کرناٹک میں صدر راج کی سفارش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی مرکزی حکومت نے جنوبی ریاست کرناٹک میں اسمبلی کی معطلی اور صدر راج نافذ کرنے کی سفارش کی ہے۔ مرکزی کابینہ نے یہ فیصلہ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ایچ کمارا سوامی کے استعفے کے بعدگورنر رامیشور ٹھاکر کی سفارش پر کیا ہے۔ کرناٹک کے وزیراعلٰیٰ ایچ ڈی کمارا سوامی پیر کے روز اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔ کرناٹک میں اتحادی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی طرف سے حمایت واپس لینے کے فیصلے کے بعد جنتادل سیکولر کی مخلوط حکومت اقلیت میں آگئی تھی۔ دونوں جماعتوں کے درمیان ایک سمجھوتے کے مطابق جنتادل سیکولر کو تین اکتوبر کو حکومت کی سربراہی اتحادی جماعت بی جے پی کو منتقل کرنی تھی لیکن عین وقت پر وزيرِاعلٰیٰ ایچ ڈی کمارا سوامی نے اس سے انکار کر دیا۔ ایچ ڈی کمارا سوامی نے پہلے اٹھارہ اکتوبر کو ریاستی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا تھا تا کہ وہ اعتماد کا ووٹ حاصل کر سکیں لیکن کانگریس کے رہنماؤں کی گورنر سے ملاقات اور ان کی جانب سے حکومت برخاست کرنے کی درخواست کے بعد انہوں نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ سنیچر کو بی جے پی کے سینئر لیڈر یشونت سنہا نے کہا تھا کہ کرناٹک کے وزیرِاعلٰی ایچ ڈی کمارا سوامی کے والد اور سابق وزیرِاعظم ایچ ڈی ڈیوگوڑا نے اقتدار کی منتقلی سے متعلق نہ صرف سمجھوتے کی خلاف ورزی کی بلکہ زبردست دھوکہ کیا ہے۔ ریاست کی مخلوط حکومت گزشتہ ایک ہفتے سے بحران کا شکار تھی اور گزشتہ منگل کو سیاسی حالات مزید سنگین ہوگئے تھے جب نائب وزيراعلیٰ اور بی جے پی کے رہنما بی ایس یدیوروپا نے سبھی سترہ وزراء کے استعفے وزیراعلیٰ کے سپرد کر دیے تھے۔ تقریباً دو برس قبل ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں کسی جماعت کو واضح اکثریت نہ ملنے کے بعد جنتادل سیکولر اور بی جے پی کے درمیان باری سے مخلوط حکومت سازي کا معاہدہ ہوا تھا۔ | اسی بارے میں کرناٹک کے وزیراعٰلی مستعفی08 October, 2007 | انڈیا کرناٹک:ریاستی حکومت اقلیت میں06 October, 2007 | انڈیا کرناٹک: دھرم سنگھ حکومت کا خاتمہ28 January, 2006 | انڈیا کانگریس کو چیلنج کا سامنا21 January, 2006 | انڈیا کرناٹک حکومت خطرے میں 19 January, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||