BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 November, 2004, 13:28 GMT 18:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ویرا پن کے عقیدت مند
ویراپن
راجا کو ویراپن جیسی مونچھوں پر فخر ہے
بھارتی پولیس کے ہاتھوں مارے جانے کے دو ہفتے بعد بھی ڈاکو ویرا پن کا جاود سر چڑھ کر بول رہا ہے۔
وہ لوگ جنہوں نے زندگی میں کبھی اس شخص سے ملاقات کے بارے میں خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا اس کی قبر پر پھول چڑھانے آتے ہیں۔

ویراپن کرناٹک اور تامل ناڈو کی سرحد پر گھنے جنگلات میں پولیس کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔

News image
لوگ ویراپن کی قبر پرپھول چڑھانے آتے ہیں

ویرا پن کے حامی اس کی سمادھی بنانے کا خیال رکھتے ہیں۔

ایک غمزدہ کسان کے مطابق’وہ غریب تاملوں کا ہیرو تھا‘

مولاک دادو نامی گاؤں میں واقع ویراپن کی قبر پر غمزدہ مناظر عام دیکھنے میں آتے ہیں۔ یہ گاؤں اس قصبے سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جہاں ویراپن کی بیوہ مٹھل لکشمی رہتی ہے۔

نچلی ذات کے ہندوؤں میں ویرا پن کے لیے بہت ہمدردی پائی جاتی ہے۔

کچھ عقیدت مند قبر پر پھول چڑھانے کے علاوہ اگربتیاں بھی جلاتے ہیں۔

خواتین اپنے بچوں کے ہمراہ قبر پر آتی ہیں۔

ویراپن کی قبر پر جو عام خیال سننے کو ملتا ہے وہ یہ ہے کہ ویراپن ایک اچھا آدمی تھا جو پولیس گردی کا شکار بنا۔

اگرچہ زیادہ تر لوگ قبر پر اپنے غم اور عقیدت کا اظہار کرنے آتے ہیں لیکن ویراپن کی قبر پر آنے والے تمام لوگ اس کے عقیدت مند نہیں۔

راجندرن نامی ایک طالبعلم نے بتایا’میں یہاں صرف تجسس کی بنا پر آیا تھا لیکن یہاں کا منظر ناقابلِ یقین ہے۔‘

ڈیوٹی پر موجود ایک سپاہی نے کہا کہ ’ لوگ بڑی تعداد میں آ رہے ہیں۔کچھ بعید نہیں کہ یہاں پر کوئی سمادھی بنا دی جائے‘۔

مقامی لوگوں کے خیال میں ویراپن کی بیوہ مٹھل لکشمی اس کی میراث کو زندہ رکھے گی۔

مٹھل لکشمی نے کہا کہ ’ پولیس کچھ بھی کہے لیکن ویراپن کو عوام کی حمایت حاصل تھی‘۔

اداکار راجکمار کو اغوا کرنے والے ویراپن کو تاملوں کے حمایتی کے طور پر جانا جاتا ہے۔

راجکمار کو رہا کرنے کے لیے دی گئی شرائط میں سے ایک 1991 کے فسادات سے متاٰٰثرہ تاملوں کی بحالی بھی تھی۔

تامل لیڈر کولاتھرمانی کا کہنا تھا کہ موت کے بعد ویراپن کےلیے ہمدردی میں اضافہ ہوا ہے۔

کولاتھرمانی جنہوں نے اداکار راجکمار کی رہائی میں اہم کردار ادا کیا تھا سمجھتے ہیں کہ ویراپن کو غریبوں سے واقعتاً ہمدردی تھی۔

مانی نے کہا کہ اگر حکومت نے جنگلات میں رہنے والے قبائلیوں اور گاؤں والوں کی بہتری کے لیے بروقت اقدامات نہیں کیے تو ویراپن کےلیے ہمدردی میں اضافہ ہوتا رہےگا۔

’اگر لوگوں کو انصاف نہ ملا تو مزید ویراپن پیدا ہوتے رہیں گے‘

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد