ریاض مسرور بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر |  |
 | | | ممبئی حملوں کے بعد پاکستان اور ہندوستان کی افواج کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی ہے: جنرل کپور |
ہندوستان کے فوجی سربراہ جنرل دیپک کپور نے انڈین کشمیر کے ہنگامی دورے پر کہا کہ فوج کو ’تیار حالت‘ میں رکھا گیا ہے۔ جنرل دیپک کپور نے بھارتی زیرانتظام کشمیر کے ہنگامی ایک روزہ دورے کے دوران یہ انکشاف کیا کہ پاکستانی افواج کی سرگرمی کے بعد بھارتی فوج کو سرحدوں اور کنٹرول لائن پر ’تیار حالت‘میں رکھا گیا ہے۔ سرینگر میں فوج کی پندرہویں کور کے ہیڈکوارٹر پر فوجی افسروں کے ساتھ سنیچر کی شام منعقدہ نشست کے بعد کچھ نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو کے دوران جنرل کپور نے اعتراف کیا کہ ممبئی حملوں کے بعد پاکستان اور ہندوستان کی افواج کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری فوج کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے بالکل تیار ہے۔‘  | اعلان  فوج ملک کی سرحدوں کی نگہبان ہے اور جب یہاں کی حکومت خود یہ اعلان کرے گی کہ یہاں اب حالات سو فی صد ٹھیک ہیں تو فوج خود بخود بارکوں میں واپس چلی جائے گی۔  دیپک کپور |
فوجی سربراہ نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ اس نے اپنی سرزمین پر دہشت گردی کا ڈھانچہ مکمل طور پر ختم نہیں کیا ہے، لہٰذا بقول ان کے کنٹرول لائن سے ہندوستانی زیرانتظام کشمیر کے اندر مسلح افراد کی دراندازی کا خطرہ ابھی بھی موجود ہے۔ جنرل کپور کے مطابق پہاڑوں اور کنٹرول لائن کے ساتھ لگنے والے درّوں پر برف پگھلنے کے ساتھ دراندازی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وادی میں سات سے آٹھ سو کے درمیان مسلح شدت پسند موجود ہیں جن کے خلاف فوج کارروائیاں کر رہی ہے۔ کشمیر سے فوجی انخلاء کی تجویز کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’فوج ملک کی سرحدوں کی نگہبان ہے اور جب یہاں کی حکومت خود یہ اعلان کرے گی کہ یہاں اب حالات سو فی صد ٹھیک ہیں تو فوج خود بخود بیرکوں میں واپس چلی جائے گی۔‘ واضح رہے کہ مقامی فوجی حکام نے جنرل کپور کی پریس کانفرنس کے لئے خبر رساں اداروں اور سرکاری میڈیا کے چنندہ نامہ نگاروں کو ہی مدعو کیا تھا اور دیگر صحافیوں کو اس میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کے خلاف صحافتی حلقوں نے برہمی کا اظہار کیا اور بیشتر اخبارات نے اس پر احتجاج کیا۔ |