BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 November, 2007, 11:57 GMT 16:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرناٹک: بی جے پی حکومت کو خطرہ
ایچ ڈی دیوگوڑا، سابق وزیر اعظم
ایچ ڈی ڈیوگوڈا کا کہنا ہے کہ انکی پارٹی ارکان اسمبلی یدورپا حکومت کو حمایت کا ووٹ نہ دے
ہندوستان کی جنوبی ریاست کرناٹک میں جنتا دل سیکولر یعنی جے ڈی ایس کی طرف سے حمایت نہ دینے کے فیصلے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کی نئی حکومت خطرے میں پڑ گئی ہے۔

پیر کے روز کرناٹک کے وزیراعلٰی بی ایس یدورپا کو اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لیے اسبملی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا تھا۔

ریاست کی سیاست نے اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب جے ڈی ایس نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو حمایت دینے کے بدلے بعض ایسی شرائط رکھیں جنہیں بھارتیہ جنتا پارٹی نے قبول کرنے سے انکار کردیا۔

اطلاعات کے مطابق جے ڈی ایس نے بھارتیہ جنتا پارٹی سے کانکنی اور بعض دیگر اہم وزارتوں کا مطالبہ کیا تھا۔

جے ڈی ایس کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم ایچ ڈی ڈیوگوڈا نے کہا ہے کہ انکی پارٹی کے سبھی ارکان اسبملی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اسبملی میں بی جے پی کی یدورپا حکومت کے خلاف ووٹ ڈالیں۔

ادھر دلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ انکی پارٹی اگر اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکام بھی ہوئی تو بھی وہ ہار نہیں مانیں گے اور وہ ریاست میں انتخابات کے لیے تیار ہیں۔

دونوں پارٹیوں کے درمیان اختلافات دور کرنے کے لیے اتوار کے روز جے ڈی ایس اور وزیراعلٰی بی ایس یدورپا کے درمیان ایک میٹنگ بھی ہوئی لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔

انتخاب کے لیے تیار
 ہماری پارٹی اگر اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکام بھی ہوئی تو ہم ہار نہیں مانیں گے اور ہم ریاست میں انتخابات کے لیے تیار ہیں۔
راج ناتھ سنگھ، بی جے پی صدر

واضح رہے کے تقریباً دو برس قبل ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں کسی جماعت کو واضح اکثریت نہ ملنے کے بعد جنتادل سیکولر اور بی جے پی کے درمیان باری باری سے مخلوط حکومت سازي کا معاہدہ ہوا تھا اور پہلے جنتا دل سیکولر نے بیس مہینے کے لیے حکومت بنائی تھی۔

گزشتہ ماہ جے ڈی ایس حکومت کے بیس مہینے پورے ہونے کے بعد جنتا دل سیکولر اور بی جے پی کی مخلوط میں اقتدار کی منتقلی کے سوال پر تناز‏عہ کھڑا ہوگيا تھا جس کی وجہ سے اس وقت کے وزیراعلٰی ایچ ڈی کمارا سوامی کو آٹھ اکتوبر کو مستعفی ہونا پڑا تھا اور ریاست میں صدر راج نافذ ہوا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد