انڈیا سے بنگلہ دیش سکّوں کی سمگلنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کولکتہ اور اس کے مضافات میں آجکل سکّوں کی اس قدر قلت ہوگئی ہے کہ یہاں دکانداروں، چھوٹے تاجروں اور بس کندکٹروں وغیرہ کو اضافی دام دے کر فقیروں اور بھکاریوں سے سکّے خریدنے پڑ رہے ہیں۔ سکّوں کی اس شدید کمی کی وجوہات کی تفتیش کرنے والے پولیس افسران کا کہنا ہے کہ ہندوستانی سکے بنگلہ دیش سمگل کیے جا رہے ہیں جہاں یہ ریزر بلیڈ یا پھر لڑکیوں کے چھوٹے موٹے زیورات بنانے کے کام آتے ہیں۔ پچاس پیسہ، ایک روپیہ اور دو روپے کے ہندوستانی سکّے عمدہ سٹیل کے بنے ہوتے ہیں اور یہ مغربی بنگال سے پہلے شمال مشرقی ریاستوں میں لے جائے جاتے ہیں اور پھر وہاں سے براہ راست بنگلہ دیش پہنچائے جاتے ہیں۔ کولکتہ پولیس کا کہنا ہے کہ بنگال میں پہلے سکّوں کو کولکتہ کے آس پاس کے علاقوں میں لے جایا جاتا ہے اور وہاں بھٹوں میں پگھلا کر اس پگھلی ہوئی دھات کو سرحد پار سمگل کردیا جاتا ہے۔
اس بحران پر قابو پانے کے لیے ریزرو بینک آف انڈیا نے ہنگامی اقدام کے طور پر چالیس لاکھ روپے کے سکّے جاری کیے ہیں۔ صرف جون کے پہلے ہفتے میں بینک نے کولکتہ میں قریب ڈیڑھ کروڑ سکّے جاری کیے ہیں۔ سکّوں کے تاجر بلرام ہلدر کا جو کہ ایک روپے کے ایک سو سکّوں کا پیکٹ ایک سو سترہ روپیہ میں فروخت کرتے ہیں کاج کہنا تھا: ’ تین ماہ قبل میں بینک کھلنے سے ایک گھنٹہ پہلے یہاں پہنچ جاتا تھا اور قطار میں پہلا شخص میں ہی ہوتا تھا لیکن اب تو یہ حال ہے کہ مجھے بینک کھلنے سے چھ گھنٹے پہلے یہاں آ کر بیھٹنا پڑتا ہے۔‘ انیس سو چھیانوے اور دو ہزار چھ کے عرصے میں ایک سو چھ روپے مالیت کے سکّے ایک سو گیارہ روپے میں فروخت ہوتے تھے یعنی اس کام میں پانچ روپے کا منافع ہوتا تھا لیکن پچھلے چھ ماہ میں یہ منافع بڑھ کر چھ روپے ہوگیا ہے۔ کسٹو منڈل لوکل ٹرینوں میں بھیک مانگ کر گزارہ کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’چھ ماہ پہلے تک مجھے ایک روپیہ کے اٹھانوے سکّوں کے بدلے صرف ایک سو روپے ملتے تھے لیکن اب مجھے ترانوے سکّوں کے ہی سو روپے مل جاتے ہیں۔‘ منڈل کہتے ہیں کہ سکّوں کی سمگلنگ سے انہیں تو بہت فائدہ ہوا ہے۔
مرکزی وزارت داخلہ نے بنگلہ دیش سرحد سے لگنے والی تمام ریاستوں کو اس مسئلہ کی چھان بین کرنے کے احکامات جاری کے ہیں۔ کولکتہ پولیس کےایک سینیئر اہلکار منوج ورما کہتے ہیں کہ ’پچھلے کچھ مہینوں میں یہ بحران شدید صورت اختیار کر چکا ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ پتہ چلا ہے کہ کولکتہ کے آس پاس کے علاقوں سے بڑے پیمانے پر سکّوں کی سمگلنگ ہو رہی ہے۔ اس کا طریقۂ کار یہ ہے کہ سکّوں کو یا توبڑی بڑی بوریوں میں بھرکر بنگلہ دیش بھیجا جاتا ہے یا پھر ہندوستان میں ہی انہیں پھگلا کر سرحد پار بھیجا جاتاہے۔‘ ایک پولیس افسر نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ چونکہ سکّوں کو ذخیرہ کرنے کے خلاف کوئی قانون نہیں ہے اس لیےگرفتاریوں اور تحقیقات میں بہت دشواریاں آ رہی ہیں۔ بارڈر سیکورٹی فورس کے انسپکٹر جنرل مسٹر سومیش گویل نے بتایا کہ انہیں بھی سکّوں کی سمگلنگ کے بارے میں معلومات ملی ہیں، تاہم یہ کہنا مشکل ہے کہ کس جگہ سے اور کس وجہ سے یہ سکے بنگلہ دیش جا رہے ہیں۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ ایک روپے کے صرف ایک سکّے سے چار ریزر بلیڈ یا پھر کان میں پہننے والے والے زیور کے دو جوڑے بن جاتے ہیں۔ یہ کافی منافع بخش ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||