قزاقوں پرہندوستانی بحریہ کا حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستانی بحریہ کے ایک جنگی جہاز نےصومالی قزاقوں کے ایک بڑے جہاز پر حملہ کر کے اسے خلیج عدن میں غرقاب کر دیا ہے۔ صومالی قزاقوں نے بھارتی جنگی جہاز پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ بحریہ کے ایک افسر کے مطابق صومالیائی قزاقوں نے پیر کی رات تفریبا دس بجے خلیج عدن میں گشت پر مامور بحریہ کے جنگی جہاز آئی این ایس تبار پر گولی باری کی۔ قزاقوں کے جہاز کے ساتھ متعد تیز رفتار موٹر بوٹس بھی تھیں۔ جوابی کارروائی میں بحریہ کے کمانڈوز نے قزاقوں کے جہاز پر حملہ کیا اور اسے غرقاب کر دیا۔ اطلاع کے مطابق بعض صومالیائی لٹیرے موٹر بوٹ کے ذریعے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ بحریہ کے افسر نے بتایا ہے کہ اس واقعہ میں بحریہ کے اہلکاروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ خلیج عدن میں صومالیائی قزاق ایک عرصے سے سرگرم ہیں۔ یہ انتہائی اہم بحری راستہ ہے اور ہندوستان کے تقریباً بیس فی صد تجارتی جہاز اسی راستے سے گزرتے ہیں اور سویز نہر سےگزرنے والے سبھی ہندوستانی جہازوں کوصومالیہ کے ساحل کے نزدیک واقع اسی راستے سے گزر کر جانا ہوتا ہے۔ متعدد جہازوں کے اغوا کے بعد ہندوستان نے خلیج عدن میں اپنے جہازوں کے تحفظ کے لیے اپنا ایک جنگی جہازگشت پر بھیجا۔ آئی این ایس تبار نےگزشتہ ہفتے ایک ہندوستانی تجارتی جہاز پر قزاقوں کے قبضے کی ایک کوشش کو ناکام بنا دیا تھا۔ خطے میں جنگی جہاز بھیجتے وقت ہندوستانی بحریہ کے سربراہ نے کہا تھا کہ قزاقی کا مقابلہ سبھی ملکوں کو بالکل جنگ کی طرح کرنا ہوگا۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب صومالیائی قزاقوں نے سعودی عرب کے ایک بہت بڑے تیل ٹینکر پر قبضہ کر لیا ہے۔ | اسی بارے میں صومالیہ، انڈیا جنگی جہاز بھیجےگا17 October, 2008 | آس پاس سعودی جہاز صومالی ساحل پر18 November, 2008 | آس پاس دو مزید بحری جہاز ہائی جیک18 November, 2008 | آس پاس صومالی قزاقوں پر بھارتی بحریہ کا حملہ11 November, 2008 | انڈیا صومالیہ، مغوی جہاز رانوں کی رہائي17 November, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||