انڈیا کے ڈوبتے جزیروں کے مکین | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’سنمدر نے ہمارا سب کچھ نگل لیا، سب کچھ ، ہم گھر سے بے گھر ہوگئے‘۔ یہ کہہ کر انوارہ بیگم نے جھک کر دلدل کےکنارے سے جنگلی پودوں کی پتیاں توڑ کر اپنی ساڑھی کے آنچل میں باندھیں۔ وہ یہ پتیاں خراب اور موٹے قسم کے چاولوں کے ساتھ ابال کر اپنے بچوں کو رات کے کھانے کے طور پر کھلانے والی ہیں۔ انوارہ بیگم انڈیا کے مشرقی پانیوں میں سُندربن ڈیلٹا کے سطح سمندر سے نیچے چلے جانے والے ایک جزیرے کی رہائشی تھیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’ہمارے کھیت تھے جہاں اچھی قسم کا چاول اور سبزیاں پیدا ہوتی تھی، ہم وہ سب سامان منڈی ميں فروخت کیا کرتے تھے، میں روز مچھلی پکایا کرتی تھی وہ زندگی بہت خوبصورت اور پرسکون تھی‘۔ انوارہ کے شوہر صابر علی بتاتے ہيں کہ ’ہم اپنے جزیرے میں سب سے زيادہ امیر تھے، ہمارے تین ایکڑ میں پھیلے ہوئے کھیت تھے اور بہت بڑا مکان تھا۔آج ہم سب سے زيادہ غریب ہو چکے ہيں‘۔
صابر علی کے ساتھ ہزاروں کاشتکار اپنے آبائي جزیرے لوہاچارہ اور گھوڑامارہ چھوڑ کر ساگر جزیرے میں پناہ گزینوں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ لوہا چارہ مکمل طور پر زیر آب آ چکا ہے۔ ’یہ سنمدر سب کچھ کھا لے گا۔ ہمارا پورا جزیرہ اپنے پیٹ میں اتارے بغیر نہيں رکے گا۔ سب کچھ ختم ہونے والا ہے‘۔ یہ الفاظ ہیں امول منڈل کے جو گھوڑا مارہ میں رہتے ہيں اور گزشتہ پندرہ سالوں میں ان کے چار مکانات سمندر کی نذر ہو چکے ہیں۔ ان کے پاس آخری مکان بچا ہے جس میں وہ رہائش پذیر ہیں ۔اس مکان سے چند میٹر کے فاصلے پر زمین میں دراڑیں پڑنا شروع ہوگئی ہيں۔ منڈل آج کل ایک غریب مزدر ہیں۔ گھوڑامارہ کے ہی ارجن جانا نے ایک باندھ کے اوپر ایک چھوٹا سا کمرہ بنا لیا ہے جہاں وہ اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ وہ کہتے ’میں اسی امید پر یہاں آیا تھا کہ ہم اسی جزیرے پر کچھ سال اور گزار سکے گے لیکن اب میں سمجھ گیا ہوں کہ اس جگہ کو خیر آباد کہنے کا وقت آچکا ہے‘۔ جانا ایک اچھے کھاتے پیتے کاشتکار تھے، اب بقول ان کے ’میری ساری زمین چلی گئی اب میں مچھلیاں پکڑ کر کسی طرح بھوک اور موت کو اپنے دروازے میں داخل ہونے سے روک رہا ہوں‘۔ گھوڑا مارہ اور لوہاچارہ کی یہ اجڑی ہوئی زندگیاں در حقیقت گلوبل وارمنگ کی سچی آئینہ دار ہيں۔
کولکاتہ کی جادو پورہ یونیورسٹی کے ماہرین اور سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ پورا سندر بن خطرے کا شکار ہے، گلوبل وارمنگ کی وجہ سے سمندر کی سطح لگاتار بڑھتی جارہی ہے۔ سمندر کی سطح بڑھنے کی عالمی شرح دو ملی میٹر ہے جبکہ سندربن ڈیلٹا میں یہ شرح تین اعشاریہ ایک چار ہے۔ انسانی آبادی والا حصہ جو گھنے جنگلات کامحور رہا ہے زيادہ تیزی سے سمندر میں غرق ہوتا جا رہا ہے۔ لوہاچارہ اور سپاری بھانگا جزیرے پوری طرح ڈوب چکے ہیں۔ سمندر بہت تیزی کے ساتھ گھوڑامارہ اور موشنی جزيروں کو نگلتا جا رہا ہے بس چند سال اور ۔۔۔۔پھر یہ دونوں جزیرے بھی پورے طور سمندر میں روپوش ہو جائیگے۔ یہ الفاظ ہیں سوگتوہازرہ کے۔ ہازرہ جادو پور یونیورسیٹی میں سکول آف اوشنوگرافی کے سربراہ ہیں جہاں دو دہائیوں سے سندر بن پر ریسرچ کا کام چل رہا ہے۔ ہازرہ کہتے ہیں کہ ’اگر اسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہا تو بیس سو بیس تک بارہ مزيد جزیرے مکمل طور پر اور بڑے جزیروں کے بھی کچھ حِصّے زیر آب چلے جائیں گئے اور دو لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوجائیں گے۔ صرف انسانی آبادی ہی نہيں بلکہ سمندر کا پانی بڑھنا سندربن کے قریب چار سو رائل بنگال ٹائگروں کے لیے بھی مسلسل خطرہ بنتا جارہا ہے۔گزشتہ دو دہائیوں میں سندربن جنگلات کا تیس فیصد حصہ سمندر میں ڈوب چکا ہے۔ سندربن ڈویلپمنٹ کے سابق سربراہ پرانابش سانیال کا کہنا ہے کہ ’سمندر کی سطح تیزی سے بڑھنے کے سبب سندر بن جنگلات میں تمام چھوٹے بڑے تالاب اور ندیوں کا پانی پوری طرح سے کھارا ہو چکا ہے جو کہ رائل ٹائیگرز کے پینے کے لیے موزوں نہيں ہے۔ اس وجہ سے شیر پانی کی تلاش میں جنگلات کی شمالی سرحدوں کی طرف جانے لگے ہیں جہاں ٹائگر کے شکار کا خطرہ بہت بڑھ گیا ہے‘۔
جہانگیر کہتے ہیں کہ اس صورت حال پر قابو پانا مشکل نہيں ناممکن ہے۔ حکومت کو ایک جزیرے سے دوسرے جزيرے پر لوگوں کو لانے کے بجائے کچھ ٹھوس قدم اٹھانے چاہیں۔ کولکاتہ یونیورسیٹی میں شعبہ میرین کے سابق سربراہ پروفیسر املیش چودھری کا خیال ہے کہ موجودہ بحران کے لیے گلوبل وارمنگ ہی ذمہ دار نہيں بلکہ پورا بنگال بیسن مشرق کی طرف جھک رہا ہے اور ایسا تین سو سالوں سے ہو رہا ہے۔ جنوبی بنگال کی تمام ندیاں مشرق کی طرف جارہی ہيں گھوڑا مارہ کے مغربی کنارے پر بہت تیزي سے زمین ’ایروژن‘ ہورہا ہے۔ مغربی بنگال میں شعبہ ماحولیات کے سیکریٹری ایم ایل مینا کا کہنا ہے کہ ہوگلی ندی کے نچلی سطح پر بہت تیزی سے گاد جمع ہونے سے اس علاقے کے تمام جزيروں میں ’سائيڈل امپکٹ‘ بہت زيادہ بڑھ گیا ہے۔ مینا بھی اس اروژن کے لیے گلوبل وارمنگ کو کُلی طور پر ذمہ دار ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہيں کہ ’یہ اروژن روکنا بہت مشکل ہے، ہم نے مختلف جگہوں پر باندھ باندھے ہیں لیکن کچھ فائدہ نہيں ہوا‘۔ وزیر برائے ترقی سندربن کانتی گانگولی کا کہنا ہےکہ ’اروزن‘ رکنے والی نہيں ہے اور باندھ اور پشتے بنانے سے کو ئی فائدہ نہيں ہے۔ ہم نے لوہاچارہ اور گھوڑا مارہ کے ہزاروں افراد کو ساگر جزيرے میں لاکر بسایا اور ہم لگاتار سائنس دانوں، عالمی ماہرین اور مرکزی حکومت کے ساتھ رابطہ بنائے ہوئے ہیں تاکہ ہم کچھ ٹھوس قدم اٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران کی وجہ چاہے جو بھی ہو ’گلوبل وارمنگ‘، ’سائڈل امپکٹ‘ یا کچھ اور لیکن یہ حقیقت ہے کہ سندربن کی تمام آبادی تباہی کے کگار پر کھڑی ہے۔ لوہاچار کی سہری جان بی بی کی چھ ایکڑ زمین اور ایک مکان ہوا کرتا تھا، ان کے پاس مویشی بھی بھاری تعداد میں تھے۔ وہ کہتی ہیں کہ ایک دن ’جوار‘ کےدوران اچانک زبردست ریلہ آیا اور ہمارا سب کچھ بہا کر لے گيا۔ سہری جان بی بی اب ساگر دیپ میں بھیک مانگ کر گزارہ کرتی ہیں۔ |
اسی بارے میں انٹارکٹیکا پگھل رہا ہے02 February, 2005 | نیٹ سائنس برفانی تودے اور سمندری حیات22 June, 2007 | نیٹ سائنس ماحولیاتی تبدیلی پر انڈیا متحرک13 July, 2007 | نیٹ سائنس چلی: اچانک جھیل غائب ہوگئی22 June, 2007 | نیٹ سائنس سمندر کی تہہ میں وادی کا مشاہدہ20 June, 2007 | نیٹ سائنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||