’گھر‘ نہ جانے کہاں ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ کشمیر میں تعینات ایک انڈین فوجی کی ڈائری ہے جو آپ ہر ہفتے ہمارے صفحات پر پڑھ سکیں گے۔
جب میری ٹریننگ شروع ہوئی تو فوج کے تمام وعدے سچے لگے۔ زندگی بالکل مختلف تھی اور مشکل بھی۔ فوج نے مجھے خود کو سمجھنے کا موقعہ دیا اور بہت کچھ سکھایا۔ میں نے جانا کہ انسان کے اندر کچھ بھی کر گزرنے کی ایسی طاقت ہے جس کا وہ استعمال نہیں کرتا۔ اگر انسان چاہے تو کچھ بھی حاصل کر سکتا ہے۔ کچھ بھی۔ ایسا کوئی درد نہیں جس پر قابو نہیں پایا جا سکتا، اور ایسا کوئی مقصد نہیں جسے پورا نہیں کیا جاسکتا اگر چاہو تو۔ فوجی یا تو اپنا مقصد حاصل کرتے ہیں یا پھر کوشش کرتے کرتے جان دے دیتے ہیں۔ میں نے یہ بھی جانا کہ انسان کی اصل شخصیت مشکل میں سامنے آتی ہے۔ میں نے جانا کہ اخلاق کیا ہوتے ہیں اور اقدار کسے کہتے ہیں۔ میں نے سیکھا کہ قابل احترام ہونے کے لیے آپ کا کسی ایک ملک، مذہب یا فرقے سے تعلق ضروری نہیں۔ بس یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے دل کی بات سنیں۔ یہ سب میں نے ٹریننگ کے دوران سیکھا۔ اور پھر مجھے اصل دنیا کا سامنا ہوا۔ ایک فوجی کی زندگی آسان نہیں۔ میں زیادہ تر اپنے گھر سے دور رہتا ہوں، دور افتادہ، انجان جگہوں پر۔ یہاں تک کہ کچھ دیر بعد ’گھر‘ کی تعریف دھندھلی پڑ جاتی ہے۔ اپنے ماں باپ کے لیے اجنبی سا بن گیا ہوں۔ میرے دوست کبھی کبھار فون کر دیا کرتے ہیں، یہ جاننے کے لیے کہ میں ابھی زندہ ہوں یا نہیں۔ میرے گھر میں جو کمرہ میرا ہوا کرتا تھا اب وہاں ہے ہی نہیں۔ اپنے والدیں کے ساتھ ایک مہمان کی طرح رہتا ہوں۔ میرے بھائی کو مجھ سے بات شروع کرنے میں دو دن لگ جاتے ہیں۔ جہاں کہیں طاقت کا استعمال ہوتا ہے وہاں موت، تباہی، خون، غم، اور درد ہوتا ہے اور مجھ سے یہ سب برداشت نہیں ہوتا۔ کتنی بھی ٹریننگ آپ کو جنگ اور تشدد کے انسانی المیہ کے لیے تیار نہیں کر سکتی۔ مجھے احساس ہوا کہ نظام ہمیشہ صحیح نہیں ہوتا۔ میں نے کئی بار سوچا کہ سب چھوڑ کر کہیں چلا جاؤں۔ مگر وہ تو بھاگ جانے کے مترادف ہوتا ناں؟ باہر کھڑے ہو کر تنقید کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ اتنا ہی آسان جتنا نظام کا حصہ بن کر اس میں تبدیلی لانے کی کوشش کرنا مشکل۔ شاید میں کچھ بھی نہ بدل سکوں، شاید میں کوئی تبدیلی نہ لا سکوں مگر کوشش کرنا میرے لیے ضروری ہے۔ اس لیے کہ مجھے یقین ہے کہ فوجی دراصل جنگ اور تشدد نہیں چاہتے۔ اس لیے نہیں کہ وہ ڈرتے ہیں بلکہ اس لیے کہ جنگ کا سب سے زیادہ اور براہ راست اثر ان پر پڑتا ہے۔ اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ زیادہ تر فوجی میرے ہی جیسے ہیں۔
سجاد الحسنین، حیدرآباد دکن: اس سے زیادہ دردناک بات کیا ہوگی کہ آپ اپنے والدین کے لیے اجنبی ہو جائیں۔کتنی کربناک بات ہے کہ ملک کی حفاظت کرنے والے جو ہر درد کو جھیل جاتے ہیں ان کی اپنی زندگی اتنی مشکل ہوتی ہے۔ اور یہ سب صرف ایک مختلف اور دلفریب زندگی کے وعدے کے لیے۔کتنی عجیب بات ہے کہ ہر درد کو سہنے کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے ٹریننگ دی جاتی ہے مگر جنگ اور تشدد کا سامنا ہوتا ہے تو انسان کو احساس ہوتا ہے کہ اپنے سینے پر گولی کھانا آسان ہے مگر کسی کو درد میں مبتلہ کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ کاش سب یہ سمجھ جائیں کہ جنگ صرفاور صرف ایک انسانی المیہ ہوتی ہے اور کچھ نہیں۔ مومن مغل، اسلام آباد: عمر نواز خان بنگش، پاکستان: شاہدہ اکرم، ابو ظہبی: شعیب جسنک، کراچی: |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||