BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 January, 2007, 12:45 GMT 17:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’زندگی کی دھند‘
انڈین فوجی بلاگ

یہ کشمیر میں تعینات ایک انڈین فوجی کی ڈائری ہے جو آپ ہر ہفتے ہمارے صفحات پر پڑھ سکیں گے۔



چوبیس جنوری، دو ہزار سات:

یہاں سردیوں نے ابھی اپنا پورا جلوہ نہیں دکھایا۔ نومبر کے بعد سرینگر کو اب بھی برف کا انتظار ہے۔ ہاں کبھی کبھی گہری دھند ضرور چھا جاتی ہے۔

میں رات کو باہر جاتا ہوں تو یہ دھند مجھے اپنے اندر چھپا لیتی ہے۔ کچھ دکھائی نہیں دیتا، نہ کوئی مجھے دیکھ سکتا ہے۔ میرے خیال نہ جانے کیوں ماضی کا رخ کرتے ہیں۔

میں اس عورت کے بارے میں سوچنے لگتا ہوں جس سے میں کبھی محبت کیا کرتا تھا۔ وہ خوب صورت تھی۔ یہ لفظ بھی ناکافی لگتا ہے اس کی خوبصورتی بیان کرنے کے لیے۔ مگر میرا مطلب صرف اس کی صورت سے نہیں۔ اس ایک انداز تھا، اس کی شخصیت جس نے مجھے دیوانہ کر دیا تھا۔

وہ شرارتی تھی، ہر موضوع پر اس کی کوئی نہ کوئی رائے تھی، ایسے الجھے جواب دیتی تھی کہ بس۔ اس کی ہنسی پہاڑیوں سے اترتے جھرنے کی طرح تھی۔ میں اس سے بات کرتا تو ایک دوسری دنیا میں پہنچ جاتا۔ ایک ایسی دنیا جس سے میں کبھی واپس نہیں آنا چاہتا تھا۔ مجھ پر ایک عجیب سا یقین اور بھروسہ تھا اسے۔ جس کی وجہ سے میرا اپنے آپ پر یقین بڑھ جاتا۔

وہ میرا ستارا تھی۔ ایک ایسا تارا جو میری زندگی کے کسی بھی سورج سے زیادہ روشن تھا۔ میں اس سے مکمل طور پر، دیوانوں کی طرح محبت کرتا تھا، مگر (زندگی میں ہمیشہ ’مگر‘ ہوتا ہے، ہے نہ؟)، مگر اس سے پہلے کہ میں اسے کچھ بھی بتا پاتا وہ چلی گئی اور میری زندگی بھی کہیں آگے نکل گئی۔

جیسے جیسے میرے گرد یہ دھند گہری ہوتی جاتی ہے، میں زندگی سے بس ایک اور موقعہ چاہتا ہوں۔ میں اس کا ہاتھ تھامے سمندر کے ساحل پر چلنا چاہتا ہوں، سورج کی کرنوں کو اس کے چہرے کو چھوتے دیکھنا چاہتا ہوں، ڈوبتے سورج کو اس کی آنکھوں میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ ایک موقعہ چاہتا ہوں اسے بتانے کے لیے وہ سب کچھ جو میں محسوس کرتا ہوں۔ اس کے لیے وہ پھول لانا چاہتا ہوں جنہیں دیکھ کر وہ ہمیشہ مسکرا دیتی ہے۔

مگر زندگی بس یوں ہی دوسرے موقعے نہیں دیتی ناں؟ دھند ہلکی ہو رہی ہے اور کوئی مجھے آواز دے رہا ہے۔ میرا ساتھی کہہ رہا ہے کہ ہمیں جانا ہوگا۔ ’کچھ خبر آئی ہے‘۔ دھند اب تقریباً پوری طرح چھٹ چکی ہے۔ اپنی بندوق لوڈ کرتے ہوئے ایک ہی خیال میرے ذہن میں آتا ہے، کاش یہ دھند کچھ دیر اور ٹھہر گئی ہوتی۔۔۔


