بھارت کی نئی پھولن دیوی سیما پریہار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں اب ایک اور عورت نے جرم کی دنیا سے نکل کرفلم اور پھر سیاست کی دنیا میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سیما پریہار ایک زمانے میں شمالی بھارت کی خونخوار ڈاکو تصور کی جاتی تھیں لیکن اب وہ ملک کی پارلیمان میں نمائندگی چاہتی ہیں۔ سیما جن پر قتل اور اغوا 29 مقدمات ہیں ملک کے ایوان زیریں کے لیے منتخب ہوکر اتر پردیش میں اپنے ضلع کی نمائندگی کرنے کی امید کر رہی ہیں۔ سیما پریہار کا کہنا ہے کہ جرم کی دنیا چھوڑ کر سیاست کا چولا پہننے کی ان پاس پھولن دیوی جیسی مثال موجود ہے۔ پھولن دیوی سالوں تک ہندوستان کے دور دراز علاقوں میں مبینہ طور پراعلٰی ذات کے ہندو زمینداروں کو قتل اور لوٹ مار کرتی رہیں ان کا کہنا تھا کہ ان زمینداروں نے غریب اور بے زمین کسانوں کا بہت استحصال کیا ہے۔ پھولن دیوی 1996 میں رکن پارلیمان بنی تھیں اور 2001 میں ایک اعلٰی ذات کے ہندو نے انہیں قتل کردیا تھا اس وقت بھی وہ رکن پارلیمان تھیں۔ سیما پریہار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ میں پھولن دیوی کی روایات کو آگے بڑھانا چاہتی ہوں‘ ۔ بھارتی قانون کے مطابق سیما الیکشن لڑ سکتی ہیں کیونکہ ملک کا قانوں ملزم کو انتخابات میں حصہ لینے سے نہیں روکتا جب تک کے عدالت اسے سزا نہ سنا دے۔ جب نامہ نگاروں نے سیما کو ان کے تاریک ماضی کی یاد دلائی تو ان کے پاس بھی جواب موجود تھا سیما کا کہنا تھا ’اس میں میرا کیا قصور ہے جب میں بہت چھوٹی تھی تو ایک جرائم پیشہ گروہ نےمجھے اغوا کر لیا اپنے بچپن سے ہی میں تشدد دیکھتی آئی ہوں‘۔
انہوں نے بتایا کہ وہ 15 سال کی عمر سے بندوق چلانا جانتی ہیں اور 18 سال تک ڈاکوؤں کی قید میں رہیں۔2000 میں انہوں نے خود کو قانون کے حوالے کیا اور جیل چلی گئیں، بعد میں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ جس کے بعد انہوں نے ایک فلم ’وونڈٹ‘ میں اہم کردار ادا کیا لیکن پھولن دیوی کی زندگی پر بنی فلم ’بینڈٹ کوئین‘ کے برعکس اس فلم کو زیادہ کامیابی نہیں ملی۔ حال ہی میں ایک ریلی میں سیما نے اعلان کیا ہے کہ تشدد سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ’ہم سب کے لیے امن اور انصاف چاہتے ہیں آپ مجھے ووٹ دیں‘۔ سیما پریہار بھدوئی پارلیمنٹ نشست سے انڈین جسٹس پارٹی کی امیدوار ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ شاید سیما کا سیاسی کیریئر بھی ان کی فلم کی طرح ناکام رہے کیونکہ ان کی پارٹی مقبول نہیں ہے اور نہ ہی اس پارٹی سے کوئی اہم یا بڑا رہنما وابستہ ہے۔ سیما کا کہنا ہے کہ ’ہوا ان کے حق میں چل رہی ہے لیکن نتیجہ اوپر والے کے ہاتھ میں ہے‘۔ | اسی بارے میں بھارتی ڈاکوؤں کے انوکھے مقابل 27 August, 2005 | انڈیا ویرا پن کے عقیدت مند03 November, 2004 | انڈیا پھولن دیوی کی یاد اور اثر ابھی زندہ ہے 28 April, 2004 | انڈیا پھولن دیوی قتل کا مفرورملزم گرفتار 25 April, 2006 | انڈیا ویراپن کے ’خزانے کی تلاش‘ 22 October, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||