BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 February, 2007, 15:50 GMT 20:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’گھر‘ نہ جانے کہاں ہے
انڈین فوجی بلاگ

یہ کشمیر میں تعینات ایک انڈین فوجی کی ڈائری ہے جو آپ ہر ہفتے ہمارے صفحات پر پڑھ سکیں گے۔


چودہ فروری، دو ہزار سات:
میں نو عمری میں ہی فوج کا حصہ بن گیا تھا۔ مجھے فوج کی وردی پہننے کا بہت شوق تھا۔ فوج کے ساتھ جڑی شان سے بہت متاثر تھا میں۔ ایڈوینچر کا وعدہ۔ ایک مختلف زندگی کا وعدہ۔

جب میری ٹریننگ شروع ہوئی تو فوج کے تمام وعدے سچے لگے۔ زندگی بالکل مختلف تھی اور مشکل بھی۔ فوج نے مجھے خود کو سمجھنے کا موقعہ دیا اور بہت کچھ سکھایا۔ میں نے جانا کہ انسان کے اندر کچھ بھی کر گزرنے کی ایسی طاقت ہے جس کا وہ استعمال نہیں کرتا۔ اگر انسان چاہے تو کچھ بھی حاصل کر سکتا ہے۔ کچھ بھی۔ ایسا کوئی درد نہیں جس پر قابو نہیں پایا جا سکتا، اور ایسا کوئی مقصد نہیں جسے پورا نہیں کیا جاسکتا اگر چاہو تو۔ فوجی یا تو اپنا مقصد حاصل کرتے ہیں یا پھر کوشش کرتے کرتے جان دے دیتے ہیں۔

میں نے یہ بھی جانا کہ انسان کی اصل شخصیت مشکل میں سامنے آتی ہے۔ میں نے جانا کہ اخلاق کیا ہوتے ہیں اور اقدار کسے کہتے ہیں۔ میں نے سیکھا کہ قابل احترام ہونے کے لیے آپ کا کسی ایک ملک، مذہب یا فرقے سے تعلق ضروری نہیں۔ بس یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے دل کی بات سنیں۔

یہ سب میں نے ٹریننگ کے دوران سیکھا۔

اور پھر مجھے اصل دنیا کا سامنا ہوا۔ ایک فوجی کی زندگی آسان نہیں۔ میں زیادہ تر اپنے گھر سے دور رہتا ہوں، دور افتادہ، انجان جگہوں پر۔ یہاں تک کہ کچھ دیر بعد ’گھر‘ کی تعریف دھندھلی پڑ جاتی ہے۔ اپنے ماں باپ کے لیے اجنبی سا بن گیا ہوں۔ میرے دوست کبھی کبھار فون کر دیا کرتے ہیں، یہ جاننے کے لیے کہ میں ابھی زندہ ہوں یا نہیں۔

میرے گھر میں جو کمرہ میرا ہوا کرتا تھا اب وہاں ہے ہی نہیں۔ اپنے والدیں کے ساتھ ایک مہمان کی طرح رہتا ہوں۔ میرے بھائی کو مجھ سے بات شروع کرنے میں دو دن لگ جاتے ہیں۔

جہاں کہیں طاقت کا استعمال ہوتا ہے وہاں موت، تباہی، خون، غم، اور درد ہوتا ہے اور مجھ سے یہ سب برداشت نہیں ہوتا۔ کتنی بھی ٹریننگ آپ کو جنگ اور تشدد کے انسانی المیہ کے لیے تیار نہیں کر سکتی۔ مجھے احساس ہوا کہ نظام ہمیشہ صحیح نہیں ہوتا۔ میں نے کئی بار سوچا کہ سب چھوڑ کر کہیں چلا جاؤں۔ مگر وہ تو بھاگ جانے کے مترادف ہوتا ناں؟

باہر کھڑے ہو کر تنقید کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ اتنا ہی آسان جتنا نظام کا حصہ بن کر اس میں تبدیلی لانے کی کوشش کرنا مشکل۔ شاید میں کچھ بھی نہ بدل سکوں، شاید میں کوئی تبدیلی نہ لا سکوں مگر کوشش کرنا میرے لیے ضروری ہے۔ اس لیے کہ مجھے یقین ہے کہ فوجی دراصل جنگ اور تشدد نہیں چاہتے۔ اس لیے نہیں کہ وہ ڈرتے ہیں بلکہ اس لیے کہ جنگ کا سب سے زیادہ اور براہ راست اثر ان پر پڑتا ہے۔

اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ زیادہ تر فوجی میرے ہی جیسے ہیں۔


’آپ کیا کہتے ہیں‘

سجاد الحسنین، حیدرآباد دکن:
اس سے زیادہ دردناک بات کیا ہوگی کہ آپ اپنے والدین کے لیے اجنبی ہو جائیں۔کتنی کربناک بات ہے کہ ملک کی حفاظت کرنے والے جو ہر درد کو جھیل جاتے ہیں ان کی اپنی زندگی اتنی مشکل ہوتی ہے۔ اور یہ سب صرف ایک مختلف اور دلفریب زندگی کے وعدے کے لیے۔کتنی عجیب بات ہے کہ ہر درد کو سہنے کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے ٹریننگ دی جاتی ہے مگر جنگ اور تشدد کا سامنا ہوتا ہے تو انسان کو احساس ہوتا ہے کہ اپنے سینے پر گولی کھانا آسان ہے مگر کسی کو درد میں مبتلہ کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ کاش سب یہ سمجھ جائیں کہ جنگ صرفاور صرف ایک انسانی المیہ ہوتی ہے اور کچھ نہیں۔

مومن مغل، اسلام آباد:
میں فوج کا حصہ نہیں مگر آپ کے مسائل کو سمجھ سکتا ہوں۔ آپ کی ڈائری پڑھ کر بہت اچھا لگتا ہے۔ بہت اچھا لکھتے ہیں آپ۔

عمر نواز خان بنگش، پاکستان:
آپ جیسے فوجی کی باتیں سن کر واقعی لگتا ہے کہ آپ لوگ بندوق کے ساتھ ساتھ اچھی سوچ بھی رکھتے ہیں۔ مگر آپ کی بندوق آپ کا سب سے بڑا جرم ہے۔ یہ صرف اس کو بری لگتی ہے جس کی طرف آپ کی بندوق کا رُ ہو۔ اگر آپ لوگ اسی طرح زبان کا اسلحہ استعمال کریں تو یقیناً کشمیری بھی آپ سے محبت کرنے لگیں گے۔ فوجی کا سب سے بڑا قصور اس کا فوجی ہونا ہے۔

شاہدہ اکرم، ابو ظہبی:
آج پھر ایک فوجی کی ڈائری پڑھ کر یہ محسوس ہوا کہ فوجی بھی ہماری طرح انسان ہی ہوا کرتے ہیں۔ ان کو بھی وہی دکھ، تکلیفیں دکھی کرتی ہیں جو ہمارا دل دکھاتی ہیں۔ ان کو بھی ہماری طرح رشتے عزیز ہوتے ہیں اور رشتوں کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ تو بھائی اگر ایسا ہے تو سب کچھ چھڑ دو ناں۔ لیکن پھر فوج کیسے بنے گی؟ جنگیں کیسے لڑی جائیں گی؟ اور بڑے ملک اور بڑے کیسے ہوں گے؟ یہ سب کون کرے گا؟ یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی، کوئی سمجھائے گا مجھے۔

شعیب جسنک، کراچی:
میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام کا پرانا قاری ہوں اور شکر گزار ہوں کہ آپ نے یہ سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس ہفتے کا کلام پڑھ کر یہ سوچتا ہوں کہ ہندوستانی فوج کے جوانوں نے آحر ایسا کون سا گناہ کیا ہے جس کی ان کو اتنی بڑی سزا مل رہی ہے۔کہ کئی کئی سال بیتنے کے بعد بھی اپنی زندگی ٹھیک ھرح سے نہیں جی سکتے۔ ایک شخص اپنے ہی گھر میں مہمانوں کی طرح رہے۔۔۔یہ کیسی آزادی ہے جہاں خوشی اور غم میں فوجی اپنے گھر والوں کے ساتھ نہیں ہو سکتے ہیں۔ فوج میں شمولیت اس کا سپنا تھا لیکن اگر اسے معلوم ہوتا کہ اس سپنے کی تعبیر ایسی ہوگی تو شاید اپنا فیصلہ بدل دیتا۔ میں اس فوجی کے لیے دعا کرتا ہوں۔۔۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
انڈین فوجی بلاگ کچھ سمجھ نہیں آتا
’۔۔۔کس کا دشمن کون ہے؟‘
انڈین فوجی بلاگ سرد اندھری رات میں
’۔۔۔ باہر آئے گا اور ہم اسے مار دیں گے‘
انڈین فوجی بلاگ ’زندگی کی دھند‘
سرینگر سے ایک انڈین فوجی کا بلاگ
انڈین فوجی بلاگ ’نہ جانے وہ کون تھا‘
سرینگر سے ایک انڈین فوجی کا بلاگ
انڈین فوجی بلاگ ’سایہ ہر طرف‘
سرینگر سے ایک انڈین فوجی کا بلاگ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد