BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 October, 2004, 00:09 GMT 05:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بدنام زمانہ’رابن ہڈ‘
-
حکومت ویراپن کو پکڑنے میں اب تک گیارہ کروڑ روپئے خرچ کر چکی ہے۔
بھارت کے بدنام زمانہ ڈاکو ویراپن قتل کے 120 واقعات میں پولیس کو مطلوب تھے۔ لمبے چہرے اور گھنی مونچھوں والا یہ شخص سب سے ظالم اور خطرناک انسان تصور کیا جاتا ہے۔

ویراپن نے ہاتھی دانت بیچنے کے کاروبار کے ساتھ جرائم کی دنیا میں قدم رکھا کہا جاتا ہے کہ ویراپن نے چودہ سال کی عمر میں پہلا ہاتھی مارا تھا۔

لوگوں کا خیال ہے کہ اس کے بعد سے انہوں نے تقریباً دو ہزار ہاتھی مارے ہیں۔

ہاتھی دانت سے ویراپن صندل کی لکڑی کی اسمگلنگ میں آئے اور اس کے بعد اس کے بعد قتل اور اغوا کا سلسلہ شروع ہوا۔

ویراپن پر کروڑوں روپئے کے ہاتھی دانت اور صندل کی لکڑی کی اسمگلنگ کا الزام ہے۔

ویراپن جنوبی کرناٹک اور تمل ناڈو کے جنگلوں میں سرگرم تھے۔ لیکن کبھی کبھی وہ کیرالہ کے جنگلوں تک بھی پہنچ جاتے تھے۔

ویراپن کا گھر بار بھی انہیں گھنے جنگلوں میں تھا۔ ویر اپن کی حمایت کرنے والے ویراپن کا موازنہ رابن ہڈ سے کرتے ہیں۔

ویراپن کو پکڑنے میں اس لیے بھی دشواری آتی تھی کیونکہ ان کے مخبروں کا جال بہت مضبوط تھا اور وہ ہر وقت حفاظتی دستوں سے ایک قدم آگے رہتے تھے۔

ویراپن کا علاقے میں اتنا خوف تھا کہ لوگ خوف سے زبان نہیں کھولتے تھے اور یہی حفاظتی دستوں کی سب سے بڑی پریشانی تھی۔

ویراپن کے گروہ کے لوگ معمولی سا شک ہونے پر کسی کو بھی قتل کر دیتے تھے۔

1990 میں تین ریاستوں نے ملکر ویراپن کے خلاف ایک کارروائی شروع کی تھی جس میں 15000 سپاہیوں کو لگایا گیا تھا۔

 کننڑ فلم اداکار راجکمار ویراپن کی قید میں
راجکمار کو بعد میں رہا کر دیا گیا تھا

تین ریاستوں کی اس مشترکہ کارروائی کے دباؤ میں آکر ویر اپن نے خود کو حکام کے حوالے کرنے کی پیشکش کی تھی جس کے عوض میں انہوں نے اپنے خلاف تمام کیس ختم کرنے کے ساتھ ایک بڑی رقم اور ہتھیار ساتھ رکھنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ویراپن کے یہ مطالبات مسترد کر دئے گئے اور اس کے جواب میں انہوں نے محکمہء جنگلات کے نو لوگوں کو اغوا کر لیا تھا۔

ویراپن کوصرف ایک بار 1986میں گرفتار کیا جا سکا تھا۔جس کے بعد ویراپن چار پولیس والوں کا قتل کر کے فرار ہو گئے تھے۔

دو سال پہلے ویراپن نے جنوبی ہندوستان کے مشہور اداکار راجکمار کو اغوا کرکے سنسنی پھیلا دی تھی۔لیکن تین مہینے بعد ان کو رہا کر دیا تھا۔

حکومت ویراپن کو پکڑنے میں اب تک گیارہ کروڑ روپئے خرچ کر چکی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد