BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 08 June, 2007, 13:09 GMT 18:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلمی ستارے اورکھیتی باڑی

امیتابھ
امیتابھ اور عامر کے علاوہ کئی اور فلمی ستارے ہیں جنہوں نے کسان بن کر زمین خریدی ہے
بالی وڈ کے شہنشاہ امیتابھ بچن اور سپر سٹار عامر خان کے علاوہ ایسے کئی بڑے فلمی ستارے ہیں جنہوں نے مہاراشٹر کے اضلاع میں زرعی اراضی خریدی ہے۔

فلمی ستاروں کے علاوہ ایسے کئی بڑے تاجر بھی ہیں جو اس فہرست میں شامل ہیں۔ ریاستی وزیرمحصولات نارائن رانے کی جانب سے فلم سٹار عامر خان کی زمین کے بارے میں تحقیقات کا حکم دیے جانے کے بعد اب ضلعی انتظامیہ تمام بڑے پلاٹس کی خرید و فروخت کی تفتیش میں لگ گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق امیتابھ اور عامر کے علاوہ کئی اور فلمی ستارے ہیں جنہوں نے یہاں کسان بن کر زمین خریدی ہے ان میں ایک ممبر پارلیمنٹ اور ایک پرانے دور کے سپر سٹار ہیں۔ ایک کرکٹر کی بیوی کے نام پر بھی زمین خریدی گئی ہے اور اب یہ سب پونے کے کلکٹر کی تفتیش کے دائرے میں ہیں۔

امیتابھ بچن کے زمین خریدنے کے معاملہ کی وجہ سے مہاراشٹر کے دیگر دیہی علاقوں کی زرعی زمینوں کی خرید و فروخت منظر عام پر آئی ہے۔امیتابھ بچن نے سن دو ہزار میں ماول تعلقہ میں بیس ایکڑ زمین یہ کہہ کر خریدی تھی کہ وہ کسان ہیں۔اب جبکہ ان کا یہ معاملہ اترپردیش کی عدالت میں پہنچ گیا ہے فلم سٹار عامر خان کے ذریعہ خریدی گئی زمین پر بھی سوالیہ نشان لگ گيا ہے۔ مسٹر رانے نے ضلعی انتظامیہ کو اس زمین کے کاغذات کی جانچ کا حکم دیا ہے۔

 مہاراشٹر کی اس قانون میں انیس سو چورانے میں سپیشل ٹاؤن شپ سکیم کے تحت ایک ترمیم کی گئی تھی جس کے مطابق زمین خریدنے کے بعد کوئی بھی اس زمین پر کسی طرح کی تعمیر کر سکتا ہے لیکن اسے یہ کام پانچ برس میں پورا کرنا ہو گا ورنہ یہ زمین اس سے واپس لے لی جائے گی۔

انہوں نے صحافیوں سے کہا ’ہر شہری کو زمین خریدنے کا حق حاصل ہے لیکن ساتھ ہی وہ ان شرائط کو بھی پورا کرے جو قانون چاہتا ہے اور اگر حکومت کو کسی ایسے شخص کے بارے میں پتہ چلا جس نے قانون کے ساتھ کھلواڑ کیا ہو تو حکومت ایسے شخص کے خالف سخت قانونی کارروائی کرے گی۔‘

رانے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’فی الحال عامر خان کی زمین کی جانچ کے احکامات دے گئے ہیں لیکن ضلعی انتظامیہ ایسے دیگر بڑے پلاٹس کی خرید و فروخت کی بھی جانچ کر رہا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو ان کی بھی مکمل تفتیش کی جائے گی۔‘

حکومت کی جانب سے اس اعلان کے ساتھ ہی عامر نے ایک اخباری اعلامیہ جاری کیا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ’ان کے آباواجداد کسان تھے۔ ان کے والد اور ان کی بہنوں کے نام اتر پردیش کے شاہ آباد علاقے میں پھلوں کے درخت تھے۔ اور وہ پیدائشی کسان ہیں۔

عامر نے یہ بھی کہا کہ وہ مستقبل میں کھیتی کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔

عامر نے سن دو ہزار پانچ میں ماول تعلقہ کے گاؤں کالے میں تقریباً دس ہزار ایکڑ زمین خریدی ہے۔ عامر کہتے ہیں کہ ’انہوں نے زمین خریدتے وقت تمام کارروائی پوری کی تھی اور ان کے کاغذات صحیح ہیں اور اسی لیے وہ کسی بھی طرح کی جانچ کے لیے تیار ہیں۔‘

مہاراشٹر میں ٹینینسی اینڈ اگری کلچرل لینڈ ایکٹ 1948 کی دفعہ 63 کی رو سے وہی شخص زرعی زمین خرید سکتا ہے جو کاشتکار ہو اور اگر یہ شرط پوری نہ ہو تو اسے کم سے کم کلکٹر سے اجازت لینی ہو گی لیکن وہ بھی اس شرط پر کہ اس شخص کی سالانہ آمدنی بارہ ہزار روپے ہو۔ یعنی ہر طرح حکومت نے یہ سہولت ایک غریب کسان کے لیے مہیا کرائی تھی۔

مہاراشٹر کی اس قانون میں انیس سو چورانے میں سپیشل ٹاؤن شپ سکیم کے تحت ایک ترمیم کی گئی تھی جس کے مطابق زمین خریدنے کے بعد کوئی بھی اس زمین پر کسی طرح کی تعمیر کر سکتا ہے لیکن اسے یہ کام پانچ برس میں پورا کرنا ہو گا ورنہ یہ زمین اس سے واپس لے لی جائے گی۔

اس قانون کے نفاذ کے بعد اکثر فلمی ستارے اور صنعت کار یہاں زمین خرید کر اپنے بنگلہ کی تعمیر کرتے ہیں کیونکہ یہ خوبصورت اور پر سکون جگہ انہیں شہری بھاگ دوڑ کی زندگی سے اچھی لگتی ہے دوسرے مہاراشٹر کے ان علاقوں کی یہ زمینیں کافی سستی ہیں۔

پونے کے تحصیلدار ڈاکٹر سمپت کھلاری کے مطابق ان کے پاس ریکارڈ کمپیوٹر میں ہے لیکن اسے دیکھ کر یہ بتانا مشکل ہے کہ یہ زمین کس کی ہے البتہ انہوں نے یہ بتایا کہ یہاں ایسے کئی اور فلمی ستارے ہیں جن کے نام پر یہاں زمین کافی عرصہ قبل خریدی گئی تھی۔کھلاری کا کہنا ہے کہ انہیں عامر کے ساتھ ہی دیگر تمام ریکارڈ کی جانچ کی ہدایت دی گئی ہے۔

ماول تعلقہ میں زمین خریدنے کی ایک اہم وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہ ممبئی سے کافی قریب ہے اور اس کے علاوہ نیشنل ہائی وے کے پاس ہے۔ زرعی زمین خریدنے کی ایک اور وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ یہاں سے ہونے والی آمدنی پر کوئی انکم ٹیکس یا کوئی اور ٹیکس عائد نہیں ہوتا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد