ویراپن کے ’خزانے کی تلاش‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی جنوبی ریاستوں تامل ناڈو اور کرناٹک میں پولیس نے مقامی باشندوں سے کہا ہے کہ وہ ویراپن کے ’خزانے‘ کی تلاش میں جنگلوں میں نہ جائیں۔ بدنام ڈاکو ویراپن چند روز قبل پولیس کے ایک ’مقابلے‘ میں مارے گئے تھے۔ مقامی لوگ ایسا سمجھتے ہیں کہ ویراپن نے کروڑوں روپے پاس کے جنگلوں میں چھپا رکھے ہیں۔ حکومتی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ویراپن کی تدفین کے فوری بعد مقامی جنگلوں کے پاس رہنے والے باشندے اس کے ’خزانے‘ کی تلاش میں نکل پڑے۔ ریاست کرناٹک کی پولیس کے سربراہ ایس این بورکر نے لوگوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ جنگلوں میں نہ جائیں۔ انہوں نے کہا: ’ہم حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور لوگوں کو کچھ ملا تو اسے حکومت لے لے گی۔‘ خیال کیا جاتا ہے کہ ویراپن نے صندل کی غیرقانونی فروخت اور تاوان کے ذریعے حاصل ہونے والا رقم جنگل میں خفیہ مقامات پر سوراخوں میں چھپا رکھا تھا۔
سن دو ہزار میں ویراپن نے معروف اداکار راج کمار کا اغوا کیا تھا اور خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی رہائی تین سو ملین روپے کے عوض ہوئی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ چھ ہزار کلومیٹر کے رقبے میں پھیلے ہوئے جنگل میں کسی خزانے کی تلاش مشکل ہے۔ دریں اثناء ویراپن کی بیوہ متھولکشمی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پولیس نے بینک میں اس کا کھاتا منجمد کردیا ہے۔ ویراپن کی موت کے باوجود کئی لوگ ابھی بھی خوفزدہ ہیں۔ ریٹائرڈ پولیس اہلکار عبدالکریم نے، جو ویراپن کے دوستوں کو تاوان کے طور پر جیلوں سے رہائی کے خلاف رہے ہیں، حکومت سے تحفظ کی اپیل کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||