BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 October, 2004, 14:13 GMT 19:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ویر اپن کی موت متنازعہ
ویر اپن
بہت سے لوگ خوش ہوں گے کہ وہ عدالت میں پیش نہیں ہوا
بھارت کے سب سے مشہور ملزم ویر اپن کی موت ابھی سے متنازعہ ہو گئی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا کہ پولیس کواسے ہلاک نہیں کرنا چاہیے تھا۔ بلکہ اسے زندہ پکڑ کر اس پر ایک سو سے زیادہ قتل کا جواب طلب کیا جاتا۔

اس تنازعہ میں سیکیورٹی حکام پر گزشتہ بیس سال کے دوران ویر اپن کے بارے میں پالیسی پر ہونے والے تنقید کی جھلک ملتی ہے۔

ویر اپن کو پکڑنے کا کام بالآخر پڑوسی ریاستوں تامل ناڈو اور کرناٹک کی حکومتوں کے ذمہ لگا۔

ماضی میں پولیس کے اعلیٰ حکام تسلیم کرتے رہے ہیں کہ دونوں ریاستوں کی پولیس کے درمیان اختلافات کی وجہ سے ویر اپن کو نہیں پکڑا جا سکا۔

تامل ناڈو کی سپیشل ٹاسک فورس سے مقامی لوگوں کی ناراضگی بھی ویر اپن کی نقل و حرکت کے بارے میں معلومات کے حصول میں آڑے آتی رہی۔

اس کے مقابلے میں ویر اپن مقامی لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے میں زیادہ کامیاب رہا۔

وہ دیہاتیوں میں لوٹ کا مال بھی تقسیم کرتا تھا۔ اسی وجہ سے اسے ’رابن ہڈ‘ بھی کہا جاتا تھا۔ اور ساتھ ہی اس کی دہشت نے لوگوں کو اس کے خلاف کسی اقدام سے روکے رکھا۔

کوئی یقین سے نہیں کہ سکتا کہ اس کا گروہ کتنا بڑا تھا۔ صحافیوں اور چند دیگر افراد کے مطابق جو اس سے مل چکے ہیں وہ ہمیشہ چار یا پانچ افراد کے ساتھ نظر آتا تھا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حکام یہ تاثر دیتے رہے ہیں کہ ویر اپن کا گروہ بہت بڑا تھا۔

نامہ نگار کے مطابق پولیس جنگل میں بہت بڑی کارروائی کرنے کی اجازت چاہتی تھی مگر اس میں بے گناہ جنگل میں قبائیلیوں کی ہلاکت اور حراست کا خدشہ تھا۔

ویر اپن کی موت جنگل کے باسیوں کے لیے جہاں وہ چھپتا اور کارروائی کرتا تھا نعمت بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے خوف کا دور ختم ہوگیا اور اب پولیس بھی اس کی تلاش میں جنگل میں کارروائی کے لیے نہیں آئے گی۔

دوسری طرف غریب اس کی دریا دلی کو یاد کریں گے۔

لوگ یہ بھی دیکھیں گے کہ ویر اپن کا اثر ختم کرنے کے لیے جو ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے تھے وہ جاری رہیں گے یا نہیں۔

اس کی موت سے بہت سے سیاستدان اور حکام بھی دل ہی دل میں خوش ہوں گے۔ جرائم کی دنیا میں ویر اپن کو سیاستدانوں، پولیس اور اقتدار کے قریب رہنے والوں کی حمایت حاصل رہی تھی اور اگر اسے عدالت میں پیش کیا گیا تو وہ ان لوگوں کے نام بتا دے گا جنہیں وہ رشوتیں دیتا رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد