BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 June, 2007, 08:10 GMT 13:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گجر ہڑتال، دِلی سے آمد و رفت متاثر
گجروں کا احتجاج
ریاست میں جاری تنازعہ میں اب تک کم سے کم پچیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں
راجستھان کی گجر برادری کی حمایت میں دلی اور اس کے مضافات میں آباد گجر برادریوں کی ہڑتال کے سبب قومی دارالحکومت دلی کے داخلی راستوں پر آمد رفت متاثر ہو‎ئی ہے۔

دلی کے نواحی شہروں میں بھی معمول کی زندگی متاثر ہوئی ہے۔ تاہم دِلّی شہر میں ہڑتال کا کوئی اثر نہیں ہے۔ اس دوران جے پور میں گجر رہنماؤں اور وزیر اعلیٰ وسوندھرا راجے سندھیا کے درمیان بات چیت شروع ہو گئی ہے۔ گجر ملازمتوں اور دیگر معاملات میں اسی طرح کی سہولیات کا مطالبہ کر رہے ہیں جو دلتوں کے لیے مخصوص ہیں۔

دلی کے مضافاتی شہروں گڑگاؤں، فریدآباد ، غازی آباد، نوئیڈا اور گریٹر نوئیڈا سے گزرنے والی تمام سڑکوں اور شاہراہوں کو گجر برادری کے احتجاجی مظاہرین اور مشتعل ہجوم نے جام کر رکھا ہے اور اس طرح دلی سے ہریانہ اور اترپردیش کے درمیان ٹریفک کا نظام درہم برہم ہے۔

احجاج میں شامل ایک نوجوان گجر
دِلّی میں کسی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے نیم فوج دستے اور اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے ۔ اطلاعات ہیں کہ بعض مقامات پرپولیس نے حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے لاٹھی چارج کیا ہے۔

دوسری جانب گجر سنگھرش سمیتی کے رہنما کرنل کروڑی سنگھ بینسالا ریاست میں امن کی بحالی اور اپنی برادری کی ’فہرست قبائل‘ میں شمولیت کے سلسلے میں مذاکرات کے لیے راجستھان کے دارلحکومت جے پور پہنچ چکے ہیں اور وزیر اعلیٰ سے بات چیت شروع کر دی ہے۔ حکومت اور گجر برادری کے مابین بات چیت کے پہلے چار دور بے نتیجہ رہے ہیں۔

راجستھان میں حکمران جماعت بھاریتہ جنتا پارٹی کے قومی عہدے داروں کی ایک میٹنگ دلی ميں ہورہی ہے جس میں ریاست میں گزشتہ سات روز سے جاری کشید گی اور تنازعہ کے تمام پہلوؤں پر غور کیا جائےگا۔

ریاست میں حالات بدستور کشیدہ ہیں اور حکومت نے ریاست کے چودہ اضلاع میں نیشنل سکیورٹی ایکٹ نافذ کر دیا ہے جس کے تحت ضلعی انتظامیہ کو حالات پر قابو پانے کے لیے خصوصی اختیارت حاصل ہوتے ہیں۔
گزشتہ سات روز سے ریاست میں جاری تنازعہ کے دوران تشدد کے مختلف واقعات میں پچیس سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔تاہم گزشتہ دو روز سے کسی ہلاکت کی کوئی خبر نہیں ہے۔

پسماندہ طبقہ کی گجر برادری درج ’فہرست قبائل‘ میں اپنی شمولیت چاہتی ہے تاکہ اسے ریزرویشن کا فائدہ مل سکے۔ لیکن اس فہرست میں شامل مینا برادری اس کی سخت مخالف ہے۔ مینا برادری کے افراد گجر برادری کو حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے اور اس سے نمٹنے میں ناکام رہنے پر وزیراعلیٰ وسوندھرا رجے سندھیا پر سخت نکتہ چینی ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد