BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 February, 2009, 09:32 GMT 14:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایل او سی پر فوج تیار: جنرل کپور

دیپک کپور(فائل فوٹو)
ممبئی حملوں کے بعد پاکستان اور ہندوستان کی افواج کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی ہے: جنرل کپور
ہندوستان کے فوجی سربراہ جنرل دیپک کپور نے انڈین کشمیر کے ہنگامی دورے پر کہا کہ فوج کو ’تیار حالت‘ میں رکھا گیا ہے۔

جنرل دیپک کپور نے بھارتی زیرانتظام کشمیر کے ہنگامی ایک روزہ دورے کے دوران یہ انکشاف کیا کہ پاکستانی افواج کی سرگرمی کے بعد بھارتی فوج کو سرحدوں اور کنٹرول لائن پر ’تیار حالت‘میں رکھا گیا ہے۔

سرینگر میں فوج کی پندرہویں کور کے ہیڈکوارٹر پر فوجی افسروں کے ساتھ سنیچر کی شام منعقدہ نشست کے بعد کچھ نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو کے دوران جنرل کپور نے اعتراف کیا کہ ممبئی حملوں کے بعد پاکستان اور ہندوستان کی افواج کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری فوج کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے بالکل تیار ہے۔‘

اعلان
 فوج ملک کی سرحدوں کی نگہبان ہے اور جب یہاں کی حکومت خود یہ اعلان کرے گی کہ یہاں اب حالات سو فی صد ٹھیک ہیں تو فوج خود بخود بارکوں میں واپس چلی جائے گی۔
دیپک کپور
فوجی سربراہ نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ اس نے اپنی سرزمین پر دہشت گردی کا ڈھانچہ مکمل طور پر ختم نہیں کیا ہے، لہٰذا بقول ان کے کنٹرول لائن سے ہندوستانی زیرانتظام کشمیر کے اندر مسلح افراد کی دراندازی کا خطرہ ابھی بھی موجود ہے۔

جنرل کپور کے مطابق پہاڑوں اور کنٹرول لائن کے ساتھ لگنے والے درّوں پر برف پگھلنے کے ساتھ دراندازی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ وادی میں سات سے آٹھ سو کے درمیان مسلح شدت پسند موجود ہیں جن کے خلاف فوج کارروائیاں کر رہی ہے۔

کشمیر سے فوجی انخلاء کی تجویز کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’فوج ملک کی سرحدوں کی نگہبان ہے اور جب یہاں کی حکومت خود یہ اعلان کرے گی کہ یہاں اب حالات سو فی صد ٹھیک ہیں تو فوج خود بخود بیرکوں میں واپس چلی جائے گی۔‘

واضح رہے کہ مقامی فوجی حکام نے جنرل کپور کی پریس کانفرنس کے لئے خبر رساں اداروں اور سرکاری میڈیا کے چنندہ نامہ نگاروں کو ہی مدعو کیا تھا اور دیگر صحافیوں کو اس میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کے خلاف صحافتی حلقوں نے برہمی کا اظہار کیا اور بیشتر اخبارات نے اس پر احتجاج کیا۔

 ممبئی ڈوسیئرممبئی ڈوسیئر
’ڈوسیئر ثبوتوں کا دعوی ہے ثبوت نہیں‘
فائل فوٹوممبئی ڈوسیئر
پاکستان کو دیئے گئے شواہد کیا ہیں؟
پاکستانی فنکار کاشف خانہند پاک کشیدگی
ٹوٹے رشتے فنکار ہی جوڑ سکتے ہیں: مہیش بھٹ
 ممبئی’اب بہت ہو گیا‘
ممبئی میں حملوں کے خلاف احتجاج
ممبئیبھارتی خفیہ ایجنسیاں
پورا نظام تباہی کی طرف جا رہا ہے
 مارک ٹلیمارک ٹلی کہتے ہیں
جہاز ہچکولے کھاتا رہتا ہے مگر ڈوبتا نہیں
بلال صدیقیجنگجو سیاست میں
کشمیری کمانڈر پارٹیاں تشکیل دے رہے ہیں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد