 | | | صحرا بننے کا عمل اگلے دس سالوں میں پانچ کروڑ لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کر سکتا ہے |
کروڑوں لوگوں کو خاص طور پر افریقہ اور وسطِ ایشیا میں بڑھتے ہوئے صحراؤں کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔ اقوام متحدہ یونیورسٹی کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے زمین کے ویران ہونے کا عمل عصر حاضر کا سب سے بڑا ماحولیاتی چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ زمین کی ویرانی کے عمل کو اگر بر وقت نہ روکا گیا تو اگلے دس سالوں میں پانچ کروڑ کے لگ بھگ لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو جائینگے۔ پچیس ممالک کے دو سو سے زائد ماہرین نے یہ رپورٹ تیار کی ہے۔ اس میں کسی کو ہدف تنقید بنائے بغیر کہا گیا ہے کہ زمین کی ویرانی ایک عالمی نوعیت کا ماحولیاتی بحران ہے، جس سے دنیا کی ایک تہائی آبادی کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماحولیاتی تغیرات کے علاوہ زمین کا بےجا استعمال اور آبیاری کا غیر مناسب طریقۂ کار بھی زمین کی خرابی کا سبب بن رہا ہے۔ ’خشک زمین پر جنگلات کی حوصلہ افزائی اور کھیتی باڑی کی نئی تکنیک وہ سادہ طریقۂ کار ہیں جن سے ماحول سے کاربن کو خارج کرنے اور صحرا بننے کے عمل کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے‘۔  | | | شجر کاری پانی کے محدود وسائل پر دباؤ بڑھانے کا سبب بھی بن سکتی ہے |
اقوام متحدہ کی رپورٹ لکھنے والے مصنفین کے سربراہ ظفر عدیل کے مطابق خشک زمین پر رہنے والوں کے لیے کاشتکاری کے روایتی طریقۂ کار کی بجائے ایسے متنوع طریقے متعارف کرائے جانے چاہیں جن سے قدرتی وسائل پر بوجھ نہ پڑے۔ ’مثلاً ماحولیاتی سیاحت یا شمسی توانائی کا استعمال‘۔ چین سمیت بعض ممالک میں شجرکاری کی مہم چلائی جا رہی ہے تاکہ زمین کے صحرا بننے کو عمل کو روکا جا سکے، لیکن ظفر عدیل کہتے ہیں کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ جو درخت لگائے جا رہے ہوں انہیں زیادہ پانی درکار ہو اور یوں محدود قدرتی وسائل پر بوجھ مزید بڑھ جائے۔ |