نیٹ کیفے کے دس برس: کیا کھویا کیا پایا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس مہینے برطانیہ میں انٹرنیٹ کیفے یا سائبر کیفے کو وجود میں آئے دس سال پورے ہو گئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق آج دنیا بھر میں بیس ہزار سے زائد نیٹ کیفے موجود ہیں۔ پاکستان میں بھی نیٹ کیفے اور دکانوں کو وجود میں آئے کم و بیش اتنا ہی عرصہ گزر چکا ہے۔ ا س عرصے میں ان کے فوائد کے ساتھ ساتھ ان کے نقصانات بھی سامنے آئے ہیں خصوصاً پاکستانی معاشرے کے حوالے سے۔ نیٹ کیفیز میں نہ صرف مبینہ طور پر غیر اخلاقی اور غیر قانونی فحش سائٹس دیکھی جاتی ہیں بلکہ ان کے دیکھنے والے کم عمر بچے بھی ہوتے ہیں۔ چند ہی ماہ قبل نیٹ کیفے کے نام سے ایک سی ڈی بھی مارکیٹ میں دھڑا رھڑ بکی جس میں ایک کیفے میں آنے والے جوڑوں کی خفیہ طور پر ریکارڈنگ کی گئی تھی۔ آپ کی رائے میں دس سال بعد آج نیٹ کیفے کہاں ہے اور کل کہاں ہو گا؟ کیا ان کے وجود سے صرف ہمارے معاشرے میں برائی عام ہوئی ہے؟ کیا ان لوگوں کو اس سے کوئی فائدہ ہوا ہے جو کمپیوٹر خریدنے اور رکھنے کی استطاعت سے محروم ہیں لیکن دنیا سے رابطے میں رہنا چاہتے ہیں؟ ہمیں نیٹ کیفے کو باقی دنیا کی طرح محفوظ اور قابلِ بھروسہ بنانا چاہیے یا انہیں بند کر دینا چاہیے؟ آپ کا ردِّ عمل آپ اپنی رائے اردو، انگریزی یا roman urdu mein bhej سکتے ہیں وقار اعوان، کراچی، پاکستان: کسی بھی چیز کا مثبت یا منفی استعمال اُسے اچھا یا برا بناتا ہے۔ جن لوگوں کے گھر میں کمپیوٹر نہیں ہیں ان کے لیےسائبر کیفے ویب سرچنگ اور احباب کے ساتھ رابطے کا بہت اچھا ذریعہ ہیں۔دوسری طرف وہ لوگ ہیں کہ جو سائبر کیفے جاتے ہی فحش سائیٹس کے لیے ہیں۔ ایسے لوگوں کا کوئی علاج نہیں۔ آپ انہیں کیفے میں ایسی حرکات سے روکیں گے تو وہ عریاں فلمیں سی ڈی یا وی ایچ ایس پر دیکھ لیا کریں گے۔ ذیشان میمن، کراچی، پاکستان: فرانسس زیوئیر، پیرس، فرانس: لیاقت کنجن، میانوالی، پاکستان: عمران سیّد، مشیگن، امریکہ: یاسر نقوی، کراچی، پاکستان: طارق محمود، سرگودھا، پاکستان: قیصر، بیجنگ، چین: صالح محمد، راولپنڈی، پاکستان: فیصل جمال، چکوال، پاکستان: |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||