عنوان تجویز کریں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے صدر مقام سری نگر کی ڈل جھیل کسی زمانے میں سیاحوں کی جنت کہلاتی تھی جہاں دنیا بھر سے لوگ آیا کرتے تھے لیکن کشمیر کے حالات نے یہاں سیاحت کی صنعت کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق یہاں صرف چالیس ہزار لوگ انیس سو نواسی سے اب تک مارے جاچکے ہیں۔ غیر سرکاری اعدادو شمار کے مطابق یہ تعداد کہیں زیادہ ہے۔ یہ تصویر ڈل جھیل کی مشہور اور دلفریب شکارا کشتیوں کی ہے جس میں ایک برقعہ پوش عورت جا رہی ہے۔ اس کے لئے عنوان تجویز کیجئے۔ براہِ مہربانی اپنے عنوان کے لئے کم سے کم الفاظ کا انتخاب کیجئے۔
اپنے عنوانات آپ اردو، انگریزی یا رومن اردو میں بھیج سکتے ہیں۔ فریال رشید، پاکستان نیلی جھیل کا سناٹا شاہد، ڈیرہ غازی خان یہ مجاہدین کی کاروائی ہے افتخار احمد کشمیری، برطانیہ میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں عقیل احمد، لاہور شکر ہے کوئی تو آیا طارق اکبر، برطانیہ کیا اندر کوئی ہے فخر جیلانی، پشاور ذرا سنبھل کے طائف علی بھٹو، لاڑکانہ جنت میں غیر مسلم؟ یہ کیسے؟ اعجاز احمد، ٹورنٹو پنجرے کی وادی رے، تیرا درد نہ جانے کوئی عمران کاظمی، لاہور کہاں کھو گئیں وہ رونقیں شیر یار خان، سنگاپور کہاں کھور گئیں وہ رونقیں |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||