الہ آباد: ٹیچروں کی تقرری منسوخ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست اترپردیش میں الہ آباد ہائی کورٹ نے ریاست کے پرائمری اسکولوں کے لیے کی گئی دس ہزار اردو کی ٹیچروں کی تقرری کے عمل کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے منسوخ کردیا ہے۔ یہ تقرریاں سابق وزیر اعلی ملائم سنگھ یادو کے دور میں سال دو ہزار پانچ اور چھ میں کی گئی تھیں اور منتخب کئے گئے امیدواروں کو حکومتی اداروں میں دو سالہ ٹریننگ دی جارہی تھی۔ جسٹس ارون ٹنڈن نے مذکورہ فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ پرائمری اسکولوں کوچلانے والے حکومتی ادارے 'بیسک شکشا پریشد' کے اسکولوں میں اردو زبان ميں تعلیم سے کوئی مضمون پڑھانے کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے اورنہ ہی پرائمری یا جونیئرسطح پر نصاب میں اردو بطور مضمون شامل ہے۔ عدالت کے مطابق اردو ٹیچروں کی تقرری کے لیے ضابطوں کو نظر انداز کیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ ان اسکولوں میں اردو ٹیچر کے عہدے پر تقرری تب ہی کی جاسکتی ہے جب 'پرموشن' کے بعد خصوصی ٹیچر کے عہدے خالی بچیں۔ عدالت نے یہ بھی ریمارک دیا کہ اردو ٹیچروں کی ٹریننگ شروع کرانے کے لیے قومی ادارے این سی ٹی ای سے بھی کوئی اجازت نہیں لی گئی ہے ۔ جسٹس ارون ٹنڈن نے اس طرح تکنیکی بنیادوں پر اردو ٹیچروں کی تقرری اور انھیں خصوصی ٹریننگ دیئے جانے کے عمل کو روک دینے کا حکم دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ سنبل نقوی کی رٹ پٹیشن پر دیا ہے جنہوں نے اپنی عرضی میں کہا کہ خالی عہدوں کے لیے کوالیفائڈ ٹیچر موجود ہیں اس لئے اردو ٹیچروں کی خصوصی ٹریننگ اور پھر ان کی مستقل تقرری کا کوئی جواز نہیں ہے۔ عدالت کے اس فیصلہ سے ہزاروں ممکنہ اردو ٹیچروں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس سلسلہ میں اترپردیش کے سابق ایڈوکیٹ جنرل ایس ایم اے کاظمی نے کہا کہ ہائی کورٹ کے فیصلہ پر بحث کی گنجائش موجود ہے اور اس کے خلاف ہائر بنچ میں اپیل کی جانی چاہیے ۔ دوسری طرف مایاوتی حکومت کی طرف سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ | اسی بارے میں اردو داستان گوئی کی نئی زندگی 08 October, 2006 | انڈیا یوپی: بیروزگاروں کیلیئے الاؤنس16 June, 2006 | انڈیا یوپی انتخابات: مسلم ووٹرز کا المیہ14 April, 2007 | انڈیا ریلائنس سٹور بند کرنے کا حکم24 August, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||