’آپ کیا کہتے ہیں‘

سجاد الحسنین، حیدرآباد دکن:
جناب آپ کی یہ کہانی جتنی خوب صورت ہے اتنی ہی کرب ناک بھی۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ یہ دھند ہمیشہ کے لیے ٹھہر جاتی؟ لیکن نہیں، اگر ایسا ہوتا تو پھر جنت کی تمنا کون کرتا؟ محبت کی نزاکت کا یہ انداز یقیناً پاکیزہ ہے، والہانہ ہے اور ایسا ہے کہ ان کی دیوانگی کا یقین ہو جائے۔ مگر حیرت ہوتی ہے کہاتنے نازک جذبات اور دھڑکتا دل رکھنے والا شخص اتنا مجبور بھی ہے کہ ایک ہی آواز میں بندوا تان لے؟ شاید اسی لیے انہوں نے کہا ہے کہ ان کی زندگی کہیں آگے نکل گئی ہے۔ کہاں یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب وہی دے سکتا ہے جو دھند کی لپیٹ میں آگیا ہو، یا کسی اندھیری گھر نے اپنے اندر اسے سمیٹنے کی کوشش کی ہو۔ کاش کہ وہ دھند کچھ دیر نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ٹھہر گئی ہوتی تاکہ اس دیوانے کو ایک موقعہ اور مل جاتا۔۔۔مگر پھر وہی سوال، کیا ایسا ہو سکتا ہے؟

فیصل سلام، کراچی:
ساودھان میں شامل تمام کہانیاں ایسا لگتا ہے یہ کسی پختہ لکھاری کی کاوش ہے۔ میں نہیں سمجھتا ایک عام انڈین فوجی اتنے اچھے طریقے سے اپنے احساسات کو اتنی آسانی سے قلم بند کر سکتا ہے۔ بہرحال دلوں کو چھو جانے والی کہانیوں کے لیے شکریہ۔۔۔

ایس ایم شعیب جسنک، کراچی:
آج کا عنوان، ’زندگی لی دھند‘ پڑھ کر بہت افسوس ہوا۔ نہ جانے اس دل جلے کا یہ سپنا کب پورا ہوگا۔ اس بات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیر میں موجود انڈین فوجیوں کے نہ جانے ایسے کتنے سپنے پورے ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جاتے ہیں۔ کیا ان کی اپنی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں؟ کیا انہیں اس دنیا میں اوروں کی طرح جینے کا کوئی حق نہیں؟ کیا ان کے اپنے ان کی راہ نہیں دیکھتے ہوں گے؟ میں دعا کرتا ہوں کہ الل ان کی ہر جائز سپنے کو پورا کرے۔ آمین۔

شاہدہ اکرم، متحدہ عرب امارات:
آپ کے پچھلے بلاگ پڑھ کر میں بہت حیران ہوئی تھی لیکن پریشان نہیں ہوئی تھی۔ اب یہ والا بلاگ پڑھ کر تو کچھ گم سم ہو رہی ہوں کہ ایک فوجی اور ایسے نازک جذبات۔ سوچ کر ہی عجیب سا احساس ہو رہا ہے۔ لیکب اب آپ کہیں گے کہ فوجی بھی تو انسان ہوتے ہیں۔۔۔ہاں ہوتے تو ہیں لیکن یقین کیوں نہیں آتا؟

عباس کاظمی، پاکستان:
یہاں کوئی بھی سمجھنے والا نہیں ہے۔۔۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
انڈین فوجی بلاگ ’سایہ ہر طرف‘
سرینگر سے ایک انڈین فوجی کا بلاگ
انڈین فوجی بلاگ ’نہ جانے وہ کون تھا‘
سرینگر سے ایک انڈین فوجی کا بلاگ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد