ پال سکے۔ میں اسے وہ سب سکھاتا ہوں جو یہاں زندہ رہنے کے لیے ضروری ہے۔ اپنے ساتھ کیا لے کر چلنا ہے، جوتے پہننے کا طریقہ، خود کو گرم رکھنے کے ساتھ ساتھ دوڑنے میں آسانی کے لیے کس قسم کے کپڑے پہننا، نشانہ لگا کر گولی چلانا تاکہ دشمن بچ نہ سکے۔۔۔ مجھے ہمیشہ پڑھانے کا شوق تھا۔ مگر وہ تب تھا جب میں بچوں کو ادب پڑھانے کے بارے میں سوچا کرتا تھا۔ اب میں یہاں ایک نوجوان لڑکے کو کسی کی جان لینے کا ہنر سکھا رہا ہوں۔ بنا کسی خوف، رحم یا پچھتاوے کے۔ بالکل ویسے ہی جیسے مجھے سکھایا گیا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ بڑا مقصد جس کے لیے آپ یہ سب کر رہے ہیں دھندلا پڑ جاتا ہے۔ کچھ دیر بعد عادت پڑ جاتی ہے، رات کو شکاریوں کی طرح شکار کی تلاش میں نکلنا قدرتی لگنے لگتا ہے، کچھ دیر بعد کسی کو مار کر خوشی منانا بھی فطری لگتا ہے، کچھ دیر بعد اپنا آپ انسان نہیں لگتا۔ اس سرد اندھیری رات میں بیٹھے میں سوچتا ہوں کہ یہ کب ہوا۔ وہ لڑکا جو ادب پڑھنا اور پڑھانا چاہتا تھا وہ قتل کے فن کا ماہر کیسے بن گیا؟ میں اتنا بےحس کیسے ہوگیا؟ میرا پاس کوئی جواب نہیں۔ میں بس یہ جانتا ہوں کہ میں نے اپنی زندگی میں کچھ ایسے فیصلے کیے جن کی وجہ سے میں آج یہاں ہوں، اندھیرے میں، اس جنگل میں، شکار کے انتظار میں۔ بنا حوف، رحم یا پچھتاوے کے۔۔۔
سید سجاد الحسنین، حیدرآباد دکن: آپ کو پڑھانے کا شوق تھا، وہ بھی ادب۔ کتنا اونچا شوق تھا۔ آپ قلم پکڑنا چاہتے تھے۔۔۔آج آپ ایک نوجوان کو جان لینے کا ہنر سکھا رہے ہیں، بنا کسی خوف اور پچھتاوے کے۔ مگر سوال یہ ہے کہ پچھتاوا کیوں نہیں ہوتا؟ کسی کو مار کر خوشی منانا فطری کیوں لگتا ہے؟ انسان اتنا بےحس کیسے ہو جاتا ہے کہ اسے اپنا آپ ہی انسان نہیں لگتا؟ یہ سب میرے لیے شاید حیرت انگیز ہو لیکن جس پر یہ سب بیتی ہے اس کا کرب، اس کا درد اور اس کی تنہائی کتنی المناک ہوگی، اس جذبے کو شاید کوئی بھی جان نہ پائے۔ مگر کیا اس سے ہم دردی نہیں کی جا سکتی؟ ریحان نثار بقئی، پاکستان: |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||