اجمل کے ریمانڈ میں مزید توسیع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی حملوں کے واحد زندہ بچ جانے والے حملہ آور اجمل امیر قصاب کو عدالت نے 13 فروری تک پولیس حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ گزشتہ برس چھبیس نومبر کو ممبئی حملوں کے دس ملزمان میں سے واحد زندہ بچے ملزم اجمل قصاب پر عائد الزامات کی سماعت کے لیے پیر کی صبح ایک بار پھر ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کرائم برانچ کے لاک اپ میں سرکاری وکیل کے ہمراہ پہنچے جہاں اجمل کو انتہائی سخت پہرے میں رکھا گیا ہے۔ اجمل پر ممبئی پولیس نے بارہ معاملات میں کیس درج کیے ہیں۔اس مرتبہ اجمل پر کشتی کوبیر کے عملہ کے ایک رکن امر سنگھ سولنکی کو قتل کرنے کا کیس عدالت کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ قصاب پر ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے، قتل اور قتل کی کوششوں جیسے الزام عائد کیے گئے ہیں۔ اس معاملے میں جنوبی ممبئی کے آزاد میدان پولیس تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ گزشتہ دنوں ممبئی حملوں کے مقدمے کی سماعت کے لیے ایک خصوصی جج تعینات کیا گیا تھا۔ممبئی حملوں کی تفتیش کرنے والی کرائم برانچ کے ایک اعلی افسر کے مطابق پولیس جلد ہی ممبئی حملوں کی چارج شیٹ عدالت میں داخل کرے گی۔ فوجداری قوانین کے تحت معاملات میں پولیس کو تین مہینوں کے اندر ملزم کے خلاف فرد جرم داخل کرنا ہوتی ہے۔ اجمل کے کیس کی پیروی کے لیے ابھی تک کوئی بھی وکیل نامزد نہیں ہوا ہے لیکن ایسی صورتحال میں انہیں سرکاری وکیل کی سہولت مل سکتی ہے۔ اجمل قصاب کے پاس اپنا دفاع کرنے کے لیے کوئی وکیل نہیں۔ پاکستان حکومت کو ایک خط میں قصاب نے قانونی مدد کی اپیل کی تھی۔ ہندوستان نے پاکستان کو ممبئی حملوں میں پاکستانی شدت پسندوں کے شامل ہونے کے شواہد سونپ دیے ہیں جبکہ پاکستان نے کہا ہے ان شواہد کے مطابق وہ تفتیش کررہا ہے۔ پولیس کیس کے مطابق اجمل اور ان کے ساتھی ابو اسماعیل خان رنگ بھون کے پاس اے ٹی ایس چیف ہیمنت کرکرے ، ایڈیشنل پولیس کمشنر اشوک کامٹے، انکاؤنٹر کے ماہر پولیس انسپکٹر وجے سالسکر سمیت چھ پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کی سکواڈ کار میں فرار ہو گئے تھے جنہیں بعد میں ڈی بی مارگ گرگام چوپاٹی کے پاس سے پکڑا گیا تھا۔ پولیس کارروائی کے بعد اسماعیل خان کی موت واقع ہو گئی تھی اور پولیس نے اجمل کو زندہ گرفتار کر لیا تھا۔ممبئی میں چھبیس نومبر کو شدت پسند حملے ہوئے تھے جن میں کم سے کم ایک سو ستر افراد ہلاک ہوئے جن میں پندرہ سے زیادہ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ |
اسی بارے میں اجمل کے ریمانڈ میں مزید توسیع19 January, 2009 | انڈیا اجمل کا مقدمہ خصوصی جج سنےگا13 January, 2009 | انڈیا پاکستان انکار ہی کرتا رہا ہے: پرنب07 January, 2009 | انڈیا جناردھن اجمل کی پیروی کے لیے تیار15 December, 2008 | انڈیا ’اجمل کا پاکستانی ہائی کمیشن کو خط‘14 December, 2008 | انڈیا قصاب 24 دسمبر تک حراست میں 11 December, 2008 | انڈیا ممبئی حملوں کے حملہ آور اجمل کا ’اقبالی بیان‘10 December, 2008 | انڈیا ’اجمل میرا ہی بیٹا ہے‘12 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||