BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
راجستھان میں کشیدگی برقرار
فائل فوٹو
ریاست میں جاری تنازعہ میں اب تک پچیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں
ہندوستان کی ریاست راجستھان میں گُجر برادری اور حکومت کے درمیان اتوار کو ہونے والی بات جیت تعطل کا شکار ہوگئی ہے۔

ریاست میں گجر اور مینا برادریاں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں جس کی وجہ سے ریاست میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔

پسماندہ طبقہ میں شامل گجر برادری درج ’فہرستِ قبائل‘ میں شمولیت کے مطالبے کے لیے تحریک چلا رہی ہے اور سنیچر کو گجر رہنما وزیراعلیٰ سے مذاکرات کے اگلے دور کے لیے تیار تھے لیکن اتوار کو انہوں نے بات چیت سے الگ ہوجانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل حکومت اور گجر برادری کے رہنماؤں کے درمیان چار دور کی بات چیت بلا نتیجہ ختم ہوگئی ہے۔

اطلاعات ہیں کہ ریاست ہریانہ میں آباد گجر برادریوں کی جانب سے راشن سے بھرا ایک ٹریک گجر تحریک کے محور دوسا ضلع جا رہا تھا تو مینا برادری کے مشتعل ہجوم نے اس ٹرک کو نذر آتش کر دیا جس کے بعد ناراض گجر برادری نے بات چیت سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب گجر برادری نے گزشتہ منگل کی پولیس فائرنگ میں دوسا ضلع میں ہلاک چھ لاشوں کی آخری رسومات ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل گجر رہنماؤں کی ضد تھی کہ جب تک حکومت ان کے مطالبہ کو تسلیم نہیں کرلیتی ہے اس وقت تک ان لاشوں کی آخری رسومات ادا نہیں کی جائے گی۔

ریاست میں دوسا، سوائی، مادھوپور اور کرولی اضلاع میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں

ریاست میں دوسا، سوائی، مادھوپور اور کرولی اضلاع میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں جبکہ حکومت نے ریاست کے گیارہ اضلاع میں نیشنل سکیورٹی ایکٹ نافذ کر دیا ہے جس کے تحت ضلعی انتظامیہ کو حالات پر قابو پانے کے لیے مخصوص اختیارت حاصل ہوتے ہیں۔

گزشتہ چھ روز سے ریاست میں جاری تنازعہ کے دوران تشدد کے مختلف واقعات میں پچیس سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سنیچر کو وزیراعظم منموہن سنگھ نے تشدد کے واقعات پر گہری تشویش ظاہر کی تھی اورسب ہی برادریوں سے پر امن رہنے کی اپیل کی تھی۔

احتجاجی مظاہرے اب راجستھان اور ہریانہ سے پھیلتے ہوئے اترپردیش تک پہنچ چکے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ گجر برادری نے اتوار کودلی کے جنتر منتر پر بھی مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پسماندہ طبقہ کی گجر برادری درج ’فہرست قبائل‘ میں اپنی شمولیت چاہتی ہے تاکہ اسے ریزرویشن کا فائدہ مل سکے۔ لیکن اس فہرست میں شامل مینا برادری اس کی سخت مخالف ہے۔ مینا برادری کے افراد گجر برادری کو حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے اور اس سے نمٹنے میں ناکام رہنے پر وزیراعلیٰ وسوندھرا رجے سندھیا پر سخت نکتہ چینی ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد