جموں:سرحد پر باڑ سے جانور پریشان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں ہند پاک سرحد پر لگائی جانے والی باڑ سے دارندازی میں تو کمی آئی ہے لیکن جنگلی جانوروں پر اس کا منفی اثر پڑا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ریاست جموں اور کشمیر کی تقریباً دو سو کلومیٹر لمبی عالمی سرحد ہے جبکہ سات سو بیس کلومیٹر کی سرحد لائن آف کنٹرول ہے۔ ہندوستان نے پاکستان کی جانب سے ہونے والی داراندازی پر قابو پانے کے لیے اس سرحد پر خار دار باڑ لگا رکھی ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ باڑ اور باردوی سرنگوں کے سبب سرحد پر داراندازی کے واقعات میں واضح کمی آئی ہے جبکہ محکمۂ جنگلات کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس سے جنگلی حیات متاثر ہوئی ہے۔ جموں میں وائلڈ لائف کے وارڈن ناصر احمد کٹچلو کا کہنا ہے کہ ’باڑ لگانے سے علاقے میں جانوروں کے راستے منقطع ہوگئے ہیں اور ان کی نقل مکانی کا عمل متاثر ہوا ہے‘۔ کٹچلو کے مطابق اس باڑ کی وجہ سے پریشان جانور نہ صرف فصلوں کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ انسانوں پر بھی حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ باڑ کے علاوہ جانوروں کے علاقے میں بچھائی جانے والی بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر ہلاک ہونے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ جموں میں فوج کے ترجمان لیفٹینٹ کرنل ایس ڈی گوسوامی کا کہنا ہے کہ جنگلی جانوروں کے بارودی سرنگوں والے علاقے میں گھسنے کے واقعات پیش آئے ہیں اور ’جب بھی ایسے واقعات سامنے آئے ہیں ہم نے جانوروں کو وہاں سے بھگایا ہے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ بارودی سرنگوں کے چاروں طرف باڑ لگی ہے اور اس پر خطرے کے نشان بھی لگے ہیں ’لیکن جب بھی بارودی سرنگوں میں ہونے والے دھماکوں سے کسی جانور پر اثر ہوتا ہے تو دوسرے جانور چوکس ہوجاتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بھی جانوروں کے متاثر ہونے کے واقعات ہوتے رہتے ہیں‘۔ | اسی بارے میں جموں کشمیر میں تشدد میں کمی02 November, 2007 | انڈیا امن کی سرحدیں 14 June, 2005 | انڈیا ریچھ کوزندہ جلانے پر چارگرفتار20 December, 2006 | انڈیا سرحد کی تقسیم سے ماورا28 April, 2005 | انڈیا جموں۔سیالکوٹ: نئی امیدیں17 April, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||