ناگاؤں نے آسام میں آگ لگا دی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام میں پولیس کا کہنا ہے کہ ریاست ناگالینڈ کے مسلح گاؤں والوں نے آسام کے تین دیہات کو نذر آتش کردیاہے۔ اس واقعہ میں ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔ بدھ کے روز مشتعل ناگا قبائلیوں نے منی پور کے دس سکولوں کو بھی نذر آتش کردیا تھا۔ پولیس کے مطابق سینکڑوں کی تعداد میں ناگالینڈ کے مسلح قبائلیوں نے آسام کے گلیکی اور سیبسا گر کے تین گاؤں میں آگ لگا دی۔اس حملہ کے بعد بڑی تعداد میں مقامی باشندوں نے علاقوں کو خالی کردیا ہے۔ ناگالینڈ دعویٰ کرتا ہے کہ ریاست آسام اس کے بعض خطوں پر قابض ہے۔ جبکہ ریاست آسام کا کہنا ہے کہ اس کے بعض علاقوں کو ناگالینڈ نے اپنے قبضے میں لے رکھاہے۔ ناگالینڈ کا ایک الگ ریاست کے طور پر قیام انیس ترسٹھ میں ہوا تھا جسے آسام کے ناگا قبائلیوں کی اکثریت والے اضلاع کومنقسم کر کے بنایا گیا تھا۔ ناگا قبائل نے ریاست ناگالینڈ کے قیام کے لیے انیس سو چھپن میں مسلح جدو جہد کی شروعات کی تھی۔ علیحدگی پسند تنظیم نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ کا عرصہ سے مطالبہ رہا ہے کہ ’گریٹر ناگالینڈ‘ کے قیام کے لیے آسام، منی پور اور اروناچل پردیش کے تمام ناگا علاقوں کا ناگالینڈ سے الحاق ہونا چاہیے۔ ناگالینڈ کی حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ اس کی ہزاروں کلومیٹر زمین آسام کے حِصّے میں ہے۔ لیکن آسام کا الزام ہے کہ ناگالینڈ نے طاقت کے زور پر اس کے بہت بڑے خطے کو قبضے میں لے لیا ہے اور ایک مقام کوانتظامی امور کا نائب مرکز بھی بنا رکھا ہے جسے وہ نیوالینڈ کہتے ہیں۔ | اسی بارے میں آسام: تشدد، ایف بی آئی کی پیشکش06 October, 2004 | انڈیا ناگالینڈ:علیحدگی پسند رہنما دِلیّ میں 06 December, 2004 | انڈیا ناگا باغیوں سے بات چیت07 December, 2004 | انڈیا ناگالینڈ، آسام تشدد میں67ہلاک03 October, 2004 | انڈیا منی پور میں ہنگامے شروع20 September, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||