قطر سے سہیل صاحب اور انکے ساتھی میروالہ ہمارے پاس آئے۔ وہ کئی مہینوں سے پروگرام بنارہے تھے۔ اپنا تعارف ٹی وی کے نمائندہ کی حثیت سے کراتے ہیں بہرحال دو دن وہ یہاں رہے، سکول اور مختلف پراجیکٹ سے متعلق ریکارڈنگ اور انٹرویو ہوتے رہے۔
صبح کو ڈرائیور نے دروازے پر دستک دی۔ اندر بلایا اور اس نے چار پانچ لفافے خط کے ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھے۔ میں نے لیے اور کھول کر پڑھنے لگی۔ صاف و سہل اردو میں لکھے ہوئے خطوط وغیرہ تو میں آسانی سے پڑھ لیتی ہوں مگر کچھ لیٹر میری دوست نسیم مجھے پڑھ کر سناتی ہے اس دفعہ زیادہ تر عید کارڈ وغیرہ تھے۔ اس میں ایک کارڈ مختیار حسین لڑکے کا تھا جو کہ مظفر گڑھ میں ایک پرائیویٹ سکول میں چوکیدار ہے۔ یہ بچہ یتیم ہے۔ تقریباً ڈیڑھ دو سال سے ہمارے پاس اپنی والدہ کے ہمراہ آتا رہا ہے۔ اس نے کئی سرکاری محکموں میں نوکری کی درخواستیں دیں۔ ہم نے بھی کئی سرکاری افسران کو درخواست کی مگر اس غریب کو نوکری نہ ملی۔ اس بچے کا خلوص اور محبت ہے کہ اس نے عید کے موقع پر کارڈ بھیجا۔
وومن کرائسس سنٹر میروالہ چھ سات ماہ سے کرائسس کا شکار ہے جہاں بے سہارا خواتین پناہ لتیی ہیں۔ پچھلے سال مجھے بھی اسلام آباد میں کرائسس سنٹر برائے خواتین میں ٹھہرایا گیا۔ میری وہاں پر خواتین سے ملاقات ہوئی جنہیں کھانے پینے اور رہائش کے علاوہ قانونی اور میڈیکل سپورٹ بھی حاصل تھی۔ مجھے لگا کہ یہ ادارہ خواتین کے لیے موزوں ہے جہاں انہیں مکمل سیکیورٹی حاصل ہے۔ اس سے قبل میرے ذھن میں ایسا ائیڈیا نہیں تھا۔ خیر میں نے حکومت پاکستان سے اپیل کی کہ میرے علاقہ میروالہ میں وومن سنٹر بنایا جائے کیوں کہ یہاں پر آنے والی خواتین بہت زیادہ ہیں جو حکومت نے کر لی۔ اسلام آباد سے واپس آتے ہی میں نے چھوٹا سا وومن سنٹر شروع تو کر دیا مگر کچھ عرصہ کے بعد ’کرائسس سینٹر میروالہ‘ کے سرکاری احکامات آگئے۔ میں اس وقت ملک سے باہر تھی۔ یہ احکامات ضلعی انتظامیہ کے پاس آئے۔ ضلعی انتظامیہ نے اپنی رپورٹ وومن ڈویلپمنٹ منسٹری بھجوادی کہ یہ سینٹر ضلع مظفرگڑھ میں بنایا جائے ناکہ میروالہ میں۔ خیر میں واپس آئی۔ حالات معلوم ہوئے تو ضلعی انتظامیہ کے ساتھ رابطہ کیا۔ مظفرگڑھ بلایا گیا۔ وہاں پر گئے تو کرائسس سینٹر کا اکاؤنٹ بھی کھل چکا تھا اور کمیٹی بھی تشکیل پا چکی تھی۔ اس میں ضلع بھر کی تنظمیوں کے نمائندے بھی موجود تھے مگر اس میں میری تنظیم کا نام سرے ہی سے غائب تھا۔ سب لوگوں کا تعارف ہوا۔ جب ہماری باری آئی تو نسیم نے مختیار مائی وومن ویلفئر آرگنائزیشن کا تعارف کرایا۔ آئی ڈی او نے کہا کہ ہمیں پتہ نیہں تھا کہ آپ کی بھی تنظیم ہے۔ یہ ایک خوبصورت جھوٹ تھا۔ اس کے بعد کئی میٹنگز ہوئیں۔ وومن سنٹر میروالہ کے لیے منظور ہوگیا مگر آج تک التواء کا شکار ہے۔ لیکن مجھے یہ سمجھنے میں ضرور مدد ملی کہ ہمارے ملک میں جہاں وڈیرے، سردار اور جاگیردارانہ طبقہ ظالم ہے وہاں افسر شاہی بھی کسی طور پر کم نہیں۔ غریبوں اور بے سہارا لوگوں کے لیے ریلیف نہ دینا ہمارے ہاں کی روایت بن چکی ہے۔ مختلف خواتین اور لوگ حسب معمول آتے رہے۔ اسی دوران عجیب بات یہ ہوئی کہ میرے سابقہ شوہر کی سالی مصباح ہمارے گھر آئی۔ اس سے سلام دعا کے بعد میں اور نسیم کھانا کھانے لگے اور اسے بھی کھانا دیا۔ کھانے کے بعد اس نے ہماری جانب ایک کاغذ کا ٹکڑا بڑھا دیا جس میں کچھ لکھا ہوا تھا۔ میں نے دیکھا اور نسیم کی جانب بڑھا دیا۔ اس خط کی تحریر کا خلاصہ کچھ یوں تھا کہ ’مجھے اور میری بیوی کو علاقہ کے جاگیردار اور مستوئی قبیلے کے لوگ آکر پیش کش کرتے ہیں کہ آپ کے خلاف بیان دیں اور پیسوں کی پیش کش کرتے ہیں۔ پہلے میری تصویر بھی ان لوگوں نے دھوکہ سے لی تھی کہ بیت المال سے زکوٰۃ کا پیسہ لے کر دیں گے مگر بعد میں آپ کے نام سے اور آپ کے خلاف مجھ سے منسوب کر کے خبریں چھپواتے رہے۔ اب لوگ آکر مجھے کہتے ہیں کہ دیکھو مختار کے پاس لاکھوں ہیں اور تمہارے پاس کچھ نہیں، وہ تمہیں کچھ نہیں دیتی۔ لوگ مجھے طعنے دیتے ہیں۔ مہربانی کر کے مجھے ایک کمرہ بنوا دو کیونکہ میرا مکان گرنے والا ہے اور میرے بچے غیر محفوظ ہیں۔ مستوئیوں نے مجھے ایک لاکھ روپیہ دینے کا کہا مگر میں نے انہیں ٹھکرا دیا ہے۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔‘ یہ خط میرے سابق شوہر عمر وڈا کی جانب سے تھا۔ مجھے بہت افسوس ہوا کہ سوچنے کے یہ انداز ہوتے ہیں۔ خیر یہ ایک دھکی آمیز خط تھا۔ میں نے مصباح سے کہا کہ انہیں بتا دے کہ میں نے کچھ غلط نہیں کیا اور نہ میرے ضمیر پر کسی قسم کا بوجھ ہے۔ جو تھوڑا بہت کرنے کی کوشش میں کر رہی ہوں انشاءاللہ کر لوں گی۔ اس کا ضمیر اسے جو اجازت دیتا ہے وہ کرلے، اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ میروالہ میں ایک چھوٹا سا کلینک مکمل ہونے کے مراحل میں ہے۔ دو دن اسی کا سامان لینے اور مستری و مزدوروں کا حساب کتاب کرنے میں گزرگئے کیونکہ امریکہ جانا ہے تو بعد میں کون حساب کرے گا۔ بس اسی طرح کی کئی مصروفیات ہوتی ہیں اور وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا۔
ہم تیاری میں تھیں۔ ٹکٹ وغیرہ کا مسئلہ تھا کہ ڈائریکٹ فلائٹ ہوجائے تاکہ لمبے سفر میں آسانی ہو۔ تقریباً عصر کے وقت ایک بوڑھی عورت ایک دس گیارہ سالہ بچی کے ہمراہ میرے کمرے میں آئی۔ میں ان سے ملی اور بیٹھ گئی۔ بوڑھی عورت نے بچی سے کہا کہ بہن کو بتاؤ کہ ظالم لوگوں نے تمہارے ساتھ کیا کیاہے۔ بچی رونے لگی اور کہنے لگی کہ میری ماں فضلوں مائی عرصہ دراز سے خاندانی جھگڑے کے باعث ماموں وغیرہ کے پاس تھی۔ اس عید پر وہ ہمارے باپ یعنی اپنے شوہر کے بچوں سے ملنے آئی۔ یہ خبر ہمارے ننہال کو ہوئی تو میرے ماموں میری امی کو ڈانٹے، مارتے پیٹتے لے گئے کہ بغیر اجازت کیوں ادھرگئی۔ اسی غصہ اور عناد کے باعث میری امی کو کراچی لے گئے اور وہاں میری ماں کو اذیتیں دے دے کر مار دیا اور گاؤں میں لاش ہمیں ماں کا آخری دیدار کرائے بنا دفنا دی اور ہمیں نہیں آنے دیا۔ بچی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ میں نے متعلقہ مقامی تھانہ سے معلوم کیا تو واقعی ایسا تھا۔ مگر کیس یہاں رجسٹر نہیں ہوا تھا کہ جرم کراچی میں واقع ہوا ہے۔ لہذا وہاں کی پولیس اس کیس کی تفتیش کریگی۔ یہ یہاں کے مجسٹریٹ کا حکم بھی ہے۔ میں نے انہیں کہا کہ کراچی میں مقامی تھانہ جائیں تاکہ اس کیس سے متعلق مدد مل سکے اور مقامی پولیس نے بھی کہا کہ ہم ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ یہ دردناک سچائی کئی روپ دھارے روز میرے در پر کھڑی ہوتی ہے کہ ہمارے ہاں یہ نام نہاد غیرت مندانہ اور خاندانی عزت و وقارکے نام پر فرسودہ رسم و رواج کب تک بےگناہوں کا قتل عام کراتے رہیں گے؟ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
آج ہم نے اپنی پیکنگ وغیرہ کی کیونکہ آج رات ہی ہم نے لاہور کے لیے نکلنا ہے۔
تقریباً بارہ ایک بجے لاہور پہنچے جہاں ہمیں کچھ کام تھے۔ ایشیا فاؤنڈیشن کے تنظیمی ارکان سے میٹنگ تھی۔ ہم نے اپنے لیے بند جوتے لیے اور ائیرپورٹ کے لیے روانہ ہوگئے۔
ہم لاہور کے علامہ اقبال انٹرنشینل ائیرپورٹ پر بیٹھے ہیں۔ ابھی دو بجے ہماری لاہور سے نیویارک روانگی ہے۔
سید محمد آصف، گوجرہ: میں آپ کے کام اور ہمت کی داد دیتا ہوں۔ شبانہ زیدی، سعودی عریبیہ: مختار بہن، آپ سے بات کیسے ہوسکتی ہے؟ میں آپ کی پرستار ہوں۔ ایم بابر، لندن: جو آپ کے ساتھ ہوا اس کا مجھے بہت دکھ ہے اور میں آپ کے اس تمام کام کی بہت قدر کرتا ہوں جو آپ غریب اور بےبس لوگوں کے لیے کر رہی ہیں۔ آپ پر خدا کی رحمتیں ہوں۔ نامعلوم: خواتین کے حقوق کے لیے آپ جو کچھ کر رہے ہیں وہ قابلِ تحسین ہے۔ اللہ آپ کو اپنی کوششوں میں کامیاب کرے۔ |