اجمل کی ریمانڈ میں مزید توسیع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی حملوں کے واحد زندہ بچ جانے والے حملہ آور اجمل امیر قصاب کو عدالت نے 19 جنوری تک پولیس حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ممبئی کی ایک عدالت نے کاما ہسپتال میں فائرنگ کے سلسلے میں قصاب کو پولیس حراست میں دیا ہے۔ اس معاملے میں جنوبی ممبئی کے آزاد میدان پولیس تھانے میں معاملہ درج ہے۔ خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق سرکاری وکیل ایبی دھمال نے کہا ہے ’ہم نے عدالت سے کہا ہے کہ کاما ہسپتال میں ہوئی گولہ باری کے سلسلے میں پوچھ گچھ کے لیے پولیس کو قصاب کی ضرورت ہے۔‘ اجمل کو ممبئی کرائم برانچ لاک اپ میں رکھا گیا ہے۔ اجمل قصاب کے پاس اپنا دفاع کرنے کے لیے کوئی وکیل نہیں۔ پاکستان حکومت کو لکھے ایک خط میں قصاب نے قانونی مدد کی اپیل کی تھی لیکن پاکستان قصاب کو اپنا شہری ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ہندوستان نے پیر کے روز پاکستان کو ممبئی حملوں میں پاکستانی شدت پسندوں کے شامل ہونے کے شواہد سونپ دیئے ہیں۔ پاکستان نے کہا ہے کہ اسے یہ شواہد مل گئے ہیں اور وہ ان کے مواد کا مطالعہ کررہا ہے۔ پولیس کیس کے مطابق اجمل اور ان کے ساتھی ابو اسماعیل خان رنگ بھون کے پاس اے ٹی ایس چیف ہیمنت کرکرے ، ایڈیشنل پولیس کمشنر اشوک کامٹے، انکاؤنٹر کے ماہر پولیس انسپکٹر وجے سالسکر سمیت چھ پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کی سکوڈا کار چرا کر فرار ہو گئے تھے جنہیں بعد میں ڈی بی مارگ گرگام چوپاٹی کے پاس سے پکڑا تھا۔پولیس کارروائی کے بعد اسماعیل خان کی موت واقع ہو گئی تھی اور پولیس نے اجمل کو زندہ گرفتار کر لیا تھا۔ اجمل کے کیس کی پیروی کے لیے ابھی تک کوئی بھی وکیل نامزد نہیں ہوا ہے۔ حکومت نے لیگل ایڈ سیل کے جس وکیل دنیش موٹا کو نامزد کیا تھا انہوں نے اخلاقی بنیادوں پر کیس لینے سے انکار کر دیا تھا۔ دو وکلاء نے ایک سیاسی جماعت کے لوگوں کے مظاہروں اور مخالفت کے بعد اپنا نام واپس لے لیا۔ |
اسی بارے میں جناردھن اجمل کی پیروی کے لیے تیار15 December, 2008 | انڈیا ’اجمل کا پاکستانی ہائی کمیشن کو خط‘14 December, 2008 | انڈیا قصاب 24 دسمبر تک حراست میں 11 December, 2008 | انڈیا ممبئی حملوں کے حملہ آور اجمل کا ’اقبالی بیان‘10 December, 2008 | انڈیا ’اجمل میرا ہی بیٹا ہے‘12 December, 2008 | پاکستان فرید کوٹ میں غیر معمولی کیا؟05 December, 2008 | پاکستان ممبئی میں حملے اور پاکستان کافریدکوٹ30 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||