BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 16 September, 2007, 14:13 GMT 19:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹیچرز کی منسوخی کے خلاف اپیل

وزیر اعلٰی مایا وتی
حکمران بہوجن سماج پارٹی بھی مسلمانوں کے ووٹ کی دعویدار ہے
اترپردیش میں مایاوتی کی حکومت نے تیرہ ہزار اردو ٹیچرز کی تقرری کو غیر قانونی قرار دیے جانے والے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف خصوصی اپیل داخل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

گزشتہ جمعہ کو الہ آباد ہائی کورٹ نے ریاست کے پرائمری سکولوں کے لیے ملائم سنگھ حکومت کے دور اقتدار میں کی گئی تیرہ ہزار اردو ٹیچرز کی تقرری کو منسوخ کردیا تھا۔ ان ٹیچرز کو حکومتی اداروں میں دو سالہ ٹریننگ دی جارہی تھی۔

ہائی کوٹ کے اس فیصلے کے بعد جہاں مسلمانوں کے درمیان اضطراب ہے وہیں حزب اختلاف سماج وادی پارٹی ریاستی حکومت کو گھیرنے کی کوشش کررہی ہے۔دلچستپ بات یہ ہے کہ دونوں پارٹیاں مسلمانوں کے ووٹ پر بہت زيادہ منحصر رہتی ہیں۔

ریاست کے پرنسپل سیکرٹیری شیلیش کرشنا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ حکومت پوری قانونی چارہ جوئی کرےگی تاکہ تقرر کیے جانے والے ٹیچرز کی نوکری محفوظ رکھی جاسکے۔

مسٹر شیلیش کرشنا نے مسلمانوں کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہاکہ انتظامیہ پوری طرح سے لسانی اقیلت کےحقوق سے واقف ہے۔ اور وہ تمام کام کرے گی جس سے ان کے حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو‘۔

مسٹر کرشنا نے ٹیچرز سے اپیل کی ہے کہ وہ سڑکوں پر نہ آئیں اور نہ ہی احتجاجی مظاہرے کریں کیونکہ حکومت ان کے مسقبل کے بارے میں فکر مند ہے اور تمام تر ضروری اقدامات کررہی ہے۔

تقرری پانے والے بیشتراردو ٹیچرز میں اکثریت مسلمانوں کی ہے اور جمعہ کو ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف مسلمانوں نے مایاوتی حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔

 ہے۔عدالت کا کہنا تھاکہ اسکولوں میں اردو زبان ميں تعلیم دینے کا یا کوئی مضمون پڑھانے کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اورنہ ہی پرائمری یا جونیئرسطح پر نصاب میں اردو بطور مضمون شامل ہے

حزب اختلاف کی جماعت سماج وادی پارٹی نے اسے سیاسی ایشو بنا دیا ہے اور الزام لگارہی ہے کہ موجودہ حکرمت اس معاملے کو صحیح ڈھنگ سے عدالت کے سامنے پیش نہیں کررہی ہے۔

اترپردیش میں ستر ہ فیصد مسلمانوں کی آبادی ہے اور ریاست میں اردو دوسری سرکاری زبان ہے۔ سماج وادی پارٹی کے پاس مسمانوں کا خاصا ووٹ بینک ہے۔جبکہ حکمران بہوجن سماج پارٹی بھی دوسرے نمبر پر مسلمانوں کے ووٹ کی دعویدار ہے ۔

تاہم حکومتی اہلکار یہ بتانےسے قاصر ہیں کہ وہ کس بنیاد پر اس معاملے کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔ مسٹر کرشن نے کہا’ ابھی ہم فیصلے کی پوری نقل کا انتظار کررہے ہیں۔ اور اس کے بعد ہی ہم یہ طے کر پائیں گے کہ ہم کس بنیاد پر اس کو چیلنج کریں گے۔

جسٹس ارون ٹنڈن نے فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ تقرری کا سارا عمل غیر قانونی ہے۔عدالت کا کہنا تھاکہ سکولوں میں اردو زبان میں تعلیم دینے یا کوئی مضمون پڑھانے کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اورنہ ہی پرائمری یا جونیئرسطح پر نصاب میں اردو بطور مضمون شامل ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد