BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 August, 2007, 08:55 GMT 13:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پٹنہ میں بچوں کے اغواء کا خوف

سکول کے بچے
اغواء کے بعد مار دیئے جانےوالے بچوں کی سب سے زیادہ تعداد پٹنہ میں ہے۔ (فائل فوٹو)
گزشتہ ہفتے پیر کو پٹنہ سنٹرل سکول کے آٹھویں جماعت کے بچے وبھیشیک روشن کے اغواء اور دوسرے دن اس کی لاش ملنے اور جمعے کو ایک اور بچے کےاغواء سے بہار میں خوف پھیل گیا ہے۔

تمام سرکاری اور پولیس کارروائیوں کے باوجود اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ اسی حوالے سے ایک مقدمہ پٹنہ ہائی کورٹ میں بھی زير سماعت ہے۔

سرکار کی طرف سے جو جواب اور حلف نامہ داخل کیا گيا ہے اس میں شامل اعداد و شمار کافی پریشان کن ہيں۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس (سی آئی ڈي) اے کے گپتا نے عدالت کے سامنے جو اعداد و شمار پیش کیے ہیں وہ کافی تشویشناک ہیں حالانکہ یہ بھی کہاگيا ہےکہ تاوان کے لیے اغواء کی وارداتوں میں کمی آئی ہے۔

سنہ دوہزار ایک سے جون دوہزار سات کے درمیان 2068 بچوں کا اغوا ہوا ہے۔ جن میں سے چوہتّر کو قتل کردیا گيا۔ 1690 برآمد ہوئے یا رہا کردیا گيا جبکہ تین سو چار اب بھی لاپتہ ہیں۔ یہ اعداد وشمار صرف چار اضلاع پٹنہ، مظفر پور دربھنگہ اور بھاگلپور کے ہیں۔

مظفر پور میں سب سے زيادہ سات سو چھبیس بچے اغواء ہوئے ہيں جن میں تیرہ کو مار دیا گيا۔

اغواء کے بعد مار دیئے جانےوالے بچوں کی سب سے زیادہ تعداد بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں ہے۔ پٹنہ میں پانچ سو اٹھانوے بچے اغوا ہوئے اور چھتیس کا قتل کیا گيا، چار سو پچاس برآمد ہوئے اور ایک سو بارہ تاحال لاپتہ ہیں۔

بھاگلپور ميں دو سو چھہتّر اغوا شدہ بچوں میں سے سولہ مار دیئے گئے۔ دربھنگہ میں چارسو ترپن بچے اغوا ہوئے جن میں سے چار سو چالیس برآمد ہوئے، نومار دیئے گئے اور چار اب بھی لاپتہ ہیں۔

بچوں کے علاوہ اس مدت کے دوران تین سو ننانوے عورتیں اغوا ہوئي ہيں۔ جن میں تین سو اڑتالیس اب بھی لاپتہ ہيں۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ اغوا شدگان کی جلد از جلد برآمدگی کے لیے ہر ممکن اقدمات کیے جائیں۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ دو سالوں میں اغواء برائے تاوان کے واقعات میں لگاتار کمی آئی ہے۔ 2004 میں یہ تعداد چار سو گيارہ تھی، 2005 میں دو سواکیاون اور 2006 میں ایک سو چرانوے ہوگئی۔ اس سال جون تک صرف اڑتالیس وارداتیں ہوئي ہیں۔ بہار اغواء برائے تاوان کے واقعات کے حوالے سے کافی بدنام رہا ہے۔

پولیس نے اس سال مئی، جون اور جولائی کے دوران چوّن مغوی بچوں کو برآمد کیا لیکن اسی مدت میں اکاون نئی وارداتیں بھی ہوئیں۔

تین سو چار تاحال لاپتہ بچوں میں میں زیادہ تر بچیاں شامل ہيں۔ حالانکہ پولیس کا کہنا ہےکہ جو ایک سو پیسنٹھ لڑکیاں غائب ہوئی ہیں ان میں سے چوّن اپنے دوست لڑکوں کے ساتھ گھر چھوڑ کر چلی گئی ہیں یا ان سے شادی کر لی۔ ان میں سیاستدان، پولیس، تاجر اور بڑے گھروں کی لڑکیاں بھی شامل ہيں جن کے بارے میں اغوا کی رپورٹ درج کرائی گئی تھی۔

انیتا کشواہابہار کی سٹار گرل
18 سالہ انیتا کے لیے یونیسف کا اعزاز
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد