مائی بلاگ: ’اب یہ میری زندگی نہیں رہی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں اور نسیم فیلپ روبینٹ OH ایڈیشن کے دفتر جو کہ 49 منزل پر تھا پہنچ گئے۔ پبلشر ایڈیشن کا دفتر ہے جنہوں نے میری کتاب چھاپی۔ یہاں پر آفس کے مختلف لوگوں سے ملاقات کی۔ اس کے بعد فرانسیسی میڈیا سے بات چیت ہوئی اور پھر ہماری فڈیلا عمارہ سے ملاقات ہوئی جو وومن رائٹس پر انتہائی مؤثر اور مضبوط کام کرنے والی تنظیم کی صدر ہیں۔ تنظیم کے مختلف حصوں کا وزٹ کیا اور میں نے دسمبر میں ایک کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی قبول کی۔ اب فرانس میں مختار مائی وومن ویلفئیر آرگنائزیشن اور ان کی تنظیم مل کر خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد کریں گی اور اسی طرح پاکستان میں اور بہتر طریقے سے کام کیا جائے گا۔ مجھے حوصلہ ملتا ہے کہ عورتیں اب پوری دنیا میں اپنے حقوق کی خاطر متحرک ہیں۔ مگر ہمیں ابھی اور منظم اور متحرک ہونا ہوگا۔
صبح دس بجے ہم OH ایڈیشن کے دفتر گئے جہاں یوتھ ویسٹ سے آئی ہوئی صحافی نے انٹرویو لیا۔ اس کے بعد ناروے سے آئی ہوئی ایک وومن جرنلسٹ سے انٹرویو تھا۔ مگر اس وقت دوپہر کے کھانے کا وقت ہو چکا تھا۔ ہم قریبی ریسٹورنٹ میں گئے۔ ناروض بی بی نے بھی ہمارے ساتھ لنچ کیا اور اسی دوران سوالات بھی ہوتے رہے۔ جرنلسٹ نے بتایا کہ ناروے میں بھی خواتین کے خلاف ہونے والی جنسی زیادتیوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ خاص کر اوسلو میں خواتین کے ساتھ ریپ کی واردات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے جس کے لیے نارویجن گورنمنٹ اور پولیس نے خواتین کو اکیلے اور گھر سے دیر سے نہ نکلنے کا مشورہ دیا ہے تاکہ ان زیادتیوں پر قابو پایا جا سکے۔ کس قدر دکھ کی بات ہے کہ عورت کے خلاف دنیا میں ہونے والے جرائم میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔ ان میں چاہے ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پذیر، عورت کے ساتھ امتیازی سلوک جاری و ساری ہے۔ اس کے بعد ہم آفس واپس آئے تو لندن سے پبلشر ملنے آئی۔ انہوں نے تھوڑی تھوڑی بات چیت کی۔ کچھ پوچھا، کچھ بتایا۔ 31 اکتوبر کو میری کتاب کی انگلش میں رونمائی تھی۔ اب لندن میں برٹش انگلش میں کتاب کا ترجمہ ہو چکا ہے اور فروری میں رونمائی کے سلسلے میں میٹنگ تھی جو بہت اچھی رہی۔ شام میں ہم ہوٹل واپس آ گئے۔
حسب معمول ہم OH ایڈیشن کے دفتر آ گئے۔ وہاں پیٹر سے ملاقات ہوئی جو کہ تقریباً ڈیڑھ دو سال قبل میرے گاؤں میر والہ آئے تھے۔ ان کا تعلق فرانسیسی ٹی وی چینل سے ہے۔ انہوں نے سکول کے متعلق پوچھا، گھر والوں کی خیریت معلوم کی اور کافی دیر ہمارے ساتھ رہے۔ ان سے ملاقات کے بعد فرانس میں ایک اطالوی اخبار کے نمائندے سے انٹرویو تھا۔ پھر ہم دوپہر کے کھانے کے بعد واپس دفتر آگئے۔ دفتر میں تھوڑی دیر بیٹھے تو ایک آدمی فلپ کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا۔ وہ کرسی پر بیٹھ گیا۔ مگر اس کی سانسیں ناہموار یعنی پھولی ہوئی تھیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ تیرہ گھنٹے کی فلائٹ لے کر صرف مجھے ملنے آیا تھا۔ اسی عجلت میں اپنا بیگ ائیرپورٹ پر گم کر آیا۔ سیف بھائی نے اس پر پھبتی کسی، ہم سب ہنس پڑے۔ خیر میری کتاب اس نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی۔ اس نے کہا پندرہ بیس گھنٹے پہلے مجھے یہاں پہنچنے کو کہا گیا لہذا میں نے اس کتاب کا کچھ مطالعہ کیا ہے۔ مگر میں آپ سے تفصیلی معلومات جاننا چاہتا ہوں کہ آپ نے ان حالات کا کیسے مقابلہ کیا اور اچھے کام کر کے دنیا کے لیے مثال بن چکی ہو۔ یہ صحافی بھائی جو آسٹریلیا سے آیا تھا اس کے چہرے پر تھکاوٹ کے آثار واضح تھے۔ مگر جو ٹائم اس کو دیا گیا تھا اسی وقت میں اس نے انٹرویو مکمل کر لیا۔ ہوٹل آکر ہم نے پیکنگ کی کیوں کہ اگلی صبح ہمیں واپس آنا تھا۔
دس بجے ہم اٹھے اور سیف بھائی کا انتظار کیا۔ وہ تقریباً ایک بجے ہمارے پاس آئے۔ ان کے ساتھ ہم نے لنچ کیا۔ فیلپ روبنیٹ ہمیں خدا حافظ کہنے ریسٹورنٹ آئے جہاں ہم نے کھانا کھایا۔ اس کے بعد ہم بھائی کے ساتھ ان کے چھوٹے بھائی شکیل کو مل کر ائیرپورٹ روانہ ہوگئے کیونکہ شام سات بجے ہماری فلائٹ تھی۔
ہم لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر تقریباً دس بجے پہبچ گئے۔ ہم سیدھے گھر آئے کیوں کہ عید کے حوالے سے پروگرام تھا۔ لاہور میں بارش ہو رہی تھی۔ رات میں ہم گھر پہنچے تھکاوٹ اتنی تھی کہ لیٹتے ہی نیند کی آغوش میں چلے گئے۔
کوشش تھی کہ گھر میں ہی رہیں۔ اسی رات غزالہ شاہین کی کبیروالہ سے کال آئی کہ میں آپ سے ملنا چاہتی ہوں۔ میں نے کہا آجائیں۔ غزالہ اپنے ابو، ماموں اور کزن کے ساتھ میرے ہاں آئی۔ غزالہ پریشان تھی کہ فیملی کی طرف سے اس پر دباؤ ہے کہ وہ گھر بسائے اور کیس چھوڑ دے جبکہ غزالہ ابھی اپنا کیس فائٹ کرنا چاہتی ہے۔ میں نے اور نسیم نے اس کے باپ کو سمجھایا کہ وہ اپنی فیملی کو قائل کریں اور غزالہ کو کیس فائٹ کرنے کی مہلت ملنی چاہیے۔ ہم نے غزالہ کو بھی سمجھایا کہ وہ ٹینشن کا شکار نہ ہو اور حوصلہ نہ ہارے۔ بہر حال ہم اس کا کیس لڑنے میں مدد کریں گے اور اس کو کرائسس ریلیف سنٹر میں رہنے کے لیے کہا۔ ہم نے کہا کہ ہم تمہاری حفاظت کریں گے۔ فیصلہ ہوا کہ عید کے بعد وہ فیملی والوں کو اعتماد میں لے کر ادھر آ جائے گی۔ روزہ رکھا ، گھر میں رہی اور آنے والی خواتین سے ملتی رہی اور چھوٹے موٹے کام کرتی رہی۔ نانی لال ملنے آئی۔ نانی لال میری نانی اماں ہیں۔ اس کی اپنی کوئی اولاد نہیں ہے۔ جب میں کہیں زیادہ دن گزار کر آؤں تو وہ پریشان ہوتی ہیں اور دعائیں کرتی ہیں۔ میں بھی ان کی بے حد عزت کرتی ہوں۔ امید یہی تھی کہ کل عید ہو جائے گی مگر عید نہیں ہوئی۔
میری دوست عید کی تھوڑی بہت تیاریوں میں لگی ہوئی تھی۔ سویاں لیں اور چنے منگوائے۔ چنا چاٹ بنائی ، فروٹ چاٹ بنائی۔ وہ خوش تھی کہ ہم سب عید اکٹھے منائیں گے، درزن سے اپنے اور میرے کپڑے لے آئی۔ مگر شام کو میں نے بہانہ کر دیا کہ کپڑوں کا رنگ ٹھیک نہیں ہے اور کہا کہ درزن نے ٹھیک نہیں بنائے وغیرہ وغیرہ۔ دراصل میں خوشیوں میں زیادہ شریک نہیں ہوتی، نہ شادی بیاہ میں۔ بس ایک طرف رہتی ہوں اور اپنے کام میں لگی رہتی ہوں کیوں کہ میری بچپن سے یہی عادت ہے کہ کم بولتی تھی اور زیادہ لوگوں میں نہیں جاتی اورگھلتی ملتی۔ بس اپنے کام سے کام رکھتی تھی۔ کڑھائی سلائی کرنا ، کھیتوں میں سبزیاں اگانا اور پودے لگانا، بس یہی شوق تھا۔ مگر آج مجھے لوگوں سے ملنا بھی پڑتا ہے، ریلیوں میں شرکت بھی کرنی پڑتی ہے کیوں کہ اب یہ میری زندگی نہیں رہی بلکہ لوگوں کے لیے ہے۔ اس لیے سب کچھ کر جاتی ہوں۔ شام کو میری دوست نسیم نے عید کے کپڑے لیس لگانے کے لیے دیئے تو میں نے کہا کہ یہ رنگ اچھا نہیں ہے کیوں کہ میں نئے کپڑے پہننا نہیں چاہتی تھی۔ پھر میری دوست درزن سے میری پسند کے کھڑے سلوا کر لے آئی۔ اب میرے پاس کوئی بہانہ نہ تھا۔ عید منا کر ہم لوگ رات کو کافی دیر سے سوئے۔
صبح گھر والوں کے پاس گئی۔ سب کو روزوں اور عید کی مبارک دی۔ گھر پر آنے والے مہمانوں کی تواضع کی۔ میر والہ میں عید گزاری پھر میں اور میری دوست ان کے گھر ان کی فیملی سے عید ملنے گئے۔ بچوں کو عیدی وغیرہ دی اور میر والہ لوٹ آئیں۔ آنے والوں کا سلسلہ جاری رہا اور رات ہوگئی۔
صبح اٹھے اور ناشتے کے بعد نسیم کو اپنی کزن صفیہ کو محب فقیر کی کھوٹی پر ملنے جانا تھا جو اسلام آباد سے آئی ہوئی تھی۔ نسیم میرے بھائی حضور بخش اور بہن نسمیہ کے ساتھ اپنے کزن کے گھر کے لیے روانہ ہوگئی تو میں اپنے کمرے میں سوگئی۔ عید کا دوسرا دن تھا نسبتاً کچھ سکون تھا۔ سکول میں عید کی چھٹیاں تھیں۔ این جی او آفس بھی چھٹیوں کے باعث بند تھا۔ تقریباً کوئی تین ساڑھے تین بجے نسیم کے بھائی منیر احمد کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ نسیم بہت پریشان تھی اس کے بھائئ کو قریبی شہر علی پور ہسپتال کے جایا گیا۔ میں علی پور پہنچی تو نسیم کے بھائی کی حالت بہت خراب تھی۔ ڈاکٹر نے ہر ممکن علاج کے بعد کہا کہ بھائی کو بہاولپور یا ملتان نشتر ہسپتال لے جائیں۔ لہذا کزنوں ، بھائیوں اور ابو کے ساتھ بھیج دیا۔ میں اور نسیم دونوں واپس آ گئیں۔ رات کے ایک بجے معلوم ہوا کہ نسیم کے بھائی کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔
صبح ہمارے مہمان جو کوریا سے آئے ہوئے تھے، کوریائی اخبار کے لیے انٹرویو اور سکول کا وزٹ کرنا تھا۔ میں اور نسیم بھائی کی وجہ سے خاصی پریشان تھیں لہذا ہم دونوں بہاولپور روانہ ہوگئیں۔ وہاں منیر سے ملے اور کچھ مقامی صحافیوں سے بھے ملے۔ شام کو ہم واپسں آ گئے۔ پریشانی کے باعث نیند بھی نہیں آ رہی تھی۔ کوئی پتہ نہیں کس وقت ہم سو گئیں۔
تقریباً آٹھ بجے کوریا کے مہمان آ گئے۔ ادھر ہمیں اپنی این جی او کے مختلف کام خاص کر سکول، ڈیری فارم، ہائی سکول، کلینک اور خواتین کے حقوق پر بات چیت، سوال جواب۔ یہ سلسلہ اگلے تین چار دنوں تک چلتا رہا کیوں کہ مہمانوں نے تقریباً ایک ہفتہ رہنا تھا۔ آج غزالہ شاہیں میرے پاس آئی۔ اس کی کہانی اس کی زبانی پیش کرنا چاہتی ہوں۔ ’جمعہ پچیس اور چھبیس اگست کی درمیانی شب بارہ آدمی جنہوں نے پولیس کی وردیاں پہنی ہوئی تھیں دیوار پھلانگ کر ہمارے گھر داخل ہوگئے۔ ان سب کے پاسں اسلحہ تھا۔ انہوں نے ابو اور میرے بھائیوں کو باہر لے جا کر بے ہوش کر دیا اور مجھے اور میری والدہ ممتاز مائی کو گھسیٹنا شروع کر دیا۔ چیخ و پکار کے باوجود ہمارے نزدیک اس خوف سے کوئی نہ آیا کہ پولیس ہے اور ان کے ہاتھ میں اسلحہ بھی ہے۔ انہوں نے ہمارے منہ باندھ دیے اور موٹر سائیکل پر بیٹھا دیا۔ راستے میں ان کے کچھ اور ساتھی بھی ان کے ساتھ مل گئے۔ وہ ہمیں نامعلوم مقامات پر لے کر پھرتے رہے اور مسلسل دھمکیاں دیتے رہے۔ مرالی فیملی جنہوں نے مجھے اور میری والدہ کو اغوا کیا اس کا مطالبہ تھا کہ ہماری عورت کلثوم بی بی ہم کو واپس کر دیں تو ہم ان عورتوں کو واپس کریں گے ورنہ قتل کر دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کلثوم بی بی میرے چچا واحد بخش کے ساتھ بھاگ گئی ہے حالانکہ ہمارا چچا سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ہم نے ان کو جائیداد سے بھی عاق کیا ہوا تھا۔ میرے چچا انہیں لوگوں یعنی مرالی لوگوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھے جبکہ کلثوم بی بی کے میکے والوں کا کہنا ہے کہ اس عورت کو اور میرے چچا کو قتل کر دیا گیا ہے۔ وہ عورت ایک سال سے غائب ہے۔ تقریباً دس دن انہوں نے ہمیں قید رکھا۔ نذر مرالی جو کہ کلثوم کا بھانجا تھا اس نے اور اس کے ایک ساتھ نے مجھے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ گھر والوں کو کسی ذریعے سے پتہ چلا کہ وہ مجھے کن مقامات پر لے کر پھر رہے ہیں۔ پھر ایک رات وہ ہم کو لاہور لے کر جا رہے تھے کہ راستے میں چند لوگ آ گئے۔ وہ ہمارے خاندان کے تھے۔ ان کو دیکھتے ہی ہم نے اپنے نقاب اتار دیے اور انہوں نے گاڑی کو گھیر لیا۔ گاڑی میں صرف نذر مرالی بیٹھا ہوا تھا اور اس کے باقی ساتھی پیچھے تھے۔ گڑھ مہا راجہ پہنچے تو وہاں کی پولیس ان کو اپنی حراست میں لے لیا۔ دو گھنٹوں بعد ہمارے علاقے کی پولیس بھی پہنچ گئی۔ پولیس نے ہمارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ ہمیں گھر والوں سے بھی نہیں ملنے دیا۔ پوری رات ہم نے تھانے میں گزاری اور صبح تقریباً دس بجے ڈی ایس پی داؤد حسنین تھانے آیا اس نے ہمیں بلوایا اور مختار مائی کو گالیاں نکالی کہ اس نے کام خراب کیا ہے۔ اگر وہ اجلاس نہ کرتی تو ہمارے گلے یہ مصیبت نہ پڑتی۔ میں خوف و ہراس میں تھی۔ میری حالت بہت خراب تھی اور ملزم کی دھمکیاں میرے ذہن پر سوار تھیں۔ مجھ میں ہمت نہیں تھی کہ میں کچھ بیان کر سکوں کہ میرے ساتھ کیا ہو چکا ہے۔ نہ میں اس قسم کے معاملات کے بارے میں زیادہ معلومات رکھتی تھی۔ داؤد حسنین نے پریس کانفرنس بلائی اور اس میں بھی ہمارے خلاف بولتا رہا کہ یہ ماں بیٹی اپنی مرضی سے گئیں تھیں۔ میں سب کچھ خاموشی سے برداشت کرتی رہی۔ پھر عدالت میں بیان ہوئے، ملزم بھی ساتھ ہی کھڑا تھا۔ اس کے خوف کی وجہ سے میں زیادتی کا ذکر نہ کر سکی۔میری یہی کوشش تھی کہ جلداز جلد ہم لوگ یہاں سے بھاگ جائیں۔ جب ہم گھر گئیں تو اس وقت بھی میری حالت صیح نہیں تھی۔ مجھ پر خوف طاری تھا۔ پھر میرے کزن عبدالرشید اور باقی لوگوں نے اس مظاہرے کی ویڈیو دیکھی جو مختار مائی نے ہمارے اغوا کے خلاف کبیروالہ میں کیا تھا۔جس سے مجھ میں ہمت اور حوصلہ پیدا ہوا اور میں نے زیادتی کا بتا دیا۔ پھر میڈیکل ہوا۔ پھر بھی پولیس کا رویہ صیح نہ ہوا بلکہ بگڑتا گیا۔ کوئی چیز بھی انہوں نے نذر مرالی سے حاصل نہ کی۔ میڈیا کی کوشش سے پولیس والوں نے پانچ مجرموں کو پکڑ لیا۔ لیکن پھر بھی وہ اسلحہ، وردیاں، گاڑی اور زیادتی کے دوسرے ملزم کوگرفتار نہ کر سکے۔ پولیس کیس کو کمزور کرنا چاہتی ہے جبکہ جو مجرم آوارہ پھر رہے ہیں وہ دھمکیاں دے رہے ہیں کہ لڑکی کو قتل کر دیں گے تاکہ یہ میڈیا کا سہارا نہ لے سکے۔ اور کیس ختم کرنے کے لیے پیسوں کا لالچ دے رہے ہیں۔ مگر میں آخری دم تک اپنا کیس لڑوں گی۔ جب تک میں زندہ ہوں کسی دوسری عورت کو اس درندوں کے ہاتھوں ان کی عزت لوٹتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی۔ ان کے کرتوتوں کی سزا ان کو دلوا کر چھوڑوں گی تاکہ باقی لوگ ان سے عبرت حاصل کریں۔ اب بھی ہماری پولیس لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ ان کی دھمکیاں اور گھر کے حالات دیکھ کر میں آپ کے پاس کیس فائٹ کرنے آ گئی۔ تاکہ میں آپ کے ساتھ مل کر ان لوگوں کو سزا دلوا سکوں اور ان کو ان کے انجام تک پہنچاؤں۔ میری پہلی اورآخری خواہش یہی ہے۔ انہوں نے میرا مستقبل تباہ کر دیا ہے۔ میں ان کو نہیں چھوڑوں گی‘۔ غزالہ اب ہمارے پاس رہ رہی ہے۔ میں سوچتی ہوں کہ جب غزالہ اور اس کی والدہ اغوا ہوئیں تو یہ لوگ پولیس کی وردیوں میں تھے اور جب ہم نے اجلاس کیا تو پولیس والوں نے دو دن کی مہلت مانگی اور ٹھیک دو دن بعد انہوں نے غزالہ اور اس کی والدہ کو بازیاب کر لیا۔ آخر کب تک ایسا ہوتا رہے گا۔ کب تک یہ مظلوم عورت ان حالات کا مقابلہ کرتی رہے گی۔ کھلی آنکھ جب سے اندھیرے ہی دیکھے
ہم بہت زیادہ مصروف رہے۔ ادھر کوریا سے مہمان آنے والے لوگوں کے دیگر کام وغیرہ مگر ہمارے لیے سب سے اہم این ای ڈی کے ساتھ پراجیکٹ کی تین ماہ کی کارکردگی پر مشتمل رپورٹ کی تیاری تھی۔ یہ دن کیسے گزرے پتہ بھی نہیں چلا۔ |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||