بھارت:اسرائیلی سیارہ خلاء میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستانی خلائی تحقیقاتی ادارے ’اسرو‘نے پیر کو اسرائیل کے جاسوسی مصنوعی سیارے ’ پولارس‘ کو خلاء میں پہنچا دیا ہے۔ یہ مصنوعی سیارہ آندھراپردیش کے جزیرہ سری ہری کوٹہ میں واقع ستیش دھون سپیس سنٹر سے پیر کی صبح 9 بجے خلاء میں بھیجا گیا۔ اس لانچنگ میں پی ایس ایل وی سی 10 راکٹ کا استعمال کیا گیا جو دوسرے پی ایس ایل وی راکٹوں سے ان معنوں میں مختلف تھا کہ اس پر کوئی بوسٹرز نہیں لگائے گئے تھے۔ 230 ٹن وزنی اس راکٹ نے 300 کلو گرام وزنی اسرائیلی سیٹلائیٹ کو کسی مشکل کے بنا مدار میں پہنچادیا۔ اس موقع پر اسرو کے علاوہ اسرائیلی خلائی تحقیقاتی ادارے کے سینئر عہدیدار بھی موجود تھے۔ جیسے ہی پی ایس ایل وی راکٹ کو کامیابی سے داغا گیا، ہندوستانی اور اسرائیلی عہدیداروں نے گرمجوشی کے ساتھ ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔ یہ دوسری مرتبہ ہے جب اسرو نے کسی دوسرے ملک کے مصنوعی سیارے کو اپنے مرکز سے داغا ہے۔ اس سے پہلے اپریل 2007 میں اٹلی کے سیٹلائیٹ کو بھی اسی مرکز سے خلاء میں بھیجا گیا تھا۔ ہندوستانی خلائی سائنسداں اسرائیلی مصنوعی سیارہ کی لانچنگ کو اس لیے کافی اہمیت دے رہے ہیں کیونکہ اس سے انہیں سیٹلائیٹ لانچنگ کی بین الاقوامی مارکیٹ میں ایک اہم حصہ ملنے کی امید ہے۔ یہ اسرائیلی مصنوعی سیارہ گزشتہ سال ہی خلاء میں جانے والا تھا لیکن بعض نامعلوم وجوہات کی بنا پر یہ لانچنگ کئی مرتبہ ملتوی کرنی پڑی تھی۔گزشتہ برس اکتوبر میں ’پولارس‘ سیٹلائیٹ کو راکٹ پر پہنچا دیا گیا تھا لیکن اچانک اسے راکٹ سے ہٹا دیا گیا۔اس وقت یہ قیاس آرائیاں ہونے لگی تھیں کہ امریکہ اور کچھ عرب ملکوں کے دباؤ کی وجہ سے ہندوستان اسرائیل کا مصنوعی سیارہ نہیں داغے گا لیکن آج کی لانچنگ سے یہ قیاس آرائیاں غلط ثابت ہوگئیں۔ یہ مصنوعی سیارہ اسرائیل کے لیے کافی فوجی اہمیت کا حامل ہے اس میں زمین کی کافی واضح اور بڑی تصویریں لینے کی صلاحیت ہے۔ یہ مصنوعی سیارہ ایک میٹر تک کی شے کی تصویر لے سکتا ہے اور اس کی مدد سے نہ صرف اسرائیل پڑوسی عرب ملکوں کی سرحدوں پر ہونے والی کسی بھی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکتا ہے بلکہ ایران کے متنازعہ ایٹمی مراکز کی تصویریں بھی حاصل کرسکتا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی سرزمین سے اسرائیلی مصنوعی سیارہ کی یہ لانچنگ دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے قریبی تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔ |
اسی بارے میں اِنفارمیشن ٹیکنالوجی بمقابلہ کرپشن01 July, 2006 | انڈیا لز اور نائر کی شادی، چاند کا مشن، افراط زر11 February, 2007 | انڈیا انسیٹ کی ناکامی پر اسرو ’اپ سیٹ‘11 July, 2006 | انڈیا ’ان سیٹ 4‘ لانچنگ کیلیئے تیار09 July, 2006 | انڈیا سونامی: قبل از وقت خبر کیوں نہ ہوئی30 December, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||