تشدد کےمخالف عیسائیوں کا بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست اڑیسہ میں انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ کندھمال ضلع میں ہندوؤں اور عیسائیوں کے درمیان ہوئے فسادات کے بعد حالات اب کچھ بہتر ہوئے ہیں۔ حالات میں بہتری کو دیکھتے ہوئے کرفیو میں کچھ وقفے کی نرمی دی گئی ہے۔ دوسری جانب ٹیکا بالی اور جی ادوئے گری علاقوں سے پھر تشدد بھڑکنے کی خبر موصول ہوئی ہے۔ سنیچر سے جاری تشدد میں کندھمال اور گجتپی اضلاع میں گیارہ افراد مارے جا چکے ہیں۔ لیکن کیتھولک عیسائیوں کا کہنا ہے کہ ان کی جانکاری کے مطابق مرنے والوں کی تعداد تیرہ ہو چکی ہے۔ اڑیسہ میں ہوئے تشدد کے خلاف احتجاج کے طور پر ملک کے کیتھولک پادریوں کی سب سے بڑی تنظیم نے جمعہ کو پورے ملک میں کیتھولک عیسائیوں کی سکولوں کو بند رکھنے اور تشدد کے خلاف پر امن ریلیاں منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ تنظیم ملک میں پچیس ہزار سکول اور کالج چلاتی ہے۔ پاپائے روم پہلے ہی تشدد کے ان واقعات کی مذمت کر چکے ہیں۔ اس درمیان اٹلی کی حکومت نے بھی ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر اقدام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کندھمال ضلع میں ہندوؤں اور عیسائیوں کے درمیان ہوئے تشدد کے بعد حالات ميں بہتری آئی ہے لیکن اب بھی آٹھ شہروں میں کرفیو جاری ہے۔
بدھ کو انتظامیہ نے سکیورٹی فورسز کو حکم دیا تھا کہ وہ بلوائیوں کو سڑک پر دیکھتے ہی گولی مار دیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کرفیو کے باوجود تشدد اور فساد نہیں رکے جس کے سبب انہیں یہ قدم اٹھانا پڑا۔ سخت گیر ہندؤ نظریاتی تنظیم وشو ہندؤ پریشد کے رہنما لکشمنانند کے قتل کے بعد سنیچر سے ہی وہاں تشدد شروع ہوگیا تھا۔ عیسائیوں کے سب سے بڑے مذہبی رہنما پوپ بنیڈکٹ سولہ نے اڑیسہ میں ہندؤوں اور عیسائیوں کو درمیان تشدد کے واقعات کی مذمت کی ہے۔ ویٹیکن میں اپنے ہفتہ وار خطاب میں پاپائے روم نے کہا کہ انہیں اس واقعہ کا بےحد افسوس ہے اور انہوں نے دونوں برادریوں سے امن بحال کرنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا’میں انسانوں پر کیے گئے کسی بھی قسم کے حملے کی مذمت کرتا ہوں۔ میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ روحانیت اور یکجہتی ظاہر کرنا چاہتا ہوں جن کے ساتھ اتنا خراب برتاؤ کیا جا رہا ہے۔‘. اس کے علاوہ انہوں نے سوامی لکشمنانند کے قتل کی بھی مذمت کی تھی۔ پیر کو وی ایچ پی کی جانب سے بند کا اعلان کیا گیا تھا جس دوران عیسائیوں کو نشانہ بنایا گا اور کئی گرجہ گھروں کو آگ لگا دی گئی۔ اڑیسہ ميں عیسائیوں پر پہلے بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔ 22 جنوری 1999 کو آسٹریلیائی مشنری گراہم سٹین اور ان کے دو بیٹوں کے آگ میں جھلسی ہوئی لاشیں کیونجھر علاقے کے منوہ پور گاؤں میں ان کی جیپ میں پائے گئے تھے۔ | اسی بارے میں اڑیسہ میں تشدد کے بعد کشیدگی26 August, 2008 | انڈیا اڑیسہ میں ہندو اور عیسائیوں میں فساد30 January, 2008 | انڈیا اڑیسہ: تشدد اور چرچ پرحملے جاری27 December, 2007 | انڈیا اڑیسہ میں چرچوں پر حملے، کرفیو26 December, 2007 | انڈیا اڑیسہ میں اموات کی وجوہ پر تنازع06 September, 2007 | انڈیا بریت کے باوجود قید پر معاوضہ21 August, 2007 | انڈیا ماؤ باغیوں کا حملہ، نو اہلکار ہلاک29 May, 2007 | انڈیا ماؤنواز اور شہریوں کو مسلح کرنے کی پالیسی18 January, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||