BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 06 September, 2004, 16:38 GMT 21:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیٹ کیفے کے دس برس: کیا کھویا کیا پایا؟
ان دس سالوں میں کیا کھویا کیا پایا؟ آپ کی رائے
ان دس سالوں میں کیا کھویا کیا پایا؟ آپ کی رائے
اس مہینے برطانیہ میں انٹرنیٹ کیفے یا سائبر کیفے کو وجود میں آئے دس سال پورے ہو گئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق آج دنیا بھر میں بیس ہزار سے زائد نیٹ کیفے موجود ہیں۔

پاکستان میں بھی نیٹ کیفے اور دکانوں کو وجود میں آئے کم و بیش اتنا ہی عرصہ گزر چکا ہے۔ ا س عرصے میں ان کے فوائد کے ساتھ ساتھ ان کے نقصانات بھی سامنے آئے ہیں خصوصاً پاکستانی معاشرے کے حوالے سے۔

نیٹ کیفیز میں نہ صرف مبینہ طور پر غیر اخلاقی اور غیر قانونی فحش سائٹس دیکھی جاتی ہیں بلکہ ان کے دیکھنے والے کم عمر بچے بھی ہوتے ہیں۔ چند ہی ماہ قبل نیٹ کیفے کے نام سے ایک سی ڈی بھی مارکیٹ میں دھڑا رھڑ بکی جس میں ایک کیفے میں آنے والے جوڑوں کی خفیہ طور پر ریکارڈنگ کی گئی تھی۔



آپ کی رائے میں دس سال بعد آج نیٹ کیفے کہاں ہے اور کل کہاں ہو گا؟ کیا ان کے وجود سے صرف ہمارے معاشرے میں برائی عام ہوئی ہے؟ کیا ان لوگوں کو اس سے کوئی فائدہ ہوا ہے جو کمپیوٹر خریدنے اور رکھنے کی استطاعت سے محروم ہیں لیکن دنیا سے رابطے میں رہنا چاہتے ہیں؟ ہمیں نیٹ کیفے کو باقی دنیا کی طرح محفوظ اور قابلِ بھروسہ بنانا چاہیے یا انہیں بند کر دینا چاہیے؟ آپ کا ردِّ عمل

آپ کی رائے

آپ اپنی رائے اردو، انگریزی یا roman urdu mein bhej سکتے ہیں


وقار اعوان، کراچی، پاکستان:
کسی بھی چیز کا مثبت یا منفی استعمال اُسے اچھا یا برا بناتا ہے۔ جن لوگوں کے گھر میں کمپیوٹر نہیں ہیں ان کے لیےسائبر کیفے ویب سرچنگ اور احباب کے ساتھ رابطے کا بہت اچھا ذریعہ ہیں۔دوسری طرف وہ لوگ ہیں کہ جو سائبر کیفے جاتے ہی فحش سائیٹس کے لیے ہیں۔ ایسے لوگوں کا کوئی علاج نہیں۔ آپ انہیں کیفے میں ایسی حرکات سے روکیں گے تو وہ عریاں فلمیں سی ڈی یا
وی ایچ ایس پر دیکھ لیا کریں گے۔

ذیشان میمن، کراچی، پاکستان:
سائبر کیفیز کے بے شمار فوائد ہیں۔ مگر افسوس ہے کہ اس کاروبار سے منسلک چند لوگوں کی بری حرکات کی وجہ سے پورا نظام ہی بدنام ہوتا جا رہا ہے۔

فرانسس زیوئیر، پیرس، فرانس:
نیٹ کیفیز نےجہاد کےنئے راستے کھول دیے ہیں۔ معلوم نہیں اس پر فتویٰ دینے والے سو گئے ہیں یا وہ خود نیٹ پر جا چکے ہیں۔ اگر بی بی سی کو ہمیشہ اپنی رائے ہی شائع کرنا ہوتی ہے تو پھر ہم سے رائے مانگنے کا تکلف کیوں؟

لیاقت کنجن، میانوالی، پاکستان:
اگر حکومت کا یہ خیال ہے کہ وہ قابلِ اعتراض سائیٹس کو روک سکتی ہے تو یہ اس کی بھول ہے۔ اگر برائی کو روکنا مقصود ہے تو ہمیں معاشرتی تبدیلیاں لانے پر توجہ دینی چاہیے نہ کہ حکومتی پابندیوں پر۔

عمران سیّد، مشیگن، امریکہ:
پاکستان میں تو سائیبر کیفے بُرے کاموں کے لیے ہی استعمال ہوا ہے۔ خفیہ کیمروں کی مدد سے جو تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئی ہیں ان سے تو یہی ثابت ہوتا ہے۔ سائیبر کیفیز میں صرف یاہُو اور ایم ایس این کی اجازت ہونی چاہیے اور چُیٹ رومز کو بلاک کر دینا چاہیے۔

یاسر نقوی، کراچی، پاکستان:
آج کل نیٹ کیفیز پاکستان میں وہی کردار ادا کر رہے ہیں جو اسّی کی دہائی میں ویڈیو سنٹرز نے کیا تھا۔ آہستہ آہستہ سب کو عادت ہو جائے گی۔

طارق محمود، سرگودھا، پاکستان:
پاکستان میں لوگوں نے نیٹ کیفیز کا منفی استعمال ہی کیا ہے اور افسوس یہ ہے کہ اس استعمال میں دن بدن اضافہ ہی ہو رہا ہے۔

قیصر، بیجنگ، چین:
ہمیں انٹر نیٹ کے بارے میں اپنے رویُوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ فائروالز یا سائیٹس بند کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔

صالح محمد، راولپنڈی، پاکستان:
پاکستان میں انٹرنیٹ کا استعمال زیادو تر منفی ہی رہا ہے۔ صرف بیس فیصد لوگ اس کو تعلیمی مقاصد یا دوسرے لوگوں سے رابطہ رکھنے کی لیے استعمال کرتے ہیں جبکہ اسّی فیصد لوگ اس کو چُیٹنگ اور غیراخلاقی سائیٹس دیکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جب تک لوگوں میں شعور نہیں پیداہوجاتا اس وقت تک پاکستان میں انٹرنیٹ سے کچھ خاص فوائد حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

فیصل جمال، چکوال، پاکستان:
آج کل انٹرنیٹ اور سائیبر کیفیز ہر پڑھے لکھے شخص کی ضرورت بن چکے ہے۔ یہ تعلیمی ضروریات پورا کرنے کا نہ صرف آسان ترین بلکہ سستا ترین ذریعہ ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پزیر ممالک کو ان سہولتوں کو مثبت استعمال میں
لا کر بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔

اپنی رائے بھیجیں
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد