زلزلہ: متاثرین بحالی کے منتظر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ کو برصغیر کے ہمالیائی خطے میں جو زلزلہ آیا تھا اُس میں ہندوستان کے زیرِانتظام کشمیر کے شمالی اضلاع میں بھی زبردست تباہی ہوئی تھی اور درجنوں گاؤں برباد ہوئے تھے۔ لیکن متاثرین کی ایک بڑی تعداد آج بھی از سر نو بحالی کی منتظر ہے۔ سب سے زیادہ جانی اور مالی نقصان اوڑی، کرنا اور پونچھ میں ہوا، جہاں قریب ایک ہزار شہری ہلاک، سینکڑوں افراد زخمی جبکہ ہزاروں بے گھر ہوگئے۔ حکومت ہند نے متاثرہ کنبوں کے لیے ایک ہزار کروڑ روپے کے جس مربوط مالی پیکیج کا اعلان کیا تھا، اس میں سے سرکاری اطلاعات کے مطابق ابھی تک ڈیڑھ سو کروڑ روپے سے بھی کم سرمایہ متاثرین کی بحالی اور امداد کے طور پر خرچ کیا گیا ہے۔ اوڑی اور کرناہ میں زیادہ ہلاکتیں ہوئیں تھیں جہاں کے متاثرین میں سے اکثر حکومت یا رضاکار تنظیموں کی طرف سے تعمیر کیے گئے عارضی گھروں میں رہتے ہیں لیکن ایک اچھی خاصی تعداد اب بھی خانہ بدوشی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے انہیں صرف بارش یا برف سے بچنے کے لئے ٹین کی چھت نہیں بلکہ مکمل بحالی کا انتظار ہے۔ زلزلہ کو تین سال گزرنے کے باوجود تمام متاثرین کی بحالی میں انتظامیہ ناکام کیوں ہوئی؟ اس حوالے سے صوبائی انتظامیہ کے انسداد بحران یا ڈِزاسٹر منیجمنٹ محکمہ کے سربراہ عامر علی نے بی بی سی کو بتایا ’در اصل ہم نے اس بحران سے نمٹنے کے لئے بحالی اور امداد کا جو ماڈل اپنایا وہ وہی تھا جسے گجرات، اڑیسہ اور ملک کی دوسری ریاستوں میں آزمایا جاچکا تھا۔ ہم نےاوڑی میں بہت بڑے ہال تعمیر کئے اور متاثرین کو عارضی طور ان میں رہنے کے لئے کہا۔ لیکن یہاں سماجی، تمدنی یا مذہبی تحفظات کی وجہ سے کنبوں نے مخلوط رہائیش سے انکار کیا اور بعض نے کہا کہ بہو بیٹیاں عام لوگوں کے ساتھ نہیں رہ سکتیں۔‘ مسٹر عامر کا کہنا تھا کہ بعد ازاں حکومت نے متاثرہ کنبوں کو الگ الگ مالی امداد فراہم کرکے اپنے طور پر ہی عارضی گھر تعمیر کرنے کو کہا لیکن اوڑی کے لوگ حکومت کے اس موقف کو بہانہ بازی قرار دیتے ہیں۔ زلزلہ میں شدید طور پر متاثر اوڑی کے دردکوٹ گاؤں کے رہائشی اعجاز چوپان کا کہنا ہے: ’حکومت نے ریلیف اپنوں کو دیا ہے۔ جب لوگوں کے لئے تقسیم ہوا تو وہ ٹھیکیداروں اور غنڈوں نے اُڑا لیا۔ ہم جس ٹین کے شیڈ میں رہتے ہیں وہ ایک این جی او نے بنا کے دیا ہے۔ دو ہزار چھ میں ہم نے مظاہرہ بھی کیا تھا لیکن حکومت کا کوئی بندہ یہاں آتا تک نہیں۔‘ زلزلے کے بعد اوڑی کے درجنوں متاثرہ دیہات میں گیارہ مہینے تک رضاکارنہ طور عوامی خدمت کرچکے جنوبی کشمیر کے رہنے والے مشتاق احمد زرگر نے بی بی سی کے ساتھ گفتگو کے دوران بتایا:’ میں دراصل کئی رضاکاروں پر مشتمل ایک گروپ کا حصہ تھا۔ ہم نے اوڑی کے اڑوسہ، ناوارنڈا، عشم، سلطان ڈکی، دردکوٹ، جھولا، لال پل اور کمل کوٹ وغیرہ میں قریب ایک ہزار کنبوں کو بحال کرنے کی کوشش کی۔ ہم ان کے لئے ٹین کے شیڈ تعمیر کرنے کے علاوہ انہیں کمبل اور ضروریات زندگی کے دیگر سامان مہیاتو کرسکے لیکن ہم چاہتے تھے کہ اس خطے میں ایک ہسپتال اور کچھ تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں، لیکن حالات اور وسائل کی کمی کی وجہ سے ہم ابھی تک اس میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔‘ اوڑی اور کرناہ کے زلزلہ سے متاثرہ آبادیاں زندگی کی سہولیات سے محرومیوں کا سامنا تو پچھلے تین سال سے ہے، لیکن فی الوقت سب سے زیادہ خطرہ صحت عامہ کی بگڑتی صورتحال نے پیدا کیا ہے۔ اوڑی کے ناوارُنڈا گاؤں کے رہنے والے محمد یٰسین نے بتایا کہ متعدد دیہات میں زلزلے کے کچھ مہینے بعد ہی عجیب اور نئی نئی بیماریاں پھیلنے لگی ہیں۔ اپنی دس سالہ بیٹی کی مثال دیتے ہوئے مسٹر یٰسین نے بتایا کہ کم سن بچوں کے جسم پر سُرک پھپھولے نکل آتے ہیں جو بعد میں پھٹ جانے کے بعد رِستی پیپ کی وجہ سے ہیبت ناک بن جاتے ہیں۔ یٰسین کا کہنا ہے کہ ’ ابھی تک حکومت کے محکمہ صحت نے یہاں کسی ماہر کو یہ پتہ لگانے کے لئے بھی نہیں بھیجا کہ آخر یہ کیا بیماری ہے۔‘ اُدھر دولنجھا اور اس سے ملحقہ دیہات کے لوگوں کا کہنا ہے زلزلہ کے بعد ان کے ندی نالوں کا پانی حد درجہ آلودہ ہوچکا ہے جس کے باعث آنتوں اور معدے کی بیماریوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ صوبائی انتظامیہ کے ترجمان مسٹر عامر علی نے اس سلسلے میں بتایا کہ یہ علاقے دورافتادہ ہونے کے علاوہ سالہاسال تک باقی کشمیر سے کٹے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’میں بھی پہلی بار اُوڑی گیا جب زلزلہ آیا۔ سماجی بہبود اور صحت عامہ سے متعلق جو بھی کام باقی جگہوں پر ہوتا ہے اس سے قدرے کم ان علاقوں میں ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے یہاں پہنچنا مشکل ہے۔ کچھ گاؤں تو ایسے ہیں جہاں گاڑی بالکل نہیں جاتی، گھنٹوں سفر کے بعد آپ وہاں پہنچتے ہیں۔ نئی بیماریوں کے بارے میں اتفاق نہیں کرتا کیونکہ ابھی یہ پتہ لگانا باقی ہے کہ آیا یہ بیماریاں وہاں پہلے سے نمودار ہوتی رہی ہیں یا بالکل نئی ہیں۔‘ بہر حال آٹھ اکتوبر دوہزار پانچ کے زلزلہ کے بعد متاثرین کی بحالی آج بھی ایک اہم مسلہ ہے جس پر حکومت پر غفلت برتنے کے الزامات عائد ہورہے ہیں۔ تاہم کشمیر صوبے کے انتظامی سربراہ مسعود سامون کا کہنا ہے کہ سو فی صد بحالی میں ابھی کچھ اور وقت درکار ہوگا۔ | اسی بارے میں ’افسوس، کنٹرول لائن نہیں کھلی‘25 October, 2005 | انڈیا ٹنگڈار :زلزلہ متاثرین کا غصہ17 October, 2005 | انڈیا زلزلے پر بھارتی عوام کا ردعمل 13 October, 2005 | انڈیا اڑی: دس دیہات رسائی سے محروم 12 October, 2005 | انڈیا زلزلہ قومی آفت ہے:منموہن سنگھ11 October, 2005 | انڈیا پہاڑی ڈھلانوں پر زلزلے کا قہر10 October, 2005 | انڈیا بھارت: ہلاکتوں میں مزید اضافہ10 October, 2005 | انڈیا بھارت: 600ہلاک، 1000 زخمی09 October, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||