یوپی: بیروزگاروں کیلیئے الاؤنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اترپردیش میں حکومت کی جانب سے تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کو بیروزگاری الاؤنس دینے کی نئی سکیم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ انڈیا کی کسی بھی ریاست میں اپنی نوعیت کی یہ پہلی سکیم ہے جس کے تحت روزگار دفاتر میں رجسٹرڈ گریجویٹس نوجوانوں کو ماہانہ پانچ سو روپے دیئے جائیں گے شرط یہ ہے کہ درخواست گزار کی عمر پینتیس برس سے زائد نہ ہو۔ وزیراعلیٰ ملائم سنگھ یادو نے اس سکیم کے آغاز کے وقت کہا کہ اس سکیم کے تحت فی الوقت پانچ سو روپے ماہانہ دیئے جائیں گے لیکن اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو اسں رقم کو دوگنا کردیا جائےگا۔ پانچ سو روپے کا چیک حاصل کرنے کے لیئے لکھنو کے امبیڈ کر میدان میں ستر ہزار سے زائد نوجوان جمع ہوئے تھے اور اس موقع پر اکیاون ہزار سات سو بیروزگاروں کو مذکورہ رقم دی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس رقم کو لینے والے والوں میں پچاس انجینئر اور بیس ڈاکٹر بھی شامل تھے۔ آئندہ سال ہونے والے اسمبلی الیکشن کے پیش نظر سماج وادی پارٹی نے نوجوان ووٹروں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیئے اس سکیم کو نافد کیا ہے۔ کانگریس پارٹی نے اس سکیم پر نکتہ چینی کرتے ہوئےکہا ہے کہ حکومت روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ کانگریس کے مطابق ریاست میں صنعتوں کا برا حال ہے اور ملائم حکومت عوام میں غیر مقبول ہوتی جارہی ہے اس لیئے وہ نوجوانوں کو بیوقوف بنا نے کی کوشش کررہی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اتر پردیش بھارت کی پسماندہ ریاستوں میں سے ایک ہے اور رواں سال کے آغاز میں جب سماج وادی پارٹی کی حکومت نے بیروزگاری الاؤنس دینے کا اعلان کیا تھا تب سے روزگار دفاتر میں رجسٹریشن کرنے والوں کی بڑی بھیڑ لگنے لگی تھی۔ لیبر محکمے کے ایک اعلیٰ افسر انل کمار گپتا کے مطابق پوری ریاست کے روزگار دفاتر میں رجسٹرڈ گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ بیروزگاروں کی تعداد تقریبًا آٹھ لاکھ اسی ہزار ہے۔ ان میں تقریبًا چار لاکھ لوگوں نے بیروزگاری الاؤنس کے لیئے درخواستیں دے رکھی ہیں۔ ریاستی حکومت نے اس مقصد کے لیئے بجٹ میں چار سو کروڑ روپے مختص کیے ہیں اور مزید رقم دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ مختلف اضلاع میں واقع ٹریزری دفاتر کو ہدایت دی گئی ہے جن افراد کی درخواستیں موصول ہوں ان کی ڈگریوں کی جانچ کے بعد ان کے بینک کھاتے میں ہر ماہ پانچ سو روپۓ منتقل کر دیئے جائیں۔ اس سکیم کے آغاز کے موقع پر نوجوانوں میں کافی جوش پایا جاتاہے۔ سیتاپور، اناو، لکھیم پور، کھیری، ہردوئی اور رائے بریلی سے نوجوانوں کو لکھنؤ لانے کے لیئے بسوں کا انتظام کیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں ’الٹی ہوگئیں سب تدبیریں‘ 30 April, 2004 | انڈیا دیکھیں ذرا کس میں کتنا ہے دم20 April, 2004 | انڈیا بھارت کا دیہی ترقی کا پروگرام15 November, 2004 | انڈیا گیا میں پھولوں سے روزگار21 March, 2005 | انڈیا دیہاتیوں کو روزگار کی ضمانت 18 August, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||