آسام میں دھماکہ: 4 ہلاک، 50 زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے شمال مشرقی صوبے آسام میں ایک بم دھماکے کے سبب کم از کم چار افراد ہلاک اور پچاس دیگر زخمی ہوئے ہيں۔ یہ دھماکہ بھوٹان کی سرحد پر واقع صوبے کے کماری کاٹا گاؤں میں اتوار کو پیش آيا ہے ۔ دھماکہ مارکیٹ میں ہوا جہاں ہفتہ وار بازار لگا ہوا تھا اور لوگ خریداری کررہے تھے۔ پولیس کے مطابق زخیموں میں دس کی حالت نازک بتائي جاتی ہے۔ آسام خفیہ پولیس کے سربراہ کھاگین شرما نے دھماکے کی ذمہ داری مبینہ علیحدگی پسند تنظیم یونائٹیڈ لیبریشن فرنٹ آف آسام یعنی ’الفا‘ پر عائد کی ہے۔ تاہم ’الفا‘ نے اس دھماکے کی نہ تو ذمہ داری قبول کی ہے اور نہ ہی اس سے انکار کیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بدھ کو بھی آسام کے ناگاؤں ضلع میں بھی ایک دھماکہ ہوا تھا جس میں سات افراد زخمی ہوئے تھے۔ کھاگین شرما نے بی بی سی کو بتایا: ’اس میں کوئي شک باقی نہيں رہ جاتا کہ اس قدر کا طاقتور دھماکہ آسام میں الفا کے علاوہ کوئی اور کر سکتا ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا: ’یہ دھماکہ براہ راست طور پر چند دنوں قبل الفا کے اٹھائیسویں بٹالین سے کیے گيے فائر بندی کے معاہدے کی مخالفت ميں کیا گيا ہے۔‘ الفا کا اٹھائیسواں بٹالین سب سے طاقتور بٹالین کہا جاتا ہے جسے گزشتہ سات برسوں ميں ہندی آبادی اور شمالی آسام ميں گیس اور تیل کے پائپ لائن پر حملوں کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ لیکن اس ماہ کے اوائل میں الفا کے اٹھائیسویں بٹالین کے کمانڈر نے آسام کی حکومت سے خفیہ طور پر علیحدہ بات چیت کی اور فائر بندی کا اعلان کیا جو کہ الفا کے باہر رہ رہے بڑے رہنماؤں کے لیے پریشانی کا سبب بنا ہوا ہے۔ جبکہ گروپ ملیٹری ونگ چیف پریش بروا نے دھمکی دی تھی کہ وہ اس کا بدلہ لے گا۔ پریش بروا نے بی بی سی کو بتایا: ’الفا میں کسی بھی یونٹ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ فائر بندی کا اعلان کرے یا حکومت سے بات چیت کرے۔ اور جہاں تک سوال اٹھائیسویں بٹالین کا ہے تو اس بٹالین کے جوان حکومت کی جال میں پھنس گئے ہيں۔‘ دوسری جانب صوبے کے وزير اعلی ترون گگوئی نے کہا کہ یہ دھماکہ ایک ایسے وقت پر کیا گيا جب عام لوگ پرہجوم بازار ميں خریداری کررہے تھے۔’یہ ایک خطرنات حملہ ہے جو شرمناک مجرمانہ فعل ہے۔‘ الفا اسّی کے عشرے سے آسام کی آزادی کے لیے مسلح جد و جہد کر رہے ہيں، تاہم ان دنوں تنظیم میں تقسیم اور بعض علیحدگی پسندوں کی خود سپردگی کے سبب الفا کمزور پڑی ہے۔ | اسی بارے میں آسام بم دھماکے میں پندرہ زخمی04 May, 2007 | انڈیا آسام: کانگریس کے رہنما کا قتل01 February, 2007 | انڈیا آسام: ہندی بولنے والوں کے خوفزدہ چہرے10 January, 2007 | انڈیا بم دھماکے میں دو پولیس اہلکار زخمی 10 January, 2007 | انڈیا آسام: مشتبہ افراد کی تلاش جاری 09 January, 2007 | انڈیا چوبیس گھنٹے، اڑتالیس ہلاکتیں06 January, 2007 | انڈیا گوہاٹی میں فوج کی تعیناتی پر غور25 December, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||