وسیع تباہی کے ہتھیار: عنوان تجویز کریں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جرمنی میں ان دنوں کارنیول ہورہے ہیں جو ایک طرح سے میلوں کا موسم ہوتا ہے۔ پیر کے روز جرمنی کے شہر درزلدروف میں ہونے والے کارنیول میں امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش کا بڑا سا پتلا بھی شامل تھا۔ اس پتلے کی ناک پر لکھا ہے کہ ’عراق میں وسیع تر تباہی کے ہتھیار موجود ہیں۔‘ اس کے لئے عنوان تجویز کیجئے۔ براہِ مہربانی اپنے عنوان کے لئے کم سے کم الفاظ کا انتخاب کیجئے۔
اپنے عنوانات آپ اردو، انگریزی یا رومن اردو میں بھیج سکتے ہیں۔ حسیب طلال، ملتان دونالی بندوق خالد خان، اوکاڑہ ناکو خان بن ہلاکو خان چوہدری بلال سدھو، قصور مکھی کا میدانِ جنگ محمد عبیداللہ، فیصل آباد محمد ثاقب، بہار کامران، پاکستان اگر عراق میں کچھ نہ ملا تو ناک کٹ جائے گی عاصم فیروز، لاہور ناک یا ناگ عطا جمیل رحمان، پاکستان اصغر خان، برلِن بش دی لمبی ناک احمد ملک، مانٹریال ناک بڑھ گئی لیکن مکھی نہیں بیٹھنے دونگا طاہر فاروق آرائن، میروا، پاکستان ناک پر نہ جاؤ میری عقل اس سے بڑی ہے رابعہ نظیر، میلبو، ناروے اس ناک نے تو ناک میں دم کردی سعید احمد، ہانگ کانگ ناکوں چنے چباؤں گا محمد عظیم گجر، لاہور محمد فدا، ٹورانٹو اب کوئی مکھی میری ناک پر نہ بیٹھے گی اشرف چودھری، وِنڈسر، کینیڈا محمد اقبال، جرمنی ناک ہو تو بش جیسی زرتاشیہ فیصل، یواے ای اظہار صدیقی، سعودی عرب بلال احمد، پاکستان کیمیائی ہتھیاروں کی بو آرہی ہے افضال ملک، راولپنڈی غیرت اور بش کی ناک پرویز بلوچ، بحرین شاہدہ اکرم، ابوظہبی حسن رضا، اسلام آباد رسی جال گئی لیکن بال نہیں گئی افضال طاہر، لاہور ہتھیار تو موجود ہیں لیکن ناک لمبی ہونے کی وجہ دکھائی نہ دیے |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||