عنوان تجویز کیجیے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں بلیئر ڈرمنڈ سفاری پارک میں رکھے جانے والے شیروں کی شکاری جبلتیں پھر سے جگانے کے لیے ایک نئے روبوٹ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ لائن روور نامی اس روبوٹ کے اندر زیبرا کے گوبر کا ایک تھیلا رکھا گیا ہے تاکہ اس سے وہ قدرتی بو آئے جو شیروں میں شکار کرنے کی قدرتی صلاحیتوں کو ابھارتی ہے۔
اس روبوٹ کو نفسیات کے ایک طالبِ علم نے شیروں کے رویئے کا مشاہدہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا ہے۔ اس کے لئے کم سے کم الفاظ میں عنوان تجویز کیجئے۔
اپنے عنوانات آپ اردو، انگریزی یا رومن اردو میں بھیج سکتے ہیں۔ عبدالغفور جنگل میں ہیرو، زو میں زیرو محمد عمران، کراچی، پاکستان ’زیبرے کو کس نے کھایا؟‘ عمران احمد اصلاحی، نیو دہلی، انڈیا آج کی دنیا میں جینا ہے تو اپنی جبلت کی طرف لوٹو مسٹر شیر ساجد امجد، متحدہ عرب امارات بے گوشت رضوان صدیقی، نیوزی لینڈ روبٹ جنگل میں ہے، چلو شہر چلیں ثاقب عالم، پشاور، پاکستان بے چارے شیر اب مذاق بن گئے اشتیاق خان، لاہور، پاکستان استادوں کے استاد نبیل عامر، کیلیفورنیا، امریکہ گوبر لے ڈوبا علی احمد، کراچی، پاکستان ارتقاء کی اگلی منزل: کوشت سے گوبر تک کاکا خان، ایمسٹرڈیم، ہالینڈ اکیسویں صدی کے کمالات عاطف تنولی، مانسہرہ، پاکستان شیر کو کیوں چھیڑتے ہو محمد فدا، کینیڈا اب پاکستانی شیر کیا کہیں گے؟ عفاف اظہر، سکاربرو، کینیڈا بڑے بے آبرو ہوکر ترے کوچے سے ہم نکلے رضوان الحق، پیرس، فرانس جنگل میں چھوڑ کر دیکھو عمر سلیم، لاہور، پاکستان سائنسداں اپنی طرح سب کو پاگل سمجھتے ہیں نامعلوم آبیل مجھے مار محمد عبیداللہ، فیصل آباد، پاکستان شہنشاہِ جنگل سے مذاق خلیل انجم، کویت کھودا روبوٹ، نکلا گوبر نواز بھٹہ، لاہور، پاکستان کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے اختر نواز، لاہور، پاکستان نوشیروان عادل، کوٹ ادو، پاکستان شیراں دے منہ کنے دھوتے محمد محسن جاوید، کینیڈا گوبر بھی اگر کھاؤ گے تو کیا نام نہ ہوگا فہیم ہارون، کراچی، پاکستان بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے ساجد ستار کمپیوٹر کے دور میں ہمیں کتنا بے خبر سمجھتے ہیں شاہدہ اکرام، ابوظبی لگ رہا ہے جنگل میں ہیں خوش دل قزلباش انہیں پولیس میں نوکری دو، خود شکار کرنا سیکھ جائیں گے راحت ملک، راوالپنڈی، پاکستان ارے بادشاہوں کے ساتھ دھوکا۔ عبدالستار، پاکستان ہو۔۔۔۔ افسرزیب خان، افغانستان شیر کے نام پہ دھبہ ذیشان سید، ریاض، سعودی عرب بیگم، اب تو اسی پر گزارہ کرو یاسر نقوی، کراچی، پاکستان شیروں سے ٹکر، یہ کوئی اچھی بات نہیں امیر سید، کویت میں شیر ہوں کوئی کتا نہیں جناب عرفان اکرام، راوالپنڈی، پاکستان ہم شیروں کو انسان الو بنا رہا ہے۔ رومانہ نسیم، کراچی، پاکستان چھی چھی چھی ظہیر بابر، روم، اٹلی یہ گندا ہے محمد فیصل جمال، چکوال، پاکستان ارے انہیں جینے دو حسیب خان، سرگودھا، پاکستان شیروں کے انتخاب نے رسوا کیا ہمیں |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